”شکنجہ“؟

کالم نگار  |  فہمیدہ کوثر

عالمی مالیاتی اداروں نے ہماری معیشت کو استحکام دینے کی بجائے اس مقام پر لا کھڑا کیا ہے کہ ہم قرضوں کی دلدل میں دھنستے چلے جا رہے ہیں۔ بجائے اسکے کہ ہم مستقل اور ہنگامی بنیادوں پر روبہ زوال معیشت کو سنبھالا دینے کیلئے متوازن اقتصادی منصوبہ بندی کریں۔ ہم بار بار ان اداروں کا دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں اور نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ پاکستان جیسے ملک جس کی اکانومی دگرگوں حالات کا شکار ہے پر سخت شرائط عائد کر دی جاتی ہیں۔ ان سخت شرائط میں شرح سود میں اضافہ، سبسڈی ختم کرنے کا مطالبہ، بجٹ خسارے کا بنا بنایا حل یعنی اخراجات میں کمی اور بجٹ خسارے میں کمی کیلئے اختیار کئے جانیوالا طریقہ کار، یہ وہ رٹے رٹائے اصول ہیں جن کے تحت آئی ایم ایف قرض جاری کرتا ہے۔ ان اصولوں کے نفاذ سے اس ادارے کے درست اقدامات کے بھی منفی نتائج پیدا ہوتے ہیں۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آئی ایم ایف 0.5 فیصد شرح پر سود دیتا ہے جبکہ آزاد منڈی میں ڈالر کی شرح 3 فیصد سے چار فیصد ہوتی ہے۔ اس قدر کم شرح سود پر بھی مقروض ملک مزید قرض کی دلدل میں کیوں دھنستے چلے جاتے ہیں۔ ایک ماہر معیشت دان لکھتا ہے۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آئی ایم ایف 0.5 فیصد شرح پر سود دیتا ہے جبکہ آزاد منڈی میں شرح 3 فیصد سے چار فیصد ہوتی ہے۔ اس قدر کم شرح سود پر مقروض ملک مزید قرض کی دلدل میں دھنستے چلے جاتے ہیں۔ ایک ماہر معیشت دان لکھتا ہے۔
”پاکستان اب تک جتنی رقم بین الاقوامی اور مالیاتی اداروں سے حاصل کر چکا ہے اس سے کم رقم دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاری کے بعد یورپی ممالک کو امریکہ کی طرف سے قرض دی گئی تھی۔ یورپی اقوام نے اس رقم کا ”درست استعمال“ کرتے ہوئے اپنے مسائل پر قابو پا لیا جبکہ ہم قرضوں کی دلدل میں دھنستے چلے گئے“ ۔آئی ایم ایف پر دنیا بھر میں شدید نکتہ چینی ہوتی رہی اور عام تاثر یہ پایا جاتا ہے کہ ایسے اداروں کا مقصد یہ ہے۔
-1 غریب ممالک کا استحصال۔-2 قرضوں کے جال میں اس قدر الجھا دینا کہ وہ ترقی نہ کر سکیں اور انکے محتاج رہیں۔-3 وسائل کو ترقی پذیر ممالک سے ترقی یافتہ ممالک میں منتقل کرنا۔-4 سامراجی دنیا کے مفادات اور تحفظات۔
اگر ہم آئی ایم ایف کے Structrual Adjustment Programe کا جائزہ لیں تو یہ تلخ حقیقت سامنے آتی ہے کہ گزشتہ پچیس سالوں میں آئی ایم ایف کی غلط ترجیحات نے مسلم ممالک ہی نہیں غیر مسلم ممالک کو نچوڑ کر رکھ دیا۔عالمی مالیاتی فنڈ کی طرف سے متعین کردہ اصول ہماری پالیسیوں کو مستحکم کرنے کی بجائے کمزور کرتے چلے جاتے ہیں۔ مثلاً ہمارے ہاں اکثر بجٹ خسارہ کم کرنے کیلئے غیر ترقیاتی اخراجات کی بجائے ترقیاتی اخراجات کم کر دئیے جاتے ہیں جس سے معاشی ترقی میں تعطل آ جاتا ہے۔ خسارے میں کمی کیلئے اکثر نرخ بڑھا دئیے جاتے ہیں جس سے عوام اور معیشت کا دیوالیہ نکل جاتا ہے۔ ہمیشہ سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ یہ ادارے غریب ممالک کو قرض کے جال میں پھانستے ہیں ان سے سود در سود وصول کیا جاتا ہے اور پھر یہ ادارے ان غریب ممالک کی داخلی اور خارجی پالیسیوں میں مداخل شروع کر دیتے ہیں۔ امریکہ نے اسی ادارے کے ذریعے غریب ممالک پر اپنی خارجہ پالیسی مسلط کرنے کا طریق کار شروع کر رکھا ہے۔ یہ ادارے نہیں چاہتے کے پسماندہ ممالک ترقی کر سکیں۔ ہماری حکومتیں ہمیشہ سے ہی سیاسی اور داخلی مسائل اور اپنے مفادات کے ہاتھوں اتنی بے بس رہی ہیں کہ نہ تو بہتر اقتصادی منصوبہ بندی سامنے لا سکیں اور نہ ہی غیر ترقیاتی اخراجات میں کمی کی جرات کر سکیں بلکہ ہمیں الٹا یہ نقصان ہوا کہ آئی ایم ایف کی سنگین شرائط پر عملدرآمد کرنے سے ہماری ترقی کی رفتار رک گئی۔ ان اداروں کی اقتصادی اور انسانی ترقی کے بارے میں پالیسیاں اتنی ناقص ہیں کہ انکے براہ راست اثرات پاکستان کی معیشت پر مرتب ہوئے۔ بجائے اسکے کہ یہ ادارہ اس بات پر زور دیتا کہ غیر ترقی یافتہ اخراجات میں کمی کریں اور ایسے ٹیکسوں میں اضافے کے ذریعہ بجٹ خسارہ کم کریں کہ عوام پر بوجھ نہ پڑے لیکن معاملہ اسکے بالکل برعکس ہوا۔ ان عالمی مالیاتی اداروں کی طرف سے عائد کردہ شرائط ملکی معیشت کو زوال کی طرف پہنچانے کیلئے شدید جھٹکا ثابت ہو سکتی ہیں۔ ہمیں اس وقت اس اقتصادی منصوبہ بندی کی ضرورت ہے جس کے تحت نہ صرف زرمبادلہ کے ذخائر بڑھائے جائیں بلکہ صنعتی اور زرعی شعبہ کی طرف بہتر پالیسی مرتب کی جائے۔ کسی بھی معیشت کی اصل توانائی اس کا پیداواری شعبہ ہوتا ہے جو بحران کا شکار ہو جائے تو محصولات کے ذریعہ اقتصادی بحالی کی کوششیں ناکام ثابت ہوتی ہیں۔اقتصادی منصوبہ بندی کے تحت زرعی پالیسی اور مالیاتی پالیسی نمایاں کردار ادا کرتی ہیں۔ مالیاتی پالیسی کے تحت اگر روزگار بڑھانا ہو تو حکومت غیر ترقیاتی اخراجات میں اضافے کے ساتھ محصولات کی شرح کم کرتی ہے اور زرعی پالیسی کاروباری سرگرمیوں کے فروغ کیلئے شرح سود کم کرتی ہے۔ مخصوص حالات کے تحت دونوں پالیسیوں کا استعمال معاشی ترقی کیلئے ناگزیر ہو جاتا ہے۔ پاکستان کو غربت کی پاتال سے نکالنے کیلئے قوت بازو پر بھروسے کے ساتھ ساتھ سیاسی ترجیحات میں تبدیلی ناگزیر ہے تاکہ بنجر معیشت کو بارآور کیا جا سکے اور اس کیلئے قوت بازو پر بھروسہ کیساتھ ساتھ ملکی وسائل سے استفادہ کرنا ضروری ہے تاکہ عزت مند طریقے سے زندگی گزاری جا سکے۔