شیخ رشید کو پیشگی مبارک ہو

کالم نگار  |  ادیب جاودانی

شیخ رشید کی انتخابی مہم آخری مرحلے میں تھی کہ انہوں نے مجھے فون کیا کہ آپ میری کامیابی کیلئے دعا کریں میں اتفاق سے اس وقت حضرت داتا گنج بخشؒ کے مزار پر کھڑا تھا۔ راقم نے شیخ صاحب سے کہا کہ میں آپ کی کامیابی کیلئے دعا تو کرتا ہوں لیکن پنجاب کی تاریخ تو یہ بتاتی ہے کہ پنجاب کی کوئی بھی حکومت کبھی بھی ضمنی الیکشن نہیں ہاری اور ایسا ہی ہوا کہ وفاقی دارالحکومت کے جڑواں شہر راولپنڈی کا انتخابی معرکہ مسلم لیگ (ن) جیت گئی ہے۔ پورے ملک کی نظریں اس حلقے کے ضمنی انتخاب پر لگی ہوئی تھیں‘ عام طور پر ضمنی انتخاب کی زیادہ اہمیت نہیں ہوتی اور حکومت میں رہنے والی جماعت ہی فاتح ہوتی ہے لیکن موجودہ سیاسی کشمکش کے تناظر میں اس انتخابی معرکہ کو اہمیت حاصل ہو گئی تھی اور بعض سیاسی مبصرین اس حلقے کے نتائج کی بنا پر رائے عامہ کے رجحان کو پرکھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس حلقے میں مسلم لیگ (ن) کی فتح غیر متوقع نہیں تھی لیکن شیخ رشید کی سرگرمیوں نے انتخابی عمل کے درجہ حرارت کو تیز کر دیا تھا اور ضمنی انتخاب کا معرکہ قومی انتخابات جیسی اہمیت اختیار کر گیا تھا۔85ء کے بعد اب تک ہونے والے آٹھ انتخابات میں دوسری مرتبہ ایسا ہوا کہ راولپنڈی کے رہنے والوں نے اپنے ”فرزند“ کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا۔ این اے 55سے شیخ رشید احمد پچھلی مرتبہ بھی ہار گئے تھے اور اس بار بھی جیت نہیں سکے۔ عوامی مسلم لیگ کے شیخ رشید ہار کا غم اپنے سگار کے دھوئیں میںاڑاتے ہوئے بھلے کہتے رہیں کہ انہیں ہرایا گیا ہے لیکن رسوائی ہی کی سہی بات تو یہی سچ ہے کہ پنڈی کے ووٹروں نے انہیں ابھی تک معاف نہیں کیا اگرچہ شیخ نے پرویز مشرف اور چودھریوں شجاعت اور پرویز الٰہی سے رسمی طور پر سیاسی ترک تعلقات ایک سال پہلے کر لیا تھا۔ انہوں نے گزشتہ مارچ میں عوامی مسلم لیگ کی بنیاد ڈالی لیکن بقول شخصے ان کی پارٹی ساری کی ساری ایک موٹر سائیکل پر پوری آ جاتی تھی۔ اپنی مقبولیت کے زعم میں انہوں نے پھر بھی الیکشن لڑنے کا فیصلہ کر لیا مگر باتیں بنانے کے ماہر شیخ صاحب کی بات بن نہیں سکی۔ لال حویلی کے باسی کو لال مسجد بھی راس نہیں آئی۔ مسجد سے اٹھنے والی چیخ و پکار‘ حویلی کے درودیوار سے باہر ہی نہیں نکل سکی۔ آپ نے قلم‘ دوات‘ سے نئی تاریخ تحریر کرنی چاہی لیکن شیخ صاحب! دوات میں روشنائی تو تھی ہی نہیں ۔ بس اک سیاہی تھی جس کا داغ آپ کی جبین پر نشان ہزیمت بن گیا ہے۔ مخالف کہتے ہیں کہ شیخ رشید کا دور ختم ہو گیا لیکن شاید اس پر غور نہیں کر رہے کہ پنڈی والے لاکھ غصہ نکالیں وہ اپنے فرزند کو عاق نہیں کرنے والے اور یوں بھی آتے ہیں جادو تمہیں سارے۔ میڈیا آپ کا دوست‘ سیاست آپ کا پیشہ پنڈی آپ کا شہر‘ راج نیتی کے بھیدوں سے آپ باخبر لہذا سیاست کے کاروبار میں آپ کے دم سے رونق ابھی لگی رہے گی۔ بعض مبصرین کا خیال یہ تھا کہ شاید کہ راولپنڈی کے لوگ سانحہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کو بھول چکے ہیں اور شیخ رشید کے خلاف راولپنڈی کے لوگوں کی غضبناکی میں کمی آ گئی ہے لیکن اس نتیجے نے بتایا ہے کہ عوام کے زخم ابھی ہرے ہیں۔ شکایات اور تلخ تجربات کے باوجود آصف زرداری اور جنرل پرویز مشرف اور مسلم لیگ ق کے اتحاد کے مقابلے پر مسلم لیگ ن سے ان کی امیدیں ختم نہیں ہوئی ہیں۔ انہوں نے گذشتہ روز لال حویلی میںآنے والے افراد کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ راولپنڈی کے شہریوں سے میرا رشتہ کوئی توڑ نہیں سکتا۔ انہوں نے کہا کہ میں انتخاب ہارا ہوں ہمت نہیں ہارا یہ بات بالکل درست کہہ رہے ہیں کیونکہ اس ہار میں بھی انہیں اگلے انتخابات میں اپنی جیت دکھائی دیتی ہے۔ جسے حلقے سے وہ چھ بار جیتے تھے اور اب دوبار ہار چکے ہیں۔ چھ بار کی جیت نے لوگوں کے دلوں میں جن جذبات کی جنم دیا تھا انہیں دوبارہ مہمیز ہونے کیلئے بس اب یہ تین سال کافی ہونگے آئندہ انتخابات کو ابھی تین سال پڑے ہیں پتہ نہیں اس وقت تک حالات کیا رخ اختیار کریں گے بہرحال ہم دعا ہی کر سکتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ آئندہ کی الیکشن میں انہیں کامیاب کریں آئندہ الیکشن میں شیخ صاحب کی کامیابی یقینی لگتی ہے ہماری طرف سے ان کو پیشگی مبارک ہو ۔