ہم اور ہماری متاع

سعد اللہ شاہ
سوچتے سوچتے دماغ ما¶ف ہو جاتا ہے کہ ہم کہاں کھڑے ہیں بیرونی فشار اور اندرونی انتشار نے ہمیں برباد کرکے بکھیر دیا ہے۔ حساس لوگ نفسیاتی مریض بن چلے ہیں۔ کسی کو کچھ پتہ نہیں کہ کیا ہو رہا ہے۔ ”ہر طرف ڈھیر ہے ٹوٹے ہوئے پیمانوں کا‘ شمالی وزیرستان میں اکھٹے 18 ڈرون حملے اور 29 افراد جاں بحق‘ کراچی میں ٹارگٹ کلنگ اور گیارہ افراد ہلاک‘ جن کو امریکہ نہیں مار سکتا ان کو ہم مار رہے ہیں اور اپنے ہاتھ سے۔ اور جو ہم سے بھی بچ جاتے ہیں انہیں مہنگائی مار رہی ہے۔ مہنگائی باقاعدہ ایک جن کی طرح تجسیم پا چکی ہے جو عوام پر پٹرول بم پھینک رہی ہے۔ ایک وحشت سر بازار رقص کناں ہے۔
آمنہ الفت کہتی ہیں کہ رویوں کا بحران ہے۔ میں سمجھتا ہوں بحران نہیں قحط ہے ہم حالت جنگ میں نظر آرہے ہیں۔ یہ جنگ کس کی کس سے ہے یہ ایک معمہ ہے سمجھنے کا نہ سمجھانے کا‘ گھمسان کا رن ہے‘ لاشیں گر رہی ہیں اور لوگ زخمی ہو رہے ہیں۔ ایسے لگتا ہے جیسے ہمیں کسی کی بددعا لگی ہے۔ ہماری نفرتیں ہمارے اعصاب شل کر رہی ہے۔ ہم انتہا¶ں پر پہنچے ہوئے لوگ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو بیٹھے ہیں۔ ہم ایک دوسرے کی طاقت بننے کی بجائے ایک دوسرے کو کمزور کر رہے ہیں۔ حالانکہ موجودہ حالات میں ہمارے پاس وہ عدالتیں ہیں جو بھٹی سے کندن بن کر نکلی ہیں اور ہمارا فرض بنتا ہے کہ ہم انصاف کی خاطر اپنی انا کو ایک طرف رکھ دیں۔
ہمیں اپنے رویوں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ آپ ہمارے میڈیا کو ہی دیکھ لیں میرے دل میں صد احترام ہے ان کیلئے مگر جس طرح انہوں نے شازیہ اور چیف سیکرٹری کا کیس پیش کیا ہے سب کے سامنے ہے۔ تمام چینلز اپنا فرض نبھانے کی بجائے باقاعدہ پارٹی بن جاتے ہیں عوام کی ہمدردیاں لینے اور دوسرے ہمعصر چینلز پر سبقت حاصل کرنے کیلئے ملزم کو اس طرح مجرم ثابت کرتے ہیں کہ ان کو اپنے سامنے پھانسی کا پھندا نظر آنے لگتا ہے دوسری طرف ہمارے وکلاءنے بھی حد کر دی کہ انہوں نے نعیم کے ساتھ عجیب یکجہتی کا مظاہرہ کیا کہ ان کی اپنی بنی بنائی ساکھ دا¶ پر لگ گئی۔ اب تو ڈاکٹروں کی رپورٹ بھی آچکی ہے کہ شازیہ کی موت بیماری کے باعث ہوئی ہے۔
چیف سیکرٹری کے معاملے میں بھی حد ہی ہو گئی۔ یقیناً ان کا قصور ہو گا مگر ایسے نہیں جیسے کوئی انہوں کرنل اکرام کو باقاعدہ قتل کیا ہے۔ ڈرائیور گاڑی چلا رہا تھا حادثہ ہو جاتا ہے۔ آپ چیف سیکرٹری کو بے حس تک کہہ سکتے ہیں کہ وہاں سے چلے گئے یا اس کے بعد کی کارروائی کو جتنا مرضی تنقید کا نشانہ بنائیں مگر چیف سیکرٹری قاتل تو نہیں ثابت ہوتے مگر یہاں تو ایک طوفان اٹھ جاتا ہے۔ کبھی کبھی مجھے اپنا ہی ایک شعر یاد آتا ہے۔
وہ تشدد تھا الہٰی توبہ
میں تو مجرم کی خطا بھول گیا
اسی وقت ہمیں ہوشمندی کی ضرورت ہے کہ ہم ایک نہایت نازک مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ اسلام دشمن ہمیں ہر طرف سے ناکام کرکے صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتے ہیں۔ اس مقصد کیلئے تہذیب و تمدن کے نام نہاد دعوے دار انسانی تہذیب کی تمام حدود پار کر چکے ہیں جس کی سب سے بڑی مثال ان کی گستاخانہ خاکے بنانے والی حرکت ہے۔ انہوں نے ہماری دل پر خنجر چلایا ہے اس سے آگے وہ اور کیا کریں گے۔ گویا وہ کمینگی اور بے شرمی سے اپنا ناپاک اور بدبودار باطن ظاہر کر چکے ہیں۔ وہ ہماری اسی شناخت کو ختم کرنا چاہتے ہیں جو ہماری پہچان اور جان ہے۔ ہمیں یہ آخری متاع بچانی ہے۔ اسی متاع نے ہمیں بچانا ہے۔ خدارا آ¶ بیٹھ کر سوچیں۔ میرا تو سوچتے سوچتے دماغ ما¶ف ہو گیا کہ ہمیں کیا ہو گیا ہے۔ آ¶ اپنا جائزہ لیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں۔