اصل زر حکومت کا، سود صارفین کے ذمے

کالم نگار  |  خالد محمود ہاشمی

مصر کے صدر محمد مرسی کو اندازہ نہیں تھا کہ تحریر چوک میں حسنی مبارک کی طویل اور مضبوط آمریت کا بُرج اُلٹانے والے بپھرے عوام چند روز کے احتجاج کے بعد ان کا بوریا بستر گول کر دیں گے۔ صدر مرسی اقتدار سنبھالتے ہی خود کو مضبوط ترین حکمران سمجھنے لگے تھے وہ اس غلط فہمی کا شکار ہو گئے کہ مصری فوج سچ مُچ ان کی تابع فرماں ہے حالانکہ تیسری دنیا کے ممالک میں فوج فوج ہی کی تابع فرماں ہوتی ہے۔ بھٹو کو بھی یہی غلط فہمی مار گئی تھی کہ طاقت کا سر چشمہ عوام ہیں حالانکہ طاقت کا سر چشمہ عملاً فوج ہی رہی ہے، پاکستان میں تو اس اصلیت کو چھپانے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ کیا وجہ ہے کہ صدر مرسی کا گراف ایک سال میں اتنا گر گیا کہ فوجی مداخلت کی نوبت آ گئی۔ صدر مرسی نے ایک سالہ دور میں بہت ساری حقیقتوں سے آنکھیں بند رکھیں۔ مصر میں بے روزگاری کا گراف بڑھتا جا رہا ہے، سرکاری اداروں میں کرپشن نے عوام کو نڈھال کر رکھا ہے، صدر مرسی نے حکومت مخالف قوتوں اور ان کے حامیوں کو کہیں نہیںرکھا۔ حسنی مبارک کی آمریت کے بعد جمہوریت آنے سے جمہوریت پسند قوتوں اور حکومتوں کو خوشی ہوئی تھی لیکن عرب دنیا میں زیر زمین قوتیں اس قدر طاقتور ہیں کہ وہ کسی طور جمہوریت کو فروغ پاتا نہیں دیکھ سکتیں، جمہوریت بھی ہر کسی کو وارہ نہیں کھاتی۔ فوج اور ایجنسیوں کی ڈگڈگی پر بندر کی طرح ناچتی جمہوری حکومتیں تمام تر نالائقیوں ، بداعمالیوں کیلئے قائم رکھی جاتی ہیں، لوگ حیران ہوتے ہیں آخر وہ کونسا جادو ہے جس نے اقتدار بچا رکھا ہے، پیپلز پارٹی کی پانچ سالہ نالائق حکومت کو کیوں کر برداشت کیا گیا۔ مصر میں صدر مرسی کی جمہوریت کو برداشت کرنا کیونکر مشکل ہو گیا تھا؟۔ ہر ترقی پذیر ملک میں ظاہری حکومت کے ساتھ ساتھ باطنی حکومت بھی کام کرتی ہے۔ ظاہر اور باطن میں تال میل ہو تو گاڑی چلتی رہتی ہے اگر کہیں بھی مفادات، خیالات اور اہداف میں ٹکراﺅ پیدا ہو جائے تو بھی وہی ہوتا ہے جو صدر مرسی کے ساتھ ہوا ہے۔ صدر مرسی کے زوال سے ہمارے حکمرانوں کو بھی کچھ سیکھ لینا چاہئے۔ تین ہفتوں میں بہت ساری باتوں کے مستقبل کی کتاب کے اوراق کھول دئیے ہیں۔ آئی ایم ایف دراصل امریکہ اور جی ایٹ کا بالادست ادارہ ہے، اس وقت دنیا پر حکمرانی امریکہ اور جی ایٹ ممالک کی ہے۔ واشنگٹن سے آئی ایم ایف کا وفد 5 ارب 30 کروڑ کے قرض کا شرائط نامہ لیکر آیا جسے اسحاق ڈار نے من و عن قبول کر کے دستخط کر دئیے۔ 5 ارب 30 کروڑ کے قرضے پر شرح سود 3 فیصد ہو گی۔ ڈالروں کے اصل زر کا سود بھی ڈالروں میں ادا ہونا ہے یہ سود کے ڈالر کہاں سے آئیں گے۔
 آئی ایم ایف کے سابقہ قرضوں کی ادائیگی کیلئے نیا قرضہ لینا پڑا ہے۔ اسحاق ڈار یہ تو بتاتے ہیں کہ 2008ءمیں لئے گئے آئی ایم ایف کے قرضے کا استعمال کہاں ہوا۔ وزیراعظم نواز شریف یہ بات طے کر چکے ہیں کہ وہ ملک میں سرمایہ داری نظام کو فروغ دیں گے۔ ریلوے، واپڈا، پی آئی اے اور سٹیل ملز کی زمام اقتدار سرمایہ داروں کے حوالے کی جائے گی، کئی نئے میاں منشا پردے کے سامنے آنے والے ہیں۔ پاکستان کی اقتصادی ترقی محض چند سو ارب روپے کے سالانہ ترقیاتی پروگرام سے ممکن نہیں ہو گی۔ سرمایے سے سرمایہ جنم لے گا جیسے ایک کالج سے گروپ آف کالجز اور ایک بیکری سے درجنوں بیکریاں جنم لیتی ہیں۔ آئی ایم ایف کا ایجنڈا بڑا واضح ہے کہ ترقی پذیر ممالک میں سرمایہ دارانہ نظام کی جڑیں پھیلائی جائیں، غریبوں کو حالات کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جائے۔ سرمایہ آئی ایم ایف کا ہو یا چین کا، سرمایہ داروں کو ہی پروان چڑھائے گا۔ اس بات کو سمجھنا چاہئے کہ آئی ایم ایف سے قرضے لینے والی حکومتیں عوام دوست نہیں سرمایہ دار دوست ہوتی ہیں۔ اصل زر حکومت کیلئے اور سود کی ادائیگی صارفین کے ذمے ہوتی ہے۔