کیا عافیہ صدیقی کیلئے بھی کوئی محمد بن قاسم آئے گا؟

سید روح الامین ۔۔۔
ہمارے حکمرانوں کی بے بسی کا تو عالم یہ ہے کہ ان سے کئے گئے اکثر سوالات کے جوابات یہ ہوتے ہیں ’ ہم چاہتے ہیں کہ 1973ءکا آئین مکمل بحال ہو، ہم چاہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے این آر او کے فیصلے پر عمل ہو‘ ہم چاہتے ہیں کہ عدلیہ آزاد ہو اور قانون کی حکمرانی ہو، جب ان سے عالم اسلام کی بیٹی عافیہ صدیقی کے بارے میں پوچھا جائے تو یہی رٹا ہوا جواب ملتا ہے ہم چاہتے ہیں کہ عافیہ صدیقی کو واپس لایا جائے ہم ’ضرور‘ ان سے بات کریں گے؟ بیٹی کا صدمہ تو اہل اولاد ہی جانتے ہیں۔ والدین کے لئے شاید یہی صدمہ بڑا ہوتا ہے۔ بیٹیوں کی محبت محسوس تو کی جا سکتی ہے الفاظ میں شاید بین کرنا محال ہے۔ بیٹیوں والے تو سبھی بیٹی کی محبت اور درد و غم سے واقف ہوں گے یہ بیٹی کی محبت ہی تو تھی جب خاتون جنت سیدة النسائؓ تشریف لاتیں تو آپ اٹھ کھڑے ہوتے اور اپنی چادر مبارک ان کے لئے بچھا دیتے۔ ہمارے آقا نے تو مشرکوں کی بیٹیوں کو بھی توقیر و عزت بخشی فتح مکہ کے بعد جب قیدیوں کو آپ کی بارگاہ اقدس میں پیش کیا گیا تو ان میں حاتم طائی کی بیٹی بھی تھی۔ اس کے سر پر چادر نہیں تھی۔ آپ نے کمال شفقت و رحمت سے اپنی چادر مبارک اس کے سر پر اوڑھ دی، انہی بیٹیوں کے بارے میں ہمارے آقا نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص میرے طریقے کے مطابق ان کی پرورش کرے گا وہ جنت میں میرے ساتھ ہوگا۔ وہ بھی بیٹیاں ہی تھیں جنہوں نے مصیبت میں محمد بن قاسم کو پکارا تو چونکہ وہ حقیقی معنوں میں شریعت محمدیہ کا پیروکار تھا۔ بہادر، خوددار اور غیرت مند تھا۔ اس کا ضمیر صاف اور پاک تھا، موت سے نہیں صرف اللہ سے ڈرتا تھا اور صرف رب العزت کے آگے جھکتا تھا فوراً ان کی مدد کے لئے پہنچا۔ ہم کیسے مسلمان ہیں؟ اگر ہمارے حکمران تھوڑی دیر کے لئے عافیہ کو اپنی حقیقی بیٹی ہی تسلیم کرلیں اور سوچیں کہ وہ کافروں، فاسقوں کی قیدو بند میں ہے۔ شاید وہ یہ سوچ بھی برداشت نہ کر پائیں۔ اس عظیم دخترِ اسلام کا قصور صرف یہ ہے کہ وہ مسلمان ہے، امت محمدیہ میں سے ہے۔ پاکستان کی بیٹی اور پورے عالم اسلام کی آبرو ہے۔ کیا یہ ہمارے حکمرانوں کے لئے امتحان نہیں ہے کہ اسے وہاں سے واپس لائیں۔ دنیا کی نظروں میں بھی اور اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بھی سرخرو ہوں۔ ہم نے آج تک اس کے لئے کوشش ہی نہیں کی ہے۔ کیا ہمارے حکمرانوں کے اختیارات صرف چاہنے تک ہی محدود ہیں؟ کیا ہماری کوشش یہی ہے کہ جب بھی کوئی امریکہ کا سفیر کوئی نیا حکم صادر فرمانے کے لئے
یہاں آتا ہے تو ہم اسے سلامی اور شاندار ضیافت دینے کے بعد ایک چھوٹا سا دھیمی آواز میں فقرہ عافیہ کے بارے میں کہہ دیتے ہوں گے۔ سبھی تو یہ بھی نہیں کہتے ہوں گے۔ بہرحال ہمارے حکمران ایسا کیوں نہیں کرتے کہ حکومتی اور اپوزیشن ارکان سبھی خصوصی طور پر جا کر اوباما سے ملیں۔ عافیہ کو واپس لے کر آئیں۔ اپنے دوروں پر تو اربوں روپے نچھاور کرتے ہیں ایک دفعہ پورے عالم اسلام کی دختر نیک اختر کے لئے بھی کر دیں۔ یہ ہماری غیرت کا مسئلہ بھی ہے اور دینی فریضہ بھی۔ کیا قافلہ حجاز میں کوئی بھی حسینؑ نہیں؟ کیا عافیہ صدیقی کے لئے بھی کوئی محمد بن قاسم آئے گا؟۔