شاید اب ہمیں راستہ چھوڑ ہی دینا چاہئے

کالم نگار  |  مطلوب احمد وڑائچ

اس کا تعلق گجرات کے ایک مہذب گھرانے سے ہے اور اس کے اندر شروع سے ہی لیڈرشپ خوبیاں موجود تھیں وہ اپنے سکول وکالج کے زمانے سے سٹوڈنٹ پالیٹکس اور شہید قائدعوام ذوالفقار علی بھٹو کی دیوانی ہے اس کا باپ ایک اعلیٰ سرکاری ملازم تھاجو اپنے بچوں اور بیوی کے ساتھ خوش و خرم زندگی گزار رہا تھا۔ وہ بھی بھٹو کا چاہنے والا تھااور پھر ایک دن بھٹو کو ملنے کی تڑپ لیے اس جہانِ فانی سے کوچ کر گیا۔وقت کا پہیہ آگے چلتا گیا بھٹو کی دیوانگی پھر شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی چاہت میں تبدیل ہو گئی۔ جب میں 2002ءمیں پاکستان شفٹ ہو ا اور الیکشن کے بعد مجھے گجرات جانے کا اتفاق ہوا تو میں نے بھٹوز کی اس جیالی کی داستانیں سنیں۔وہ باپ کے مرنے کے بعد تعلیم جاری نہ رکھ سکی تو گھر والوں نے اس کی شادی کروا دی۔ اور وہاں سے وہ ایک دن اس وجہ سے طلاق لے کر گھر آ گئی کہ اس کے شوہر نے بھٹوز کے متعلق مغلظات کہے تھے اوربھٹو کی جیالی اس پر کمپرومائز نہ کر سکی۔ہر آمرانہ دور میں گجرات کی اس جیالی نے پیپلز پارٹی کا پرچم تھامے رکھا مجھے اس بات پر بھی حیرت ہے کہ جب میری اس سے ملاقات ہوئی تو اس کے پاس کوئی بھی پارٹی عہدہ تک نہ تھا مگر پیپلز پارٹی کو جب بھی اس کی ضرورت پڑتی وہ سینکڑوں ساتھیوں کے ساتھ گجرات سے لاہور تک موجود ہوتی۔
شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے جانثاروں میں جیالی کے نام سے پہچانی جانے والی گجرات میں اپنا مکان بیچ کر چند سال تک پارٹی کو چلاتی رہی اور پھر اسے لاہور اپنے ننھیال کے ہاں شفٹ ہونا پڑا مگر گجرات پیپلز پارٹی کی ایک چھوٹی سی کال پر وہ فوراً گجرات پہنچ جایا کرتی تھی۔الیکشن 2008ءکے بعد کچھ مصروفیات کی وجہ سے اس سے ملاقات نہ ہو سکی۔چند روز پہلے اچانک مجھے وہ لاہور کی ایک مارکیٹ میں نظر آئی میں پہلی نظر میں اس کو پہچان نہ سکا کیونکہ وہ بیماری سے لڑتے لڑتے کافی کمزور ہو چکی تھی، میں نے پہچان کر پوچھا ”فرحانہ“کیا حال ہے کیا کر رہی ہو ؟وہ یکلخت پھٹ پڑی اور اپنے جذبات قابو میں نہ رکھتے ہوئے بولی کدھر ہے تمہاری لیڈرشپ ؟اٹالین اور فرنچ سوٹنگ کے ساتھ وزیراعظم سے زیادہ کوئی ماڈل لگنے والا کدھر ہے؟ کدھر ہے تمہارا صدر جو جیالوں کو دلاسا دینے کے لیے ان تک نہیں پہنچتا جبکہ وہ جس شخص کا داماد ہے اس نے سولی پر چڑھنا قبول کر لیا مگر عوام سے دوری اسے قبول نہیں تھی۔بلکہ اسی طرح اس کی بیٹی نے بھی شہادت کا تاج اپنے سر پر رکھ لیا مگر عوام سے دوری اسے بھی قبول نہ تھی وہ موت سے اٹھکیلیاں اور آنکھ مچولیاں کرتی ہوئی اپنے عوام پر نثار ہو گئی۔اسے جان دینے کی کیا ضرورت تھی کہ جب اس ملک میں کارکنوں کی یہی حالت رہنی تھی کیا ضرورت تھی مجھے بھی قربانیاں دینے کی میں پچھلے دو سال سے کسی غریب کارکن کو ایک نوکری دینا تو درکنار انہیں ان کے معاشی قتل عام سے نہیں بچا پائی اور اقتدار کے نشے میں بیٹھے تم لوگ یہ بھول گئے ہو کہ تمہیں پھر انہی عوام میں واپس جانا ہے کیا تم نے یہ تہیہ کر لیا ہے کہ اب کی بار عوام کے سامنے گردن جھکا کر جاﺅ گے ؟یا پھر سرخرو ہو کر ۔
فرحانہ بولتی چلی گئی وہ کہہ رہی تھی آج ہمارے منتخب لیڈربھی ہمیں پہچاننے سے انکاری ہیںاور وہ کہ جن کے لیے ہم نعرے لگاتے لگاتے بے ہوش ہو جاتے تھے آج جب ہم ہوش میں آئے ہیں تو پتا چلا کہ سیاست میں دل کا کوئی کام نہیں ،وہ کہنے لگی ہم جیالے تو جئے بھٹو کا نعرہ مستانہ لگا کر شمع جمہوریت پر نثار ہوتے جاتے ہیں لیکن میں اپنی ساتھی ان غریب عورتوں ،بےکار طالبعلموں کو اب منہ دکھانے کے قابل نہیں رہی جنہیں یقین تھا کہ پیپلز پارٹی کو اقتدار ملتے ہی ان کے بھی دن پھریں گے ۔ فرحانہ بولی مگر آج وہ سب لیڈر مجھے تمہاری طرح جھوٹے نظر آتے ہیں کیونکہ تم لوگ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فارم تک ان دکھی لوگوں تک نہ پہنچا سکے ۔وہ کہنے لگی آج پیپلز پارٹی کے صاحبِ اقتدار لوگ ان غریب ساتھیوں کو پہچاننے سے انکار کرتے ہیں جن کے کاندھے پر چڑھ کر وہ اقتدار کی بلندیوں پر پہنچے لیکن اب کارکنوں کو سمجھ آ گئی ہے اب وہ اپنے کاندھے ان اقتدار کے حرص زادوں کے پاﺅں کے نیچے سے نکال لیں گے۔ وزیراعظم کو فرصت نہیں اور صدر صاحب سیکورٹی کی وجہ سے ایوان صدر سے کم نکل پاتے ہیںاس لیے ہر شہر میں ایک ایوان صدر بنا دیا جائے جہاں پر اس ملک کے غریب کارکنان ،جیالے اور لٹے پُٹے ساتھی امان پا سکیں۔وہ یہ لفظ کہہ کر آگے بڑھ گئی کہ کہہ دو اپنے وزیراعظم سے اور اپنے صدر صاحب سے کہ ”کیا اب ہم رکشوں اور تانگوںمیں بچے جنم دینا شروع کر دیں“کہ شاید ہمارے بادشاہوں کی نظرکرم ہم پر بھی پڑ جائے ۔
میں اس کے چہرے پر کرب اور نفرت کی ملی جلی کیفیت صاف دیکھ رہا تھا میں اس کے الفاظ سن کرایک لمحے کے لیے سُن ہو کر رہ گیا اور پھر ایک آواز آئی ”باﺅ جی کن سوچوں میں گم ہو راستہ چھوڑو“اور میں سوچ رہا ہوں کہ شاید اب ہمیں راستہ چھوڑ ہی دینا چاہیے؟