کیا صدر مملکت کو آئین کی دفعہ 248 کے آشیانے میں پناہ مل جائے گی؟

مصباح کوکب
سپریم کورٹ کے تفصیلی فیصلہ آنے کے بعد ہر طرف سے سوال پوچھا جا رہا ہے کہ صدرِ مملکت جناب آصف علی زرداری کو دفعہ 248 بچا لے گا؟ سپریم کورٹ نے اپنے متفقہ فیصلے میں حکم دیا ہے کہ NRO کا نام نہاد قانون ختم ہو چکا ہے اور متصور یہ ہو گا کہ یہ کالا قانون کبھی وجود میں آیا ہی نہیں اور تمام وہ لوگ جو کہ اس سے مستفید ہوئے اب دوبارہ انہی مقدمات کا سامنا کریں گے۔
آئیے بین الاقوامی قانون کے پس منظر میں۔ منی لانڈرنگ اور بدعنوانی کے مقدمات کی حیثیت کو جانچتے ہیں۔ بدنام زمانہ آمر پنوشے کے خلاف بین الاقوامی قوانین کے تحت لندن میں ایک کیس درج کیا گیا تھا اور مقامی عدالتوں نے نہ صرف اس کے خلاف وارنٹ گرفتاری جاری ہے بلکہ بدعنوانی، رشوت ستانی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے خلاف مکمل تحقیقات کا حکم دیا۔ یاد رہے چلی کے عوام نے نہ صرف اس اقدام کو سراہا بلکہ عدالتوں نے بھی قومی قوانین کے تحت کئی ایک کیسز درج کئے۔ پنوشے نے بھی جناب زرداری صاحب کی طرح کثیر ملکی سرمایہ ملک سے باہر منتقل کیا وہ زیادہ تر سوئٹزرلینڈ کے بنکوں میں جمع ہے۔ لارڈ برا¶ن اس بینچ کا حصہ تھے جس نے لندن میں بین الاقوامی قوانین کے تحت پنوشے کے کیسز کی سماعت کی اور فیصلہ دیا۔ انہوں نے فیصلہ میں لکھا کہ ”ریاست کا اپنا آزاد ایک وجود اور اس کا سیاسی نظام ہے جس کو کسی بھی دوسرے ملک کی عدالت میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ اگرچہ دو ملکوں کے قوانین تصادم کے نتیجے میں جو صورتحال پیدا ہوتی ہے اس کو اعلیٰ اخلاقی بنیادوں پر بھی پرکھنا ضروری ہے۔ حکمرانوں کو جو استثنیٰ حاصل ہے عدالت نے اس کو تاریخ کے ملوکیت کے نظام کا تسلسل قرار دیا جسمیں مطلق العنان حکمران کو اللہ تعالیٰ کے ودیعت کردہ حقوق کے مطابق ہر قسم کا فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل ہے۔ انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور مالی بدعنوانی پر بین الاقوامی قانون کی علیحدہ علیحدہ اقسام ہیں۔
جناب زرداری، مارکوس، پنوشے جیسے حکمرانوں کے خلاف جو مقدمے قائم ہوئے وہ یورپی یونین کے چارٹر کے مطابق ہیں اور تمام یورپی ممالک کا آپس میں عہد نامہ ہے کہ کالادھن کو یورپ میں داخل نہ ہونے دیا جائے۔
علاوہ ازیں سوئٹزرلینڈ نے یورپی یونین کے قوانین کے مطابق اپنے بینکنگ اور ٹیکس قوانین میں بھی ترامیم کر دی ہیں جس میں بدعنوانی اور ناجائز کمائی کو قابل دست اندازی قرار دیا گیا ہے۔
مطلق العنانی استثنیٰ کا ایک اور نظریہ جو حال ہی میں اقوام متحدہ نے جاری کیا۔ آجکل کل اس کا بڑا تذکرہ کیا جاتا ہے۔ اس قانون کو ریاستہا¶ں اور ان کی جائیداد کا استثنائی کہلاتا ہے جو کہ یو این کنونشن 2004ءمیں منظور ہوا۔ اس کو بھی انٹرنیشنل کورٹ آف جسٹس کے کئی فیصلوں کے مطابق اس قسم کے استثنیٰ کو انسانی معاشرتی حقوق پر ڈاکہ قرار دیتے ہیں چنانچہ جب ملکی اور بین الاقوامی قوانین کو ہم سامنے رکھ کر تنقیدی جائزہ لیتے ہیں تو یہی نتیجہ سامنے آتا ہے کہ صدر زرداری آئین کی دفعہ \\\"248\\\" کی چھا¶ں میں زیادہ عرصہ تک نہیں رہ سکیں گے۔
قصرِ صدارت کو چھوڑنا ہی پڑے گا ویسے بھی ان کی موجودگی نے قصرِ صدارت کی تقدیس کو اسقدر کمزور کر دیا ہے کہ بین الاقوامی ڈونرز بھی پاکستان کی کسی قسم کی گارنٹی قبول کرنے پر تیار نہیں اس لئے بہتر یہی ہے کہ قوم کو مزید ذہنی عذاب دینے کے بجائے قصرِ صدارت کو خیرباد کہہ دیں! قوم آپ کی طویل عمری کے لئے دعائیں مانگے گی۔