نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے زیراہتمام دو روزہ سیرت النبیﷺ کانفرنس

نبی آخر الزماں حضرت محمد مصطفیﷺ کی ولادت باسعادت کی تقریب سعید کے سلسلے میں ابھی اسلامیانِ عالم کی طرح مسلمانانِ لاہور بھی اسوہ حسنہ اور سیرتِ طیبہ کے فانوس چراغاں رکھنے کے لئے وعظ وہدایت کی محافل کے انعقاد کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں چنانچہ 4 اور 5 مارچ 2010ءکو ایوانِ کارکنانِ تحریکِ قیامِ پاکستان شاہراہِ قائِداعظم محمد علی جناح میں نظریہ پاکستان ٹرسٹ اور پاکستان موومنٹ ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے دو روزہ سیرت النبیﷺ کانفرنس منعقد کی گئی جس میں علمائے کرام و مشائخ عظام کے علاوہ دانشورانِ ملّتِ اسلامیہ اور صحافیانِ پاکستان بھی رشد و ہدایت کا اجالا عام کرنے میں مصروف ہیں۔ 4 مارچ 2010ءکے افتتاحی اجلاس کی صدارت کے فرائض پنجاب یونیورسٹی کے سابق وائس چانسلر اور نظریہ ٹرسٹ کے وائس چیئرمین ڈاکٹر رفیق احمد نے ادا کئے جبکہ اس تقریب کے ایک مرحلے میں نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین مجید نظامی نے بھی بطور مہمان خصوصی شریک ہونے کی سعادت حاصل کی، اس وقت مقررین میں مولانا محمد رمضان سیالوی، ڈاکٹر طاہر رضا بخاری، مولانا احمد علی قصوری، پیر سید معین الحق گیلانی اور میاں خلیل احمد شرقپوری کے علاوہ اسلامیہ کالج کوپر روڈ لاہور کی پرنسپل پروفیسر فرزانہ شاہین اور پروفیسر راشدہ قریشی بھی تشریف فرما تھیں، تمام مقررین نے اپنے اپنے علم و مطالعہ اور تحدیدِ اوقاتِ تقاریر کے جبرو اختیار کے اندر رہتے ہوئے نبی آخر الزمان حضرت محمد مصطفی ﷺ کے فرمودات و تعلیمات اور قرآن و سنتِ حضرت محمد مصطفی ﷺ کے فیوض و برکات اور امر و نواہی کے تذکار کا فریضہ ادا کرنے کی کوشش کی اور کائنات ہست و بود میں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کے ظہورِ ولادت کے وقت پوری دنیا کو نظر آ جانے والے مناظر کے نقوش تازہ و اجاگر کئے، اس وقت انسانی دنیا ظلم و جہالت کے گھٹاٹوپ اندھیروں میں غلطاں تھی، کفرو شرک، ہوا و ہوس، ظلم و ستم، افکار و نظریاتِ باطلہ، قبائلی رسوم ورواج، گمراہی و ضلالت کی ظلمت و تاریکی اس جہانِ فنا و عارضیت میں ہر طرف پوری قوت سے چھائی ہوئی تھی، استحصالی، طاغوتی اور استعماری طاقتوں نے جبرو استبداد کا دباو قائم رکھ کر معاشرے کو بے راہ روی کی زنجیروں میں جکڑے رکھنے کے لئے بے بس انسانی ڈھانچوں کو اپنے پنجوں کی گرفت میں لیا ہوا تھا، ان کی چاہ پسندی، ہوسِ اقتدار اور حصولِ زر و مال کی حرص و آز اور بے لگام توسنِ خواہشات نے خوب و ناخوب کو اپنے تشدد کا نشانہ بنا کر ان کے امتیاز کو نابود کر دیا ہوا تھا حتیٰ کہ شرفِ آدمیت کی دھجیاں بکھیر دی ہوئی تھیں، ان ہولناک حالات میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی قدرت جوش میں آئی اور دنیا بھر کی جہالت و گمراہی کے اندھیروں کو رشد و ہدایت کے اجالوں میں بدل دینے کے لئے کائنات کو حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ولادت باسعادت کا لمحہ مبارک عطا فرما دیا اور کائنات و عالمِ فانی میں تعلیمات و ہدایات حقّہ کے آئینہ دار انقلاب کا آغاز ہو گیا۔ آل ساسان کا صدیوں سے مستحکم چلا آنے والا تسلط زوال کی زد میں آ گیا، اسی طرح کسرائے ایران کا پائیدار و مضبوط محل ایک ہیبت ناک آواز کے ساتھ پھٹ گیا اور اس کے سقف و بام پر مزین 14 کنگرے پاش پاش ہو کر زمین بوس و پیوند خاک ہو گئے۔ اچانک اتنا زبردست زلزلہ آیا کہ ساکنانِ عالمِ فانی کے دل دہل گئے، ہزار سال سے دہکتا چلا آنے والا آتش کرہ فارس ٹھنڈا ہوگیا، بحیرہ سادہ خشک اور بحیرہ طبریہ پانی سے تہی ہو گیا اور وادی سماوہ منقطع ہوگئی یہی مصطفوی انقلاب کی صبح درخشاں تھی جس کے طلوع ہو جانے کے بعد زبانِ حضرت محمد مصطفی ﷺ سے اعلان ہوا کہ اب میرے اور قیامت کے درمیان کوئی اور دور نہیں آئے گا گویا حضرت محمد مصطفی ﷺ کی ذاتِ اقدس و بابرکات پر رسالت و نبوت تمام ہو گئی اور اب قیامت تک شریعتِ حضرت محمد مصطفی ﷺ کا عہد رشد و ہدایت جاری رہے گا، وہی حقیقت آج تمام مقررین نے بھی بیان فرمائی اور اپنی اپنی تقاریر میں اعلان کیا کہ دنیائے فانی کے تمام واقعاتی، وجودی اور روحانی عوارض کا واحد حل قرآن و سنتِ رسول اکرم حضرت محمد مصطفی ﷺ کی تعلیمات و فرمودات پر عمل پیرا ہو جانے میں مضمر ہے، اسلامیانِ عالم بھی جب قرآن و سنت حضرتِ محمد مصطفی ﷺ سے دور ہٹ جانے کی غلطی کرتے ہیں تو مصائب و آلام زمانہ کا شکار ہو جاتے ہیں لہٰذا آئیے آج پھر ہم قرآن وسنت ﷺ کے احکامات و ہدایات پر مکمل طور پر عمل پیرا ہو جانے کا عہد کر کے اپنی نجاتِ اخروی اور فلاح دینوی کا سامان کریں۔