ایٹمی سلامتی سربراہ کانفرنس اور پاکستان

ڈاکٹر شیریں مزاری ..........
صدر اوباما نے اس سال 12-13 اپریل کو واشنگٹن میں ایٹمی سکیورٹی سربراہ کانفرنس بلائی ہے جس میں 40 سے زائد ممالک کے سربراہان کی شرکت متوقع ہے۔ اس کانفرنس کا انعقاد اوباما کی گذشتہ سال 5 اپریل کو پراگ میں کی جانے والی اس تقریر کے حوالے سے ہو رہا ہے جس میں انہوں نے ہتھیاروں پر کنٹرول اور ایٹمی عدم پھیلاؤ کے اپنے مقاصد کے خدوخال بیان کئے تھے جن میں ایٹمی دہشت گردی سرفہرست ہے۔
اس وقت امریکہ میں ایک ایسی لابی تقویت پا رہی ہے جو سمجھتی ہے کہ اوباما ایٹمی ہتھیاروں میں کٹوتی اور خاتمے کے بارے میں جو وعدے کر رہے ہیں وہ طویل المیعاد امریکی مفادات کیلئے خطرناک ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اوباما بطور صدر کام شروع کرنے کے بعد سے اس میدان میں اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے کیلئے کوئی قابل ذکر پیش رفت نہیں کر سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ اب تک ان کی خارجہ پالیسی ٹھوس اقدامات کے حوالے سے اپنے پیش رو سے زیادہ مختلف نہیں۔ اس سربراہ کانفرنس میں صدر پاکستان بھی موجود ہوں گے ایسے موقع پر پاکستان کو ایٹمی سکیورٹی پر ایک پالیسی تشکیل دینے کی ضرورت ہے جس کے تحت مستقبل میں پاکستان کے مفادات کو یقینی بنانا جاسکے کوئی توقع نہیں کرتا کہ اس کانفرنس میں مغرب کی طوفانی لہر کے سامنے صدر زرداری ایک مضبوط قوم پرستانہ مؤقف اپنائیں گے لیکن ہم کم سے کم یہ اجاگر ضرور کر سکتے ہیں جو کرنے کی ضرورت ہے اور امید قائم رکھ سکتے ہیں اوباما نے عدم پھیلاؤ کے مقاصد میں جو چار اہم پوائنٹس رکھے ہیں ان پر ہمیں اپنی توضیحات کی تیاری کے کام کا آغاز کر دینا چاہئے جو ماحول ہمارے سامنے آیا ہے‘ وہ ایٹمی سکیورٹی کیلئے اقوام متحدہ طرز کا بین الاقوامی فریم ورک نہیں بلکہ یہ امریکی قیادت والا فریم ورک ہے جس میں امریکہ بڑی مضبوطی کیساتھ ڈرائیونگ سیٹ پر موجود ہے۔
اس صورتحال میں پہلی چیز پاکستان کو یہ کرنی چاہئے کہ اس نظریہ پر حمایت حاصل کی کہ ایسا کوئی بھی فریم ورک اقوام متحدہ کے فریم ورک کے دائرے میں ہونا چاہئے اور اس نظریہ کی حمایت ترقی پذیر ممالک کے مابین پیدا کی جا سکتی ہے جو اس سربراہ کانفرنس کی کامیابی کیلئے فیصلہ کن اہمیت کے حامل ہیں۔ اسکے بعد اوباما کا ایجنڈا یہ ہے جس کا آغاز اس خواہش سے ہوتا ہے کہ اس زیر قیادت عالمی سطح پر کوشش کی جائے کہ 4 سالہ ٹائم فریم کے اندر جو بطور صدر اوباما کی میعاد ہے غیر محفوظ مقامات پر موجود تمام غیر محفوظ ایٹمی ہتھیار ساز مواد کو محفوظ بنایا جائے‘ اب واضح طور پر پاکستان کو اس حوالے سے نشانہ بنایا جائیگا لیکن ہمیں ان حقیقی غیر محفوظ مقامات کی نشاندہی کرنا ہوگی جو درحقیقت امریکہ کے اندر ہیں۔
اس سلسلے میں امریکی فضائیہ کے اس طیارے کا حوالہ دیا جا سکتا ہے جس نے قابل استعمال ایٹمی ہتھیاروں کیساتھ پرواز کی اور کوئی نہیں جانتا تھا کہ اسے یہ اختیار کس نے دیا اور یہ کہاں جا رہا ہے لہٰذا امریکہ کی کمانڈ اینڈ کنٹرول کے بارے میں یہ بڑے سنگین سوالیہ نشانات ہیں اور جب تک انہیں کلیئر نہیں کیا جاتا امریکہ کے ایٹمی مقامات کو اضافی بین الاقوامی نگرانی میں رکھنے کی ضرورت ہے مزید براں اس سربراہ کانفرنس میں پاکستان کو یہ مطالبہ بھی کرنا چاہئے کہ ماضی کے تمام ’لوز نیوکس‘ کے واقعات کا جائزہ لیا جائے اور پھر انتہائی غیر محفوظ اور متوقع حادثات والے مقامات کو محفوظ بنایا جائے۔ بلاشبہ پاکستان میں کبھی بھی ایسے واقعات نہیں ہوئے لہٰذا ہمیں یہ بات یقینی بنانی چاہئے کہ ہمارے ایٹمی مقامات اس کانفرنس میں زیر بحث نہ آئیں اگرچہ یہ امریکی ایجنڈا کا حصہ ہونگے۔
پراگ میں کی گئی تقریر کیمطابق اوباما حساس ایٹمی مواد کی حفاظت کیلئے نئے شراکت داروں اور نئے معیاروں کی تلاش میں ہیں بالکل بجا اگر اوباما اس مقصد کے حصول میں حقیقتاً پرخلوص ہیں تو انہیں سب سے پہلے بھارت کیساتھ سمجھوتہ 123 کے تحت کی گئی ایٹمی ڈیل کو ختم کر دینا چاہئے کیونکہ اس سے ایٹمی ہتھیار سازی کے مقاصد کیلئے ایٹمی مواد کو تبدیل کرنے کا سکوپ وسیع ہوا ہے اور بھارت کو فیسائل میٹریل کو مزید ایٹمی ہتھیاروں کی تیاری کیلئے استعمال میں لانے کی آزادی ملی ہے اب تک امریکہ نے بھارت کیساتھ اس ڈیل کے ذریعے اور اسرائیل کیساتھ ایٹمی پھیلاؤ جاری رکھنے پر ایٹمی مواد کی حفاظت کیلئے مراجعتی معیارات ہی قائم کئے ہیں لہٰذا امریکہ کو ایسے نئے معیارات کی جانب پیش رفت کرنے کی ضرورت ہے۔ جس سے حقیقی معنوں میں عدم پھیلاؤ کو یقینی بنایا جا سکے۔ بہت سے ممالک اس معاملے میں امریکہ کیساتھ غیر امتیازی شراکت داری میں شمولیت کیلئے تیار ہونگے۔
اوباما یہ بھی چاہتے ہیں کہ اس میں شامل اتحادوں کو پرالیفریشن سکیورٹی اینیشی ایٹو (پی ایس آئی) اور گلوبل ایفرٹ ٹو گمبیٹ ٹیررازم جیسے بین الاقوامی اداروں کی شکل میں تبدیل کیا جائے۔ پی ایس آئی کو یقینی طور پر تمام ممالک کیلئے کھلا ہونا چاہئے لیکن پاکستان کیلئے اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ اس سے سمندری سمجھوتوں کے قانون میں مداخلت نہ کی جائے جہاں تک گلوبل ایفرٹ ٹو کمبیٹ نیوکلیئر ٹیررازم کا تعلق ہے تو پہلے ہی فزیکل پروٹیکشن آف نیوکلیئر میٹریل ٹیریٹی جیسے بین الاقوامی معاہدے موجود ہیں آخر انہیں ہی کیوں نہ مضبوط بنایا جائے؟
مزید براں عدم پھیلاؤ معاہدے پر نظرثانی کانفرنس مئی میں منعقد ہو رہی ہے اور وقت آ گیا ہے کہ این پی ٹی کو موجودہ زمینی حقائق کے مطابق بنایا جائے جن میں دو واضح طور پر ایٹمی ہتھیار رکھنے والے ملکوں کو شامل نہیں کیا گیا۔ جہاں تک ایٹمی بلیک مارکیٹس کو توڑنے اور اس تجارت کو ختم کرنے کیلئے فنانشل ٹولز کے استعمال کیلئے کوششیں کرنے کی خواہش کا تعلق ہے اس کیلئے بھی کوآپریٹو انٹرنیشنل فریم ورک درکار ہے جس میں کسی ملک یا عوام کو نشانہ نہ بنایا جائے جیسا کہ پاکستان بنتا جارہا ہے۔ مزید یہ کہ نام نہاد ’خان نیٹ ورک‘ بنیادی طور پر یورپیوں اور جنوب مشرقی ایشیائیوں پر مشتمل تھا لیکن نشان صرف پاکستان اور ڈاکٹر خان کو بنایا گیا جب تک اس ایشو سے سیاست کو نہیں نکالا جاتا اس وقت تک ایسی کوئی حقیقی پیش رفت نہیں ہو سکتی جس کے تحت خفیہ ایٹمی مواد کی منتقلی کی تجارت روکنے کیلئے حقیقی معنوں میں کوئی پائیدار فریم ورک قائم کیا جائے۔
اس سے بھی آگے پاکستان کو بعض ایسی فعال تجاویز پیش کرنے کی ضرورت ہے جو وسیع تر ایٹمی سکیورٹی یقینی بنا سکیں پہلی تجویز ٹیکنالوجیز کی بین الاقوامی دستیابی پر مرتکز ہونی چاہئے جسکے تحت شرائط عائد کئے بغیر ایٹمی ہتھیاروں اور مقامات کی سکیورٹی بڑھائی جا سکے مزید برآں دہشت گردی کی بنیادی وجوہات کو سمجھے بغیر محض ایٹمی دہشت گردی کے خطرے سے نمٹنے کی کوششیں بے سود ہونگی۔ اس ایشو کو امریکہ اور بھارت کے ایٹمی ہتھیاروں کے استعمال میں پہل کرنے کے نظریہ کی حقیقت سے منسلک کرنے کی ضرورت ہے جس کا اظہار یو ایس باسچرزیویو میں شائع مواد اور چھوٹے ایٹم بموں کی تیاری کے فیصلے اور بھارت کے ایٹمی ڈاکٹرائن سے بھی ہوتا ہے ایسے ممالک جب تک حقیقی معنوں میں اپنے جارحانہ ایٹمی نظریات تبدیل نہیں کرتے اس وقت تک یہ ممالک عالمی سطح پر اس سوچ کو تقویت پہنچائیں گے کہ ایٹمی ہتھیار فوجی لحاظ سے مؤثر ہیں کچھ ڈیٹرنس پہلے ختم کر دی گئی جبکہ کچھ بش جونیئر نے ختم کردی اور اس وقت سے امریکی سٹریٹجک سوچ کے حوالے سے اسے بحال نہیں کیا گیا۔
پاکستان کو ایف ایم سی ٹی پر امریکی پوزیشن پر نظرثانی کا مطالبہ کرنے کی بھی ضرورت ہے خصوصی طور پر بین الاقوامی تصدیق اور سب سے اہم موجودہ ایٹمی ذخائر میں کمی اگر عالمی سطح پر ایٹمی سکیورٹی قائم ہوتی ہے تو فیسائل میٹریل ٹریٹی کے وجود میں آنے سے پہلے موجود ایٹمی ہتھیاروں کے ذخائر میں کمی لانا ہوگی۔ بہت سے دیگر نظریات بھی ہیں جو پاکستان تشکیل دے سکتا ہے اور سربراہ کانفرنس میں دنیا کو یہ آئیڈیا دینے کیلئے پیش کر سکتا ہے کہ ایک ایٹمی طاقت ہونے کے ناطے ہم ایٹمی سکیورٹی ایشوز پر کیا سوچ رکھتے ہیں۔ پاکستان کا ان تمام پوائنٹس اور اسکی اپنی ریڈ لائنز پر دو ٹوک مؤقف ہونا چاہئے تاکہ واشنگٹن میں کوئی ایڈہاک کمپرومائزز اثر انداز نہ ہوسکیں۔ امریکی پہلے ہی نام نہاد غیر سرکاری چینلوں کے ذریعے دباؤ ڈال رہے ہیں جلد ہی ایک امریکی تھنک ٹینک کی رو پاکستان اور اس کے ایٹمی پروگرام مخالف شخصیات … پر آنیوالی ہیں جن کے نام مائیلی کرپن اور جارج پرکووچ ہیں۔ ہماری اسٹیبلشمنٹ ان کا محض اس لئے بے چینی سے انتظار کر رہی ہے کہ وہ بھارت امریکہ ایٹمی ڈیل پر تنقید کرنے والوں میں پیش پیش تھے جو بات فراموش کردی گئی وہ یہ ہے کہ یہ دونوں پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو مسلسل ہدف بناتے رہے ہیں۔ امریکیوں کی تمام چیزوں کو گلے لگا لینا ہی ہمارا جذبہ اور خواہش ہے ہمیں توقع کرنی چاہئے کہ واشنگٹن کی سربراہ کانفرنس سے پہلے ہم خود کو اس خطرناک سادہ لوحی سے بچا لیں گے۔