تمہاری داستان تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں

کالم نگار  |  پروفیسر محمد مظفر مرزا

تخلےق پاکستان سے قبل مےری قوم کے وہ افراد جن کی قسمت مےں ہجرت فرمانا نہےں لکھا تھا، ذرا اندازہ لگائےں کہ ان کے شہروں مےں کتنے گھر مسلمانوں کے تھے کتنی دکانےں مسلمانوں کی تھےں کتنی کارےں اور کارخانے مسلمانوں کے تھے مےرے والد گرامی بتاےا کرتے تھے کہ سرگودھا مےں اےک ہندو وکےل مسٹر ساہنی کے پاس کار تھی۔ ننگےانوں، ٹوانوں اور قرےشےوں کے پاس اےک اےک کار ہوا کرتی تھی۔ آج مےرے اس شہر مےں جہاں مےرے بزرگوں نے اپنی زندگی کا بہترےن وقت گزارا وہاں اتنی گاڑےاں اور کارےں ہےں کہ بازاروں سے گزرنا محال ہوگےا ہے۔
جناب مجےد نظامی نے کئی مرتبہ اس دلدوز مرحلے کی جانب قوم کی توجہ دلائی ہے کہ اس لاہور مےں صرف انارکلی بازار مےں چند دوکانےں مسلمانوں کی ہوا کرتی تھےں اور سارے بازار کے مالک ہندو ہوا کرتے تھے چند کارےں تھےں جن کے مالک ہندو سرماےہ دار ہوتے تھے، بڑے بڑے کھاتے پےتے گھرانوں کے مسلمان ٹانگوں پر سفر کرتے تھے ےا اپنے اپنے ٹانگے رکھے ہوئے تھے۔ مےاں امےرالدےن صاحب مرحوم نے بھی اےک ٹانگہ رکھا ہوا تھا آج ذرا غور فرمائےں پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے کن کن نعمتوں، کن کن آسائشوں، کن کن برکتوں سے نواز رکھا ہے۔ اےک اےک گھر مےں چھ چھ کارےں آٹھ آٹھ کنالوں مےں محل اور وسےع ترےن ذرےعہ معاش ہے جس کا اندازہ مشکل ہے اس کے باوصف پاکستان عزےز ازجان کو لوٹنے کھسوٹنے کا کاروبار غلےظ اپنے عروج پر ہے۔
کےا قرآن الحکےم کی روشنی مےں اور حضرت محمدﷺ کے احکام اور ہداےات کی روشنی مےں ہم کس قدر امانت و دےانت اور اسلامی ضوابط کو جزو جان بنا رہے ہےں، ہم نے قرآن الحکےم کی سورة رحمٰن کے پےش نظر اللہ تعالیٰ کی کون کون سی نعمتوں اور رحمتوں کا شکرےہ ادا کےا ہے لمحہ فکرےہ ہی نہےں ہے بلکہ دلدوز اور دل شکن قومی معاملہ بھی تصور کےا جاتا ہے۔ حضرت قائداعظمؒ نے ہمےشہ حضرت عمر فاروقؓ کے نظام سلطنت اور قانون کی عملداری کو ہمےشہ پسند کےا تھا۔ وہ فرماےا کرتے تھے کہ مجھے حضرت عمر فاروقؓ کا نظام سلطنت اور نظام انصاف زےادہ پسند ہے۔ اس کی وجہ بھی ےہی تھی کہ حضرت عمرؓ جن کے رعب و دبدبے اور خلافت کی شان وشوکت اور تمکنت سے قےصروکسریٰ کے درودےوار متزلزل ہوا کرتے تھے لےکن وہ رات کو اپنے کندھوں پر راشن ڈال کر گلےوں گلےوں پھرا کرتے تھے تاکہ ان کی رعاےا ان کی قوم کا کوئی فرد رات کو بھوکا نہ سوئے۔ مسجد مےں سر کے نےچے پتھر رکھ کرسوےا کرتے تھے اور کسی دہشت گرد ےا دشمن کا خوف نہےں ہوا کرتا تھا کےا ےہ تمام داستانےں ہمارے اسلاف کی نہےں ہےں کےا ےہ تمام حالات اور واقعات ہماری اسلامی اور قومی تارےخ نہےں ہے کےا ےہ سب کچھ شےکسپئر اور ملٹن کی شاعری کی داستانےں ہےں کےا ےہ ےورپ ےا امرےکہ کی تارےخ ہے نہےں بالکل نہےں اےسا نہےں ہے۔ ےہ سب اسلام اور مسلمانوں کی اسلامی اور تارےخی داستانےں ہےں ذرا موجودہ پاکستان کی طرف دےکھےں شرم وندامت سے آنکھےں جھک جائےں گی کےا ہم مسلمان کہلانے کے بھی حق دار ہےں۔
اللہ تعالیٰ نے نعمتوں اور برکتوں سے بھرا ملک عطا فرماےا ہے تو براہ کرم اس کی قدر بھی کرےں اور حضرت قائداعظم کے لئے ہر نماز مےں دو رکعت نفل ان کی روح پاک کے لئے ادا فرماےا کرےں پوری قوم کے تمام 18 کروڑ عوام اگر اےک ایک قدم پر لاکھ لاکھ سجدہ شکر بجا لائےں تو کم ہے وگرنہ بھارتی مسلمانوں کے احوال ملاحظہ فرمالےں اپنے پاک جغرافئے کی حفاظت اور نگرانی کے لئے اپنے20.20 کنالوں کے عالی شان محلوں سے باہر نکلےں اور تعمےرواستحکام پاکستان کا فرےضہ ادا کرےں وگرنہ حضرت علامہ اقبال کے تصرف کے ساتھ فرمان کے مطابق :
نہ سمجھو گے تو مٹ جاوو گے اے ”پاکستان“ والو
تمہاری داستان تک بھی نہ ہوگی داستانوں مےں