چین سے اچھی خبریں آ رہی ہیں

کالم نگار  |  محمد مصدق

پاکستان کے خوش قسمت وزیراعظم محمد نواز شریف اپنے وفد کے ساتھ چین پہنچ چکے ہیں اور وہاں ان کا پرتپاک استقبال کیا گیا ہے۔ پرنٹ کے علاوہ الیکٹرونک میڈیا نے بھی بھرپور کریج دی۔ چین کے سب سے بڑے انگریزی زبان کے چینل CCTV نے تو باقاعدہ ایشیا ٹوڈے میں بھی نواز شریف کے دورہ چین کو خصوصی کوریج دی۔ پاکستان میں تو وزیر اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف نے اس دورے کو بہت اہم اور دورس نتائج کا حامل قرار دیا تھا لیکن چینی ٹی وی کے کمنٹیٹرز بھی یہی بات کہہ رہے ہیں۔ ایک روز پہلے چین کی زیر زمین میٹرو ریلوے کے دورے کے بعد جب محمد نواز شریف اپنے تاثرات کا اظہار کر رہے تھے تو ایک حیرت انگیز بات دیکھنے میں آئی کہ مشہور ہے کہ وہ اپنے جذبات چھپا لیتے ہیں لیکن میٹرو ٹرین کی کارکردگی نے اتنا حیرت انگیز اثر پیدا کیا کہ محمد نواز شریف کے چہرے پر حیرت کے تاثرات اتنے گہرے تھے کہ کوئی ایکٹر بھی اگر اس کی نقل اتارنا چاہے تو ناممکن ہے۔ سید مشاہد حسین نے تو ایک ٹی وی ٹاک شو میں مسکراتے ہوئے کہا ”چین کے دورے میں محمد نواز شریف پہلی بار مسکراتے ہوئے نظر آئے اور بہت اچھے لگے ”ویسے سید مشاہد حسین کا مشاہدہ درست ہے کہ کسی نے مسکراتے ہوئے لیڈر کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ اپنے چہرے پر ہر وقت سنجیدگی طاری کرکے رکھیں اس طرح ان کا تاثر عظیم لیڈروں جیسا مرتب ہو گا لیکن حقیقت یہ ہے کہ لیڈر اگر اپنے جیسے انسانوں میں ان جیسا نظر نہیں آئے گا تو پھر وہ بت بن جائے گا لیڈر باقی نہیں رہے گا۔
محمد شہباز شریف پر بہت تنقید کی جاتی تھی کہ انہوں نے میٹرو بس سروس سڑک سے اوپر بنائی اور سابقہ حکومت کی زیر زمین میٹرو ٹرین چلانے کے منصوبے کی افادیت کو محسوس نہیں کیا۔ اب چین میں میٹرو ٹرین میں سفر کرنے کے بعد یقین سا ہوتا جا رہا ہے کہ وہ بہت جلد میٹرو ٹرین پاکستان میں بھی دوڑتی ہوئی نظر آئے گی۔ ذرائع نقل وحمل جتنے ترقی یافتہ ہوں گے اتنی ہی معاشی ترقی کی رفتار تیز ہو گی۔ چین کے بارے میں بے شمار پاکستانیوں کا تاثر یہ ہے کہ کیونکہ چین پاکستان کا بہت قریبی دوست ہے اس لئے وہ فوراً پاکستان کی مدد کرے اور اسے انرجی سمیت دوسرے مسائل سے نکالے۔ اس میں واقعی کوئی شک نہیں کہ دنیا کی دوسری ترقی یافتہ قوم چین کے پاس زرمبادلہ کے وافر ذخائر سرمایہ کاری کے لئے موجود ہیں اور امریکہ سمیت بے شمار مغربی ممالک میں بھی چین کی سرمایہ کاری موجود ہے۔ پاکستان میں اگرچہ سرمایہ کاری کا وہ حجم نہیں ہے جو ہونا چاہئے چینی قوم کی کوشش یہ ہوتی ہے کہ دوست کو دوست کی صلاحیتوں کے ساتھ اپنے پاﺅں پر کھڑا کیا جائے۔ اس کا سبب ایک چینی کہاوت ہے جس پر چینی بہت زیادہ یقین کرتے ہیں۔ کہاوت ہے کہ اگر آپ نے کسی کو مچھلی پکڑ کر کھلا دی تو آپ نے اس کی ایک دن کی بھوک مٹا دی لیکن اگر آپ نے کسی کو مچھلی پکڑنے کا طریقہ بتایا تو اس کی زندگی بھر کی بھوک مٹا دی۔ چین درحقیقت یہی چاہتا ہے کہ پاکستان ایرے غیرے نتھو خیروں سے مانگتا نہ پھرے بلکہ اپنی ذہانت اور محنت کے ساتھ پاکستان کو معاشی طور پر ایک مضوبط ملک بنائے۔
محمد نواز شریف کے دورے کی بنیاد اس بار یہی اہم نکتہ ہے کہ پاکستان نے کشکول توڑنا ہے کیونکہ پوری زندگی آپ آکسیجن ٹینٹ میں بسر نہیں کر سکتے۔ بے شمار منصوبوں کو حتمی شکل دی جائے گی اور سرمایہ کاری کے معاہدے بھی ہوں گے لیکن سب سے اہم منصوبہ (انرجی منصوبوں کو چھوڑ کر) کاشغر سے براہ راست خنجراب گوادر تک روڈ اور ریلوے کی تعمیر کا منصوبہ ہے جو پاکستان کی معاشی ترقی کے دروازے کھول دے گا۔ سلک روڈ بھی پاکستان چین دوستی کا ماسٹر پیس پراجیکٹ ہے لیکن مجوزہ پراجیکٹ ہر لحاظ سے سٹیٹ آف دی آرٹ منصوبہ ہے۔ اس منصوبے میں تھوڑا سا اضافہ ضرور ہونا چاہئے۔ پاکستان میں اس وقت بے روزگاری کا مسئلہ بہت سنگین صورت اختیار کر چکا ہے اور یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ امن و امان کی خراب صورتحال کے پیچھے پاکستان کے دشمنوں کا ہاتھ ضرور ہے لیکن وہ صرف اس لئے کامیاب ہیں کہ بے روزگاری کی وجہ سے وہ اپنی جان سے بھی عاجز آ چکے ہیں اس لئے خودکش حملہ آور بھی بننا پسند کر لیتے ہیں۔ اگر کاشغر سے خنجراب اور پھر وہاں سے گوادر تک انڈسٹریل زونز تعمیر کرکے انہیں ہر قسم کے ٹیکسوں سے مبرا کر دیا جائے اور سرمایہ کاری کرنے والوں سے بھی نہ پوچھا جائے کہ سرمایہ کہاں سے آیا ہے تو نہ صرف بے روزگاروں کی بہت بڑی تعداد کو کھپایا جا سکتا ہے بلکہ معاشی ترقی کی رفتار بھی تیز ہو جائے گی۔