پاکستان کی معیشت ....بھنڈر سنگھ اور اسحق ڈار

کالم نگار  |  رائے ریاض حسین

میاںنواز شریف ایک مضبوط اور تجربہ کار ٹیم کے ساتھ تقریباً دو تہائی اکثریت سے تیسری بار وزیراعظم بنے ہیں ، پاکستانی عوام نے بہت سے جذباتی نعروں اور بلند بانگ دعوﺅں کوچھوڑ کر میاں صاحب کو اس لئے ووٹ دیا ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ ملک میںمعاشی بہتری صرف نواز شریف ہی لاسکتے ہیں ، معاشی حالات کو درست کرنے کےلئے نواز شریف نے اسحق ڈار کو آگے کیا ہے۔ ادھر عوام کی امیدیں بھی بہت ہی زیادہ ہیں ۔ پاکستان کے عوام بلکہ ہندوستان کے عوام بھی نواز شریف کے 1990ءسے 1993ءاور 1997ءسے 1999ءکے دونوں ادوار دیکھ چکے ہیں اور اس وقت کی معاشی رفتار اور ترقی کو دوبارہ دیکھنا چاہتے ہیں ۔ عام آدمی کس طرح سے ترقی اور خوشحالی کو ماپتا ہے اس کا مظاہرہ میں نے بھارت کے شہر لدھیانہ میں بابا بھنڈر سنگھ کی سبق آموزر باتوں سے دیکھا ۔ بابے بھنڈر کی کہانی کچھ یوں ہے ؛۔ہندوستان کی پوسٹنگ کے دوران دلّی سے پاکستان آتے ہوئے زمینی راستے سے آنے کی سہولت حاصل تھی جس کا میں نے بھرپور فائدہ اٹھایا اس سے پڑوسی ملک کے لوگوںاور انکے رہن سہن کا پتہ بھی چلا اور بہت سے اسر ارو رموز بھی وا ہوئے ۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پنجاب کے سکھوں سے ملنے کا بھرپورموقع ملتا تھا ۔
دلّی سے صبح چار بجے سڑک کے ذریعے چل کر ہم آٹھ بجے سے پہلے پہلے کرنال ، پانی پت اور سونی پت کراس کر لیتے تھے ۔ اس کے بعد بے ہنگم رش شروع ہو جاتا اور لدھیانہ پہنچتے پہنچتے نو بج جاتے تھے ،یوں لدھیا نہ ہمارا پہلا سٹاپ اوور بنا اور لدھیانہ کے سکھوں سے دوستی کا آغاز ہوا ۔ سکھوں کے ساتھ بھی ہمارے تعلقات عجیب نوعیت کے ہیں ۔ پاکستان کے قیام کے وقت سب سے زیادہ ما ردھاڑ سکھوں نے کی ،لیکن اب ہندو لالے اور بنیئے کے ساتھ رہنے کے بعد انہیںبھی فرق صاف نظر آگیا ہے ۔ اب جہاں بھی ہمیں کوئی سکھ ملے گا تو نہایت گرم جوشی اور محبت سے ملے گا ۔ ہڈالی (ضلع خوشاب) کے رہنے والے خوشونت سنگھ نے اپنی کتاب ” ٹرین ٹو پاکستان “ میں جو کہانی بیان کی ہے اس میں بھی سکھوں اور مسلمانوں کو ہندوﺅں کی نسبت قریب تر دکھایا ہے یہی وجہ ہے کہ لدھیانہ میں سکھوں سے ہماری بہت دوستی ہوگئی اور ان کی خاطر تواضع اور گرم جوشی بھی ہمیشہ دیدنی تھی ۔
اس دوران سب سے زیادہ دوستی گوجرانوالہ سے منتقل ہونے والے ایک بھنڈر خاندان سے ہوگئی۔ خاندان کا سربراہ بابا بھنڈر بڑی زبردست شخصیت کے مالک تھے ۔ جب پاکستان بنا تو وہ 25سال کے نوجوان تھے ۔پہلی ہی ملاقات میں انہوں نے مجھ سے کڑک دار کراری آواز میں پوچھا ”اوئے کاکا ساڈے پاکستان دا کی حال اے“ ان کے بیٹوں نے بتایا کہ یہ پاکستان کو ”ساڈا پاکستان “کہتے ہیں ۔چونکہ میں نیا نیا منسٹر پریس بن کر ہندوستان گیا تھا اسلئے میں نے فوراً سرکاری بیان شروع کردیا۔ میں نے پُرجوش انداز میں تقریر شروع کی ۔ ”پاکستان کی معاشی حالت بہت ہی اچھی ہے۔ایئرپورٹ زبردست ہیں ، موٹروے کا تو جواب نہیں ، ہر شخص خوشحال ہے بلکہ میری طرح ہٹا کٹا اور موٹا تازہ ہے“ ۔ میری جوشیلی اور مبالغہ آمیز اونچی آواز میں گفتگو کے دوران میں نے محسوس کیا کہ بابا دھیرے دھیرے مسکرارہا ہے ، مجھے فوراً اندازہ تو ہوگیا کہ میں نے بابے کی سمجھ بوجھ اور معاملہ فہمی کا اندازہ لگائے بغیر بچگانہ حرکت کی ہے ، لیکن میں نے سوچا کہ اب بونگی ماردی ہے تو چلنے دو دیکھا جائے گا ۔ جب میں پورے دل کی بھڑاس نکال چکا تھا تو بابابھنڈر دھیرے سے مسکرائے اور آہستگی سے انہوں نے ایسی بات کہی کہ میرے اوپر گھڑوں پانی پڑ گیا ۔ بابے بھنڈر نے کہا ” اوئے تو کہندا ایں ، پاکستان دا حال بڑا اچھا اے ، اوئے میں 1993ءوچ پاکستان گیاں ساں ، تے اودوں مینوں ہندوستان دے سو روپے دے پاکستانی ستر روپے ملے سن ، تے ہن 2006ءوچ گیاں ساں تے مینوں ہندوستانی سو روپے دے پاکستانی اک سو تری(130) روپے ملے ، توںکہناں ایں فیر وی پاکستان دا حال اچھا اے “۔
 میں بابے بھنڈر کی دانائی اور منطق کے سامنے لاجواب اور شرم سے پسینہ پسینہ ہوگیا ۔ مگر مجھے بابے بھنڈر کے سامنے سارے ماہرین معاشیات ہیچ نظر آئے جو سادہ اور عام فہم پیمانہ معیشت کو ماپنے کا بابے نے بیان کیا شائد سرتاج عزیز ، شوکت عزیز اور اسحق ڈار کے پاس بھی نہ ہو ، شاید ڈاکٹر محبوب الحق بھی اس سے بہتر یارڈرسٹک دریافت نہ کرسکیں جو بابے بھنڈر نے بتائی ۔میں جب لدھیانہ سے بھنڈر خاندان کے گھر سے وطن عزیز کی طرف روانہ ہوا تو میں اپنی پیشانی سے نہ صرف پسینہ پونچھ رہاتھابلکہ میرے اوپر شدت سے نواز شریف کے 1993ءاور پرویز مشرف کے 2006ءکا فرق واضح ہوتا جارہا تھا ۔ 2007ءمیں میری شرمندگی انتہاءکو پہنچ گئی اور میرا دل کٹ کر رہ گیا ، جب بابے بھنڈر کا بیٹا مجھے اسلام آباد میں اے پی پی کے دفتر میں ملنے آیا اور بڑے فخر سے بتانے لگا کہ” مجھے انڈین ایک سو روپے کے پاکستانی ایک سو ساٹھ روپے ملے ہیں ، آپ تو اب نیپال کے برابر پہنچ گئے ہیں “۔ ہم تو شاید بھنڈر سنگھ سے کچھ نہ سیکھ سکیں مگر جناب اسحق ڈار کو یقینا انکی باتوں پر غور کرنا ہوگا ۔