بسنت اُڑنت!

کالم نگار  |  توفیق بٹ

شکر ہے گورنر پنجاب جناب سلمان تاثیر نے بسنت منانے کا صرف اعلان کیا ۔گر اپنے اس اعلان کو عملی جامہ پہنا تے ہوئے بسنت منانے کااہتمام کرلیتے تو حکومت ِ پنجاب کو بھی اپنے اس اعلان پر عملی جامہ پہنانا پڑتا کہ اگر گورنر پنجاب نے کوئی ”ایسی حرکت“ کی تو اُنہیں گرفتار کر لیا جائے گا ۔عوام ایک اور” ڈرامہ“ دیکھنے کے منتظر تھے کہ گورنر پنجاب ٹھنڈے پڑگئے اور ابھی تک کی معلومات کے مطابق کہیں سرِعام ”گڈی “اُڑاتے ہوئے نہیں پائے گئے ۔ویسے وہ ایسی حرکت سرِ عام کر بھی لیں تو اُنہیں کیا فرق پڑتا ہے کہ وہ ایسا نہیں کریں گے تو پیپلز پارٹی کے گورنر پنجاب کیسے کہلائیں گے؟ پیپلز پارٹی نے اپنے مختلف ادوار میں ایسے ایسے گورنرز بنائے کہ گورنر ہاﺅس اُ ن ادوار میں ایک ”مخصوص علاقے“ سے زیادہ مشہور بلکہ بدنام ہوتا تھا ۔ اُن کے بنائے ہوئے ایک گورنر جو مختلف پارٹیوں کی خاک چھان چھان کر اب تقریباََخود بھی خاک میں ہو چکے ہیں کے زمانے میں تو گونر ہاﺅس کی شامیں اور راتیں اتنی رنگین ہوتی تھیں کہ اسے عیاشیوں اور بدمعاشیوں کا سب سے بڑا ”صوبائی اڈہ“ سمجھا جانے لگا تھا۔
ویسے ایک بات گورنر صاحب کی ہمیں بہت پسند ہے وہ اندر باہر سے ایک جیسے انسان ہےں اُنہوں نے کبھی نہیں کہا وہ پارسا ہیں نہ کبھی میلاد ےا اس نوعیت کی کسی اور ”مبارک محفل“ کا گورنر ہاﺅس میں اہتمام کیا ۔گورنر ہاﺅس کی محفلیں گورنر جناب سلمان تاثیر کی شخصیت اور طبیعت کے عین مطابق ہی ہوتی ہیں ورنہ کچھ گورنر ایسے بھی گزرے بلکہ گئے گزرے جو عشاءکی نماز گورنر ہاﺅس کی مسجد میں ادا کرنے کے فوراََ بعد ”نائٹ پروگرام“ شروع کردیتے تھے ۔صبح کسی محفل نعت کے مہمان خصوصی ہوتے اور شام کو محفل موسیقی کے موجودہ گورنر ایک ہی طرح کی محفلوں کا انعقاد کرتے ہیں اور شریک بھی ایسی ہی محفلوں میں ہوتے ہیں جو اُن کی شخصیت اور طبیعت کے عین مطابق ہوں۔ ویسے وہ اگر گورنر ہاﺅس کی چھت یا کوٹھے پر بسنت کا اہتمام کر بھی لیں تو اُن کا کوئی کیا بگاڑ سکتا ہے؟ ویسے بھی پنجاب کابینہ پیپلز پارٹی کے وزراءسے بھری پڑی ہے۔ کچھ صوبائی وزراءتو صدر مملکت کے اتنے لاڈلے نہیں جتنے وزیر اعلیٰ پنجاب کے ہیں ۔ ان حالات میں پیپلز پارٹی کے گورنر کو کسی نے کیا کہنا ہے؟ویسے بھی حال ہی میں پنجاب مےں حکمران پارٹی کے سربراہ جناب نواز شریف کے ساتھ گورنر جناب سلمان تاثیر کا ”تبادلہ گلدستہ“ بھی ہوا ہے ۔” ویلنٹائن ڈے “ پر جناب سلمان تاثیر نے نواز شریف کو اور جواباََ نواز شریف نے سلمان تاثیر کو گلدستہ بھجوا کر ثابت کر دیا کہ بسنت ویلنٹائن ڈے سے زیادہ بُرا دن ہے ۔ سوبات چل نکلی ہے اب دیکھیں کہاں تک پہنچے ؟ ممکن ہے کل کلاں جناب سلمان تاثیر مسلم لیگ ن کے گورنر پنجاب ہوں کہ جنرل مشرف کے گورنر پنجاب ہونے کے بعد وہ پیپلزپارٹی کے گورنر پنجاب ہو سکتے ہیں تو پیپلز پارٹی کے گورنر پنجاب ہونے بعد ن لیگ کے گورنر پنجاب کیوں نہیں ہو سکتے ؟ سیاست میں کون سا ضمیر وغیرہ ہوتا ہے کہ سیاستدان کسی عمل پر شرمندگی محسوس کریں!
بسنت ایک ہندو کی ےاد میں منایا جانے والا ہندوانہ تہوار ہے ۔ سابقہ جرنیل حکمران نے اس تہوار کی جتنی پذیرائی کی اب پاکستان میں اُسے اُسی کی یاد میں منایا جانے والا تہوار کہا جائے تو زیادہ مناسب ہو گا ۔مگر افسوس پاکستان میں اُس جرنیل حکمران کو یاد کرنے والا کوئی نہیں تو اُس کے تہوار کویاد کرنے والا کون ہو گا؟مجھے یاد ہے اُس کے دور کے آخری دنوں میں منائے جانے والے ”جشن بسنت“ میں صرف لاہور میں 22 انسانی جانیں ضائع اور تقریباََ 13ارب روپے ہو ا کی نذر ہوئے تھے ۔ صد شکر اُس کا دور ختم ہو گیا ورنہ پاکستان کی شناخت دنیا میں صرف بسنت کے حوالے سے ہی باقی رہ جاتی۔ اُس کے دور میں بسنت کے موقع پر لاہور کے کچھ کوٹھے اتنے آباد ہوتے تھے کہ پورے شہر پر ایک” مخصوص علاقے“ کی چھاپ دکھائی دیتی۔لاہور کی جتنی بدنامی اُس دور میں ہوئی شاید ہی کسی دور میں ہوئی ہو گی۔ بسنت کے موقع پر دوسرے شہر وں سے تعلق رکھنے والے کچھ عیاشوں اور بدمعاشوں نے بھی لاہور کوایک” مخصوص علاقہ“ سمجھ لیا تھا۔ تب اسے ”زندہ دلانِ لاہور“ کہا جانے لگا تھا۔شکر ہے پنجاب کے موجودہ حکمران جناب شہباز شریف نے بسنت پر سخت اقدامات کر کے ایسے ناپاک تاثرات سے شہرکومکمل طور پر پاک کر دیا ۔ میرے خیال میں تو سابقہ جرنیل حکمران کی عدلیہ کے ساتھ دشمنی کا آغاز اسی بات پر ہو ا ہو گا کہ ایک عدالتی حکم کے تحت بسنت پر پابندی عائد کر دی گئی تھی۔ ویسے تو اس دور میں اس عدالتی حکم کا بھی وہی حشر ہوا جو دوسرے عدالتی احکامات کا ہوتا رہا مگر اس حکم کوسابقہ جرنیل حکمران نے ”پرسنل“لے لیا تھا۔ جیسے عدلیہ نے بسنت کے بجائے اس بات پر پابندی لگا دی ہو کہ آئندہ کوئی جرنیل اقتدار پر قبضہ نہیں کرے گا!
بہرحال با وردی حکمران کی باقیات اور بے وردی حکمران کی حالیات نے بسنت منانے کی ضد نہ کر کے عوام پر جو احسان کیا اُس پر ہم سب کو اُن کا شکر گذار ہونا چاہیے ورنہ اُمید یہی بندھی تھی کہ پنجاب حکومت اور عدلیہ کے اس عوام دوست فیصلے کے خلاف بھی وہ اُسی طرح رکاوٹ بنیں گے جیسے ہمیشہ بنتے ہیں ۔ اور اس بات پر بھی ہم اپنے اللہ پاک کا شکر ادا کرتے ہیں کہ بسنت سابقہ جرنیل حکمران کا” پسندیدہ تہوار“ تھا۔ اُس کا پسندیدہ نہ ہوتا تو شاید اتنی سختی بھی نہ ہوتی جتنی ہوئی ہے ۔جس کے نتیجے میں اب کے بار کئی معصوم جانیں ضائع ہونے سے بچ گئیں۔ عقل مندوں کیلئے اشارہ کافی ہے اور بے عقلوں کیلئے بسنت!