نوازشریف حکومت، بھاری مینڈیٹ اور خفیہ ہاتھ

میاں محمد نوازشریف کی حکومت کو قائم ہوئے ابھی ایک ہفتہ ہی گزرا تھا کہ بلوچستان میں دلخراش واقعہ پیش آیا جس میں ظالموں نے ویمن یونیورسٹی کی بس پر بم دھماکہ کر کے معصوم طالبات کا قتل عام اور ساتھ ہی بولان میڈیکل کالج ہسپتال میں بے گناہ شہریوں پر بھی خودکش بم دھماکے کر کے انہیں شہید کر دیا ۔ قائداعظمؒ ریذیڈنسی پر دھماکہ کیا اور اُسے آگ لگا دی اور بی ایل اے کا پرچم لہرا دیا۔ ابھی اس واقعہ کو دو ہفتے ہی گذرے تھے کہ ہزارہ ٹاﺅن میں خودکش بمبار نے دھماکہ کیا اور بے گناہ خواتین اور معصوم بچوں سمیت 28 افراد کو شہید کر دیا۔ اسی طرح کے واقعات پشاور اور وزیرستان میں بھی پیش آئے جس میں 25 بے گناہ افراد کو شہید کر دیا گیا۔ وزیراعظم میاں محمد نوازشریف نے بلوچستان میں مسلم لیگ کی حکومت بنانے کی پوزیشن میں ہوتے ہوئے بھی وہاں کے قوم پرستوں کو وزارتِ اعلیٰ اور گورنرشپ دے کر تاریخ میں سنہری باب کا اضافہ کیا ہے۔ اسی طرح کے پی کے میں مولانا فضل الرحمن کے ساتھ مل کر آسانی سے حکومت بنائی جا سکتی تھی۔ اسکے باوجود تحریک انصاف کی اکثریت کو تسلیم کرتے ہوئے اُن کو حکومت سازی کی دعوت دی۔ اُن کے اِن دانشمندانہ فیصلوں کے باوجود کے پی کے، سندھ اور بلوچستان میں امن قائم نہیں ہو پا رہا۔ ان صوبوں کے عوام محب وطن ہیں اور پاکستان بناتے وقت بھی یہاں کی عوام نے تحریک پاکستان میں اپنا بھرپور کردار ادا کیا تھا لیکن چند مٹھی بھر لوگ اپنے غیر ملکی آقاﺅں کے اشاروں اور ڈالروں کے لالچ کی وجہ سے ریاست کے اندر ریاست قائم کرنا چاہتے ہیں۔
 وزیراعظم میاں محمد نوازشریف کے ملک اور قوم کے وسیع تر مفادات میں فیصلوں کے باوجود اگر ان صوبوں میں امن قائم نہیں ہو رہا تو اس کو خطرے کی گھنٹی سمجھتے ہوئے حکومت کو اپنی حکمت عملی اور ترجیحات میں تبدیلی لاتے ہوئے مصلحت اور مجبوری کو بالائے طاق رکھتے ہوئے مشکل فیصلے کرنا ہوں گے۔ نوازشریف انتخابی مہم کے دوران عوام سے یہ اپیل کرتے رہے کہ پاکستان کو استحکام دینے اور قوم کی تقدیر بدلنے کیلئے اور پاکستان کے گھمبیر مسائل کو حل کرنے کیلئے دوتہائی اکثریت چاہئے۔ تاکہ ہم خیراتی حکومت بنانے سے بچ سکیں۔ عوام نے میاں محمد نوازشریف کو اپنا مسیحا سمجھتے ہوئے اپنا بھرپور مینڈیٹ دے کر اپنا فرض ادا کر دیا اور انہوں نے کسی بلیک میلنگ، کسی سودے بازی کے بغیر ایک مضبوط حکومت کی بنیاد رکھ دی۔ اس کے باوجود یہ لگتا ہے کہ خفیہ ہاتھ نوازشریف کی حکومت کو ناکام کرنے کے درپے ہیں۔ نوازشریف کے چہرے پر اسمبلی کے افتتاحی تقریب کے دوران مسکراہٹ نام کی کوئی چیز نہ تھی اور یہی صورتحال شہباز شریف کی بھی تھی۔ اس سے صاف عیاں ہے کہ وہ پاکستان کے عوام کی بے پناہ مشکلات سے باخبر ہیں اور ان کے مسائل حل کرنے میں سنجیدہ ہیں۔ نوازشریف نے اپنی کابینہ کے وزراءسے یہ کہا ہے کہ تین مہینے تک جو وزیر بہتر کارکردگی نہیں دکھائے گا اُس کو فارغ کر دیا جائے گا۔ انہوں نے بدعنوان افسروں کے کنٹریکٹ منسوخ کرنے کا حکم بھی جاری کر دیا۔ حکومتی اخراجات میں 30 فیصد کمی اور کہا کہ کرپشن کریں گے نہ کرنے دیں گے، بجلی چوروں کے خلاف کریک ڈاﺅن کے اعلانات کر کے اچھی شروعات کی بنیاد رکھی۔ یقیناً وزیراعظم پاکستان محمد نوازشریف اور ان کی ٹیم نے ایک مکمل منصوبہ بندی کے تحت اپنے کاموں کی شروعات کر دی ہے۔ بجلی کے بحران کو فوری حل کرنے کیلئے اپنے ہمسایہ ممالک چین اور ایران سے مدد لی جارہی ہے۔ جنہوں نے خود پیشکش بھی کر رکھی ہے کہ پاکستان کو انرجی بحران سے نکالنے کیلئے ہم بھرپور مدد کرنے کیلئے تیار ہیں۔ ان کی اس پیشکش سے پورا فائدہ اُٹھایا جانا چاہئے۔ چھوٹے چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کے ساتھ ساتھ کالاباغ ڈیم کی تعمیر چاروں صوبوں کی رضامندی سے تکمیل تک پہنچائی جا سکتی ہے۔ اس وقت سندھ اور بلوچستان کے قیوم پرست اور کالاباغ ڈیم کی مخالفت کرنے والوں کے ساتھ وزیراعظم کے بہترین تعلقات ہیں اور وہ ان پر اعتماد بھی کرتے ہیں۔ اس سنہری موقع سے پورا فائدہ اٹھایا جانا ضروری ہے جس پر پورے پاکستان کی ترقی کا انحصار ہے۔ وزیراعظم پاکستان کی ہمسایہ ممالک کے ساتھ برابری کی سطح پر تعلقات قائم کرنے کی خواہش قابل تعریف ہے لیکن پاکستان اور بھارت کے درمیان سب سے اہم ایشو مسئلہ کشمیر ہے جو قائداعظمؒ کے فرمان کے مطابق پاکستان کی شہ رگ ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں بھارت کے وزیراعظم جواہر لعل نہرو نے وعدہ کیا تھا کہ کشمیریوں کو آزادانہ حق خودارادیت دیا جائے گا لیکن بعد میں بین الاقوامی معاہدوں کی پروا نہ کرتے ہوئے کشمیر کو اپنا اٹوٹ انگ کہنا شروع کر دیا (جسکی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ نہرو خود بھی کشمیری تھے)۔ اُس کے بعد آنے والے تمام بھارتی حکمرانوں نے بھی مسئلہ کو حل کرنے کی بجائے اُس کو اپنا اٹوٹ انگ کہتے ہوئے آزادی کے متوالوں کا قتل عام شروع کر رکھا ہے اور یہ نہ رکنے والا سلسلہ تاحال جاری ہے۔ اس دیرینہ مسئلہ کے حل کیلئے کامیاب خارجہ پالیسی اور سفارتی سطح پر تمام تر توانائیاں صرف کرنے کی ضرورت ہے۔ وزیراعظم پاکستان خود بھی کشمیری النسل ہیں اور پاکستان کشمیر کا فریق اور کشمیریوں کا وکیل بھی ہے وہ کشمیر کے ڈیڑھ کروڑ لوگوں کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حق خودارادیت دلوانے کے لئے اپنی بھرپور کوششیں بروئے کار لائیں گے۔ وزیراعظم پاکستان نے کئی مرتبہ یہ اعلان بھی کیا ہے کہ ہم نے ایٹمی دھماکے کر کے پاکستان کی سرحدوں کو محفوظ کر دیا تھا اور اب ہم معاشی دھماکے کریں گے اور اللہ کے فضل و کرم سے پاکستان کو معاشی بحران سے نکال کر ترقی کی راہ پر گامزن کریں گے اور پاکستان کو دُنیا میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ دلوائیں گے۔