”بخشش“

اسرار بخاری ۔۔۔
جن کے نزدیک پیسہ اخلاقیات سے زیادہ اہم ہے حصولِ زر کی طمع جن کی تحریر و بیان کے زاوئیے تبدیل کرتی ہے جنہیں نظریات سے زیادہ ذاتی مفادات عزیز ہوتے ہیں جن کی سوچ کے دھارے اس تلاش میں رہتے ہیں کہ کہاں سے کیا مل سکتا ہے۔ دانشوری کی سنگھاسن پر چڑھ جانے والے یہ لوگ اگر پینترے بدلتے نظر آئیں ایک لمحے ممدوح دوسرے لمحے معتوب قرار پائے ایک پل خوشامد کا حق دار دوسرے پل دشنام کا سزاوار ٹھہرے تو یہ دراصل فنکاری تو ہے مگر ساتھ ساتھ اپنے اصل کردار اور ذہنیت کا پردہ چاک کرنا بھی ہے کسی کی حمایت اور مخالفت جمہوری حق ہے تاہم جمہوری روح کا تقاضا یہ ہے کہ حمایت اور مخالفت میں توازن رہے۔ انگریز کی برصغیر پر حکمرانی کے دوران طرز عمل کا ادراک رکھنے والے جانتے ہیں کہ انگریز نے ہندوستانیوں (بشمول پاکستان) کی عزتِ نفس کو مجروح کرنے اور احساس کمتری میں مبتلا کرنے کے لئے ”بخشش“ کا طریقہ اختیار کیا تھا۔ کسی سے کوئی چیز لی باقی پیسے ”بخشش“ کر دئیے۔ گورے صاحب کے گھوڑے نے کسی کو لات مار دی تو معذرت کی بجائے فوراً اسے دس بیس روپے ”بخشش“ کر دئیے وہ لات کی تکلیف بھول کر شکرگزاری کا اسیر ہو گیا ایسے بہت سے قصے بڑے بوڑھوں سے سننے اور قصے کہانیوں میں موجود ہیں جنہیں ”صاحب لوگوں“ کی دریا دلی اور ہمدردی کے احساس کا نام دیا گیا ہے ہمارے حکمرانوں کا طرز عمل بھی ان صاحب لوگوں کی نقالی ہی ہے اگر صدر آصف علی زرداری نے رکشے میں جنم لینے والے بچے کو پانچ لاکھ روپے کی ”بخشش“ بھجوا دی ہے تو حاشیہ برداروں کے نزدیک یہ قدم انسانیت کے ماتھے پر جگمگاتا جھومر بن گیا ہے اگر آصف زرداری نے قومی خزانے سے پانچ لاکھ روپے بھجواتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ انہیں اچھی طرح علم ہے کہ واقع کیا ہوا اور کیوں ہوا ہے اس بچے کے والدین کے منہ پر پانچ لاکھ کی پٹی باندھنے کی بجائے صدر آصف زرداری انسانیت نواز ہونے کا ثبوت دیتے اور اعلان کرتے آج کے بعد ان کے لئے سڑکیں بند نہیں کی جائیں گی میرے آقا و مولیٰ کی حدیث مبارکہ میں راستے بند کرنے پر سخت وعید کی گئی ہے۔ چاروں گورنر ہاﺅسوں میں ہیلی کاپٹر اتر سکتے ہیں سڑک کی بجائے ہیلی کاپٹر کو آمد و رفت کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے۔ اس عاجز نے پیپلز پارٹی کے چیئرمین کو اپنی آنکھوں سے مال روڈ پر کار سے آدھا باہر نکل کر لوگوں کی جانب ہاتھ ہلاتے دیکھا ہے اسی پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین کی ترجیح ”بنکرز“ ہیں بلندی اور پستی کی کہانیاں تاریخ کا حصہ ہیں اور یہ تاریخ کا عمل جاری رہے گا۔ اسی طرح خوشامد اور کاسہ لیسی بھی تاریخ کا حصہ ہے اور تاریخ کا یہ عمل بھی جاری رہے گا۔ سمجھداروں کے لئے اتنا کافی ہے۔