”امن کی آشا‘ کھیل تماشا“

نواز خان میرانی..............
سب سے پہلے تو یہ جاننا ضروری ہے کہ ”امن کی آشا“ کس امید کا نام ہے جس کی کوئی تشخیص ہی نہیں کر سکا۔ ساٹھ سال کی بانجھ سرزمین پر کانگرس سے صلح‘ صفائی‘ مفاہمت‘ مذاکرات اور امن کی کوشش تو ہمارے سب کے باوا اور قائدوں کے قائد‘ قائداعظم کر چکے تھے اور جب کسی قسم کی خوشخبری کے آثار تک ”پیدا‘ ہونے کی امید ہی نہ رہی تو انہوں نے ایک نہیں تین دفعہ علیحدگی کے بول بول کر الگ گھر بسا لیا۔
امن کی پرانی آشا لیکر دونوں ممالک کے دو اخبار میدان جنگ و جدال کی بجائے یکطرفہ محبت کی طرح تجارت اور ثقافت کو بنیاد بنا کر بنیادی مسائل پس پشت ڈال کر اور کشمیر اور پانی کے مسئلوں پہ پانی کی بجائے دریاﺅں میں مٹی ڈلوانے کے باوجود بھی خم ٹھونک کر انتہا پسندوں کے سامنے نیک نیتی کے ساتھ آئے ہیں۔ اس سے قبل بھی ایک کوشش کی گئی تھی۔ جس کے نتیجے میں دلیر مہدی کو ہماری مدیحہ شاہ نے امن کی آشا والوں کے سامنے بغلگیر ہو کر ”جن جپھے“ میں تبدیل کر دیا تھا اور اس کی انتہا ہماری دوسری ”میرا“ نے مہیش بھٹ کی فلم میں بوس و کنار کے مناظر فلمبند کرا کے امیدوں پہ پانی پھیر دیا تھا۔ محمد علی نے بھی ایسی ہی امن و الفت کی داستان رقم کرنیکی کوشش میں اپنی نیک نامی اور وقار کو بے کار کرا لیا تھا۔ ہمارے یوسف خان اپنا نام تک تبدیل کرا کے ”دلیپ کمار“ بن بیٹھے اور ہماری دوسری اداکارہ ”آشا پوسلے“ بنکر بھی توتلے منہ کے ساتھ انکی مکاری عیاری کی داستانیں سنا کر کسمپرسی کی حالت میں اپنی آس پہ اوس ڈلوا کر دنیا ہی سے سدھار گئی۔
ہماری سرائیکی یعنی جنوبی پنجاب کی ضرب المثل‘ کہاوت ہے
”کاں‘ کرِاڑ‘ کتے دی‘ پت نہ رکھیں سُتے دی“
یعنی کوے‘ ہندو اور کتے پہ کبھی اس بات پہ دھوکہ نہیں کھانا چاہئے کہ وہ سویا ہوا ہے اور مجھے کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ ان باسٹھ سالوں میں اندرا گاندھی نے اپنی ثقافتی یلغار کر کے اور ہمیں مادر پدر آزاد معاشرے میں تبدیل کرانے کے بعد کہا تھا کہ ہم نے نظریہ پاکستان کو اپنی ثقافتی یلغار کے بعد خلیج میں ڈبو دیا ہے۔ اس کے بعد مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنانے اور نیازی کے دشمن کے آگے جوتا کھا کر اور ہتھیار اس دشمن کے قدموں میں ڈال کر اپنا اور اپنی قوم کا ناک اور نام ہی ڈبو دیا تھا۔ اب تو ہمارے پاس امن کی آشا کرنا اور اس کے خلاف دلائل دینا‘ یہ جذباتی باتیں ہیں۔ یہ مکمل اور تاریخی حقائق پہ مبنی ایک مستند آپ بیتی کی ایک شکل ہے۔ حال ہی میں ہماری کرکٹ ٹیم کی بے عزتی جو بھارت کے ہاتھوں ہوئی۔ شاہ رخ خان کی امن کی وہ آشا کہاں گئی۔ جس کو بال ٹھاکرے کی تنظیم نے جو (را) کا پیدا کردہ ایک شخص ہے۔ جس کی مکمل پشت پناہی بھارت کی حکومت کرتی ہے۔ اس کی ایک دھمکی نے شاہ رخ کو اپنا رخ بدلنے اور مشرف کی طرح یوٹرن لینے پر آمادہ کر دیا اور وہ معافیاں مانگتا نظر آنے لگا۔ دلیپ کمار کی بے توقیری اور اس کے ساتھ سلوک ہمارے فن کاروں کی آنکھیں کھولنے کیلئے کیا کافی نہیں ہے۔ صرف ہمارے گانے والوں کی پذیرائی ہوتی ہے اور وہ بھی اس لئے کہ ان کی وجہ سے ان کی فلمیں چلتی ہیں اور سرمایہ کار منافع کماتے ہیں۔ امن کی آشا والے اور اپنے ملک میں بھارتی ثقافتی یلغار سے مرعوب ہو کر‘ محض پیسہ کمانے کی خاطر قوم کے نونہالوں کو رات دن بھارت کے ننگے ناچ‘ گانے دکھانے والے‘ آشا کی ابتدا اس طرح سے نہیں کر سکتے کہ بھارت میں ہماری نشریات کو پہلے بحال کرائیں کیونکہ ہندوستان نے زبردستی پاکستان کی ہر قسم کی نشریات اور چینلز پر پابندی عائد کر رکھی ہے جبکہ ہمارے چینلز والے اگر بھارتی اداکار یا اداکاراﺅں کو چھینک آئے یا بخار ہو جائے تو اپنی قومی نشریات میں خبرنامے میں اس کی بھرپور کوریج کرتے اور صبح سے رات گئے تک دکھاتے رہتے ہیں جبکہ ہندوستان والے را کے بھیجے ہوئے خود کش حملہ آوروں کے مظالم سے بے خبر رہتے ہیں اور کیا مشرف اور واجپائی‘ مذاکرات کے دوران جس کا آگرہ میں بڑا چرچہ ہوا تھا کیا وہ ڈپٹی سیکرٹری کی سطح کے افسر تھے کہ جن کے مذاکرات کامیاب نہ ہو سکے اور مشرف نے بہانا بنایا کہ عین وقت پہ اسٹیبلشمنٹ کے لوگوں نے دستخط نہیں ہونے دیے۔ دراصل وہ ناکام مذاکرات تھے۔
یہی بال ٹھاکرے ہی تھا جس نے ببانگ دہل یہ اعلان کیا تھا کہ مسلمان ہمیں طعنہ دیتے ہیں کہ خود کش صرف مسلمان ہی ہو سکتے ہیں یہ بہادری کہ انسان اپنی جان قربان کر دے۔ ہندو سوچ بھی نہیں سکتے ہیں ان کو بتانا چاہتا ہوں کہ اب ہم نے بھی اپنے بہادروں کا خود کش سکواڈ تیار کر لیا ہے اور جلد ہی وہ اپنے کارنامے دکھائے گا۔ کیا اس قسم کی محبت و پیار پہ بال ٹھاکرے کو کوئی اعتراض نہیں؟ اگر کوئی اعتراض نہیں تو سمجھیں یہ یک طرفہ محبت ہے۔
اجمل قصاب کا خود ساختہ عذاب ابھی ٹلا نہیں۔ اس کے بعد ہندوستان میں تو مکمل امن و سکون رہا لیکن پاکستان میں کراچی سے کوئٹہ تک اور سرحد سے سندھ سوات‘ مالاکنڈ‘ دیر غرضیکہ پورے پاکستان کو خون میں نہلا دیا گیا جبکہ حقیقی طالبان کو ان حملوں کو حرام قرار دیتے ہیں تو پھر یہ کون لوگ ہیں اور کون ان کی پشت پناہی کرتا ہے؟ ہماری دانست میں بھارت میں دیا گیا‘ امریکی سینٹ کی خارجہ امور سے متعلق کمیٹی کے سربراہ سنیٹر جان کیری کا یہ بیان کہ امریکہ پاکستان اور بھارت کے درمیان مذاکرات کو کلیدی حیثیت کا درجہ دیتا ہے اور اسکے علاوہ امریکہ نے اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ وہ بھارت اور پاکستان کے درمیان پانی کی تقسیم کے تنازعات کو حل کرانے کیلئے دونوں ممالک کے ساتھ بات چیت کر رہا ہے اور یہ بیان صبح شام پاکستان میں آئے ہوئے رچرڈ ہالبروک کا ہے۔
امریکہ کی یہ باتیں تو خوش آئند ہیں مگر امریکہ بھی تو وہی ہے جس کا پاکستان کی مدد کیلئے اور پاکستان کو دو لخت ہونے سے بچانے کیلئے بحری بیڑہ کبھی نہیں آیا۔ بیان فوراً آ جاتا ہے۔
جاری ہے