کوئی موضوع ہی نہیں ملتا

کالم نگار  |  پروفیسر سید اسراربخاری

شاید یہ حقیقت ہے کہ ساری اچھی باتیں ختم ہو گئی ہیں اور ان پر عمل باقی ہے اسی لئے لکھنے والوں کے پاس اب لکھنے کو کوئی موضوع ہی نہیں رہا اگرچہ لکھاریوں کے لکھنے سے کافی اثرات مرتب ہوتے ہیں اور تاریخ عالم میں ایسا ہوتا رہا ہے مگر ہم شائد ڈھٹائی کے اس مقام پر فائز ہو چکے ہیں جہاں تحریریں ختم ہو گئی ہیں اور عمل درآمد کا نہ ہونا ختم ہونے میں ہی نہیں آتا یوں لگتا ہے کہ جیسے ہر تحریر ہر بیان نشرِ مقرر ہے اور بے عملی حشرِ مقرر ہے ۔ انقلاب فرانس آیا تھا تو ہاتھ سے لکھے ہوئے چند جملوں کے دیوار پر چسپاں کرنے سے برپا ہو گیا تھا ہمارے قلمکار تو اب قلم تراش بن چکے ہیں وہ کسی بھی پرانے موضوع کو نیا پیرہن پہنا کر پیش کرتے رہتے ہیں مگر نتیجہ وہی ڈھاک کے دو پات کیا لکھنے والے بس اس بات پر ہی راضی ہو گئے ہیں کہ ان کے لکھنے سے کوئی اہلکار معطل ہو گیا اور پھر بحال ہو گیا تحریر عربی لفظ ہے اور اس کا معنی ہے آزادی دلانا دراصل ہم پاکستان بنا کر بھی آزاد نہ ہو سکے اس مقصد کے حصول کے لئے قلم، قلم ہو گئے مگر غلامی کا سر قلم نہ ہوا اہل قلم صاحبِ مرتبت ہوتے ہیں اور آج بھی ہیں قارئین ان کے ایک ہی موضوع کو بار بار لکھنے پر بھی بور نہیں ہوتے شاید ان کا بور نہ ہونا یہ اس بات کا سبب ہے کہ انقلاب کی جوت نہیں جلتی دنیا کے بڑے بڑے انقلابات کے پیچھے چند تحریریں تھیں کچھ موضوعات تھے ہماری پشت پر تحریروں کے انبار ہیں مگر
انقلاب پھر بھی برپا نہیں ہوتا ہم نام نہیں لیتے مگر ملک میں کتنی ہی ایسی سیاسی غیر سیاسی مذہبی جماعتیں ہیں جن کے پاس انقلاب کا سارا سازو سامان موجود ہے اور قلم کاروں کی گرما دینے والی تحریریں بھی ان کے پیش نظر ہیں مگر وہ انقلاب نہیں لانا چاہتے شاید ان کو یہ ڈر ہے کہ انقلاب آئے گا تو ان کی اپنی حیثیت اس سے مدغم ہو جائے گی اور ایسا ہونے سے ان کے وجود کو کون مانے گا جس طرح ہمیں کشمیر حاصل کرنے کے کتنے مواقع ملے اور ہم نے کھو دئیے اسی طرح ہمیں انقلاب کے بھی بڑے مواقع ملے مگر ہم نے ان کو درخورِ اعتنا نہیں سمجھا۔ ہمارے پیغمبر علیہ السلام نے ہم سے ایک انقلابی جملہ کہا تھا کہ اسیری دل کی اسیری ہے آج ہم دل کے بجائے سال و زر کے اسیر بن گئے اور جب دل غریب ہو جاتے ہیں تو امیری آمریت کو جنم دیتی ہے جمہوریت کو فنا کر دیتی ہے۔ عدل و انصاف کا گلا گھونٹ دیتی ہے ننگی سڑکوں پر ننگے چھترول ہوتے ہیں اور باقی کے سارے اول فول بھی ہوتے ہیں۔ رسول اللہﷺ کی تحریر نے دنیا کا سب سے بڑا انقلاب برپا کیا جس کے ثمرات سے دنیا نے فائدہ اٹھایا اور ہم نے میدانِ کربلا سجایا۔ مدینہ کے لوگوں کو بروز حشر بھی وہ تین دن وہ تین راتیں نہیں بھولیں گی جو کربلا کے فوراً بعد ان پر گزریں۔ اہل مغرب نے انقلابِ محمد سے بھرپور استفادہ کیا۔ ذات پات گورے کالے امیر غریب کی تمیز اٹھا دی اور آج وہ اس انقلاب کے بعث سپر پاور بن گئے ہیں جس میں لکھا ہوا ہے کہ اپنے دشمنوں کا مقابلہ کرنے کے لئے جو بن پڑے کرو طاقت جمع کرو، گھوڑے باندھو، مگر ہم نے بھی اس انقلاب سے رابطہ باندھا مگر اپنی ذات کے لئے اور ظلم کی رات کے لئے بہرحال موضوعات ختم ہو گئے قلم کی سیاہیاں ختم ہو گئیں 62 سال گزر گئے بابائے قوم کی روح گریاں ہے خدا اور رسول ہم سے نارض ہیں مگر ہم انقلاب نہیں لانا چاہتے ہمارے مسائل کا حل سو سنار کی ایک لوہار کی میں پوشیدہ ہے۔ فاعتبروا یا اولی الابصار۔