پانی کا سنگین بحران اور کالاباغ ڈیم

جسٹس (ر) راجہ افراسیاب ................
پاکستانی لوگوں کو اچھی طرح سے یاد ہوگا کہ آزاد کشمیر کے لوگوں کی مخالفت کے باوجود ریاست جموں و کشمیر کے ایک معروف شہر میرپور کو پانی کے سمندر میں غرق کر کے منگلا ڈیم تعمیر ہوا تھا، میرپور کا پرانا شہر کشمیریوں کا ایک محبوب ترین شہر تھا ’’موجودہ ضلع کوٹلی‘‘ اور ضلع ’’بھمبر‘‘ دراصل ضلع میرپور کے پرانے تحصیل ہیڈکوارٹرز تھے۔ آزاد کشمیر کی تقریباً تمام درس گاہیں اسی شہر میں واقع تھیں‘ یہ کاروباری اور تجارتی لحاظ سے جموں اور سدی نگر شہروں کے بعد تیسرا بڑا سنٹر تھا۔ سینکڑوں چھوٹے بڑے دیہات اور قصبوں کا واحد اہم ترین مرکز تھا۔ تحریک آزادی کشمیر کا یہ شہر گڑھ تصور کیا جاتا تھا۔
وادیٔ میر پور کا ایک حسین و جمیل علاقہ پورے برصغیر پاکستان اور ہندوستان میں مشہور تھا۔ یہی شہر تھا جس نے مہاراجہ کشمیر کی مخالفت کے باوجود آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کو پروان چڑھایا ’’اینٹی منگلا ڈیم تحریک‘‘ پورے آزاد کشمیر میں چلائی گئی۔ لوگوں نے بہت مالی نقصانات اٹھائے وہ اپنے آبائو اجداد کے دیہات اور قصبوں سے بے دخل ہوئے۔ پوری پاکستانی قوم نے آخرکار یہ بھی دیکھا کہ کشمیریوں نے ایک عظیم قربانی کا مظاہرہ کرتے ہوئے منگلا ڈیم کی تعمیر میں حکومت پاکستان کا پورا پورا ساتھ دیا۔ ان لوگوں کی نظروں کے سامنے ان کے گھر بار، بزرگوں کی قبریں، مسجدیں، خانقاہیں اور دیگر قیمتی تاریخی عمارتیں پانی کے طوفان میں بہہ گئیں۔
آج بھی موسم سرما میں جب ڈیم میں پانی کی کمی ہو جاتی ہے تو مسجدوں کے مینار اور گھروں کی اونچی منزلیں صاف نظر آتی ہیں۔ یہ سب کچھ آزاد کشمیر کے لوگوں نے پاکستان کی تعمیر میں ایک تاریخی قربانی کے طور پر کیا تھا۔ اکثر متاثرین منگلا ڈیم کہتے تھے کہ ہم نے پاکستان کی خاطر قربانی دی ہے وہ پاکستان کو پھلتا پھولتا دیکھنا چاہتے ہیں لیکن اسکے برعکس آج بھی آپ کو متاثرین سے اَن گنت ایسے لوگ میں گے جن کو نہ تو اچھی طرح آباد کیا گیا اور نہ ہی اُن کو مُناسب نقد معاوضہ جات ملے ہیں بہرحال یہ تو نوکر شاہی کا کرشمہ تھا۔ جس نے بعض لوگوں کو انصاف سے محروم رکھا۔ آج آپ خود ہی فیصلہ کریں کہ میرپور (آزاد کشمیر) کے لوگوں کی بے مثال قربانی سے پاکستان کے لوگوں کو منگلا ڈیم کی تعمیر سے کس قدر منافع اور فائدہ ہوا ہے۔ اسی ڈیم کی تعمیر سے پاکستان کی لاکھوں ایکڑ بنجر اراضیات لہلہاتے کھیتوں میں تبدیل ہوگئیں ہیں۔ لوگوں کو خوشحالی ملی ہے بالکل اسی طرح آج متاثرین بھاشا ڈیم پریشان ہیں۔
حکومت پاکستان اور حکومت آزاد کشمیر کا یہ آئینی اور قانونی مقدس فریضہ ہے کہ وہ متاثرین بھاشا ڈیم کو آباد کریں اور ان کو فوری طور پر معقول معاوضہ جات ادا کریں۔ اُنکی الاٹ شدہ اراضیات کے قبضہ جات ان کو دلائیں۔ متاثرہ لوگوں کو ان کی خواہش اور مرضی کیمطابق انکے علاقوں میں احسن طریقہ سے آباد کیا جائے۔ متاثرہ خاندانوں کے نوجوانوں کو پاکستان اور آزاد کشمیر میں مناسب ملازمتیں دی جائیں۔ بھاشا ڈیم کی انتظامیہ میں بھی وہاں کے لوگوں کو ملازمتیں دینا ہوگی۔ بالکل اسی طرح کالا باغ ڈیم کے متاثرین کے ساتھ بھی پورا پورا انصاف کرنا ہی وقت کا تقاضا ہوگا۔ بھارت دریائے سندھ اور دریائے جہلم کے پانی کو روکنے کیلئے درجنوں بڑے اور چھوٹے ڈیموں کی تعمیر میں مدت سے مصروف چلا آرہا ہے۔ بھارت کی یہ ایک گھنائونی اور مکروہ سازش ہے کہ کشمیر سے پاکستان کی طرف آنیوالے تمام دریائوں کے پانی کا رُخ موڑ دیا جائے۔ اگر بھارت کو ان ناجائز ڈیموں کی تعمیر سے نہ روکا گیا تو ہمارے بنے بنائے چالو ڈیم پانی سے محروم ہو جائینگے۔ ان ڈیموں میں پانی نام کا کوئی بھی عنصر دکھائی نہ دیگا‘ البتہ ہر طرف تباہ و برباد علاقے ہی علاقے نظر آئینگے۔ یہ صاف نظر آرہا ہے کہ بھارت ہمیں بھوکا اور پیاسا مارنا چاہتا ہے۔ ظاہر ہے کہ اگر پاکستان میں پانی نہیں ہوگا تو سارا ملک قحط زدہ ہو جائیگا۔ انسان اور حیوان خدانخواستہ بھوکے اور پیاسے مر جائینگے۔ موجودہ حالات میں بھی آپ ضلع جھنگ اور ضلع سرگودھا اور سندھ کے دور دراز علاقوں میں جاکر پانی کی کمی کی تباہ کاریوں کو دیکھیں جو لوگ کالاباغ ڈیم کی تعمیر کی مخالفت کرتے ہیں ان کو اپنے ہی ملک کے پانی کی قحط زدہ علاقوں کا دورہ کرنا ہوگا۔
ایسا کرنے سے ان پر تمام حالات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جائینگے۔ صوبہ سندھ اور صوبہ بلوچستان کے لوگوں کے جائز مطالبات کو نہ صرف فوری طور پر تسلیم کیا جائے بلکہ انکے تمام مطالبات کو ہر لحاظ سے پورا کرنا ہوگا۔ ساتھ ہی ساتھ ڈیموں کی تعمیر کو اس طرح ڈیزائن کریں جس سے مناسب حد تک پانی بارہ ماہ متاثرہ علاقوں کو ملتا رہے۔ سب سے پہلے تو ’’سرحد، بلوچستان، سندھ‘‘ کی پانی کی ضرورت کو ہنگامی بنیادوں پر پورا کرنا ہوگا یہ کھل کر صوبہ پنجاب پر الزام لگاتا ہے کہ باقی صوبوں کا پانی وہ خود پی جاتا ہے۔ میری تجویز ہے کہ بھاشا ڈیم اور کالاباغ ڈیم کی تعمیر کیلئے زیادہ سے زیادہ ’’ٹیکنیکل مین پاور‘‘ و دیگر افرادی قوت سرحد، بلوچستان، سندھ سے حاصل کی جائے ان ڈیموں کی تعمیر کے بعد بھی چھوٹے صوبوں کی ’’مین پاور‘‘ کو ترجیحی بنیادوں پر ڈیموں کی انتظامیہ کو چلانے کیلئے ان صوبوں کے ماہرین کی خدمت سے آفادہ کیا جائے۔
اتفاق سے موجود صدر اور موجودہ وزیراعظم کا تعلق صوبہ سندھ اور سرائیکی علاقوں سے ہے وہ آسانی سے میری ان تجاویز پر غور کر سکتے ہیں اور سمجھ سکتے ہیں۔ اگر یہ تجاویز قابل عمل ہوں تو ان پر عمل بھی کیا جاسکتا ہے۔ مقصد یہی ہے کہ بھاشا ڈیم اور کالاباغ ڈیم کی تعمیر میں قطعی طور پر تاخیر نہیں ہونی چاہئے۔ یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب متاثرہ لوگ مطمئن ہونگے۔ پانی پاکستان کی اس وقت کی ایک اہم ترین ضرورت ہے۔
اس ضرورت کو پورا کرینگے تو ہی ہم زندہ رہ سکیں گے۔ ورنہ ایڑیاں رگڑ رگڑ کر ہی ہم موت کے منہ میں چلے جائینگے۔ یہ بھی یاد رکھیں کہ جہاں بھی کوئی مسئلہ ہوگا وہاں ہی اس کا قابل عمل حل بھی ہوگا۔ بہتر یہی ہوگا کہ پانی سے متعلقہ تمام امور پر پارلیمنٹ میں کھل کر بحث کا اہتمام کیا جائے۔ تمام علاقوں کے لوگوں کے مطالبات اور ضروریات کو سامنے رکھ کر ہی ان مسائل کے قابل قبول حل تلاش کئے جائیں۔ ہم سب بدقسمت لوگ ہیں کیونکہ ہمارے ملک میں کئی سالوں سے بارش نہ ہوئی ہے پیشین گوئی یہی ہے کہ آئندہ بھی بارش ہونے کے بہت ہی کم امکانات ہیں۔
بارش کیوں نہیں ہوتی؟ اس پر ’’جغرافیہ اور سائنس‘‘ کے ماہرین ہی زیادہ بہتر انداز میں روشنی ڈال سکتے ہیں یہ ایک مُسلمہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں درخت اور جنگلات بہت ہی کم ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ ہر ملک کا کم از کم تیسرا حصہ جنگلات سے بھرا ہوا ہونا چاہئے۔ بدقسمتی سے 2% اور 5% تک پاکستان کی سرزمین پر جنگلات پائے جاتے ہیں۔ ان جنگلات کو بھی بڑی بے دردی سے ختم کیا جارہا ہے۔ نئے جنگلات نہ ہونے کے برابر لگ رہے ہیں۔ فوراً ایک ایسا قانون بنائیں جس کے تحت بلاضرورت اور بلااجازت درختوں کا کاٹنا ایک قابل وسعت اندازی جرم قرار دیا جائے۔ ایک درخت کے ناجائز کاٹنے کی سزا کم از کم 10,000 دس ہزار روپے جرمانہ رکھی جائے اور عدم ادائیگی جرمانہ کی سزا تا برخاست عدالت مقرر کی جائے۔ اسکے ساتھ ہی ملزم سے یہ ضمانت لی جائے کہ وہ درخت کے کاٹنے کے جرم میں کم از کم (10) دس نئے درخت اسی جگہ لگائے جائیں۔ پارلیمنٹ اس موضوع پر جلدازجلد مناسب قانون سازی کا کام مکمل کرے۔ درختوں سے متعلقہ قانون کی تشہیر روزانہ کی بنیاد پر نشرواشاعت کے ذرائع سے کی جائے۔ درخت اور جنگلات جیسے اہم موضوعات کو تعلیمی نصاب میں شامل کیا جائے۔ درخت لگانے کی مہم میں پوری قوم کو شامل کیا جائے خصوصاً طلبا اس مہم میں سب سے آگے ہوں۔