پاکستان میں کیوبا نشانے پر!

ڈاکٹر شیریں مزاری
بعض اوقات رونما ہونے والے واقعات اور ایشوز ایسے نظر آتے ہیں کہ واقعی حسن اتفاق ہوں لیکن اگر ان کا بغور جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ حقیقتاً یہ ایک مخصوص انداز اور مقصد کے حامل ہیں۔ اس طرح کا معاملہ میڈیکل کی اعلیٰ تعلیم کیلئے کیوبا بھیجے جانیوالے پاکستانی طلبہ کا ہے جن کے تمام اخراجات کیوبا کی حکومت برداشت کررہی ہے۔ 2005ء کے ہولناک زلزلے کے بعد کیوبا نے بڑے پیمانے پر جو مدد کی‘ میڈیکل تعلیم کا انتظام بھی اس کا حصہ ہے اور معیاری میڈیکل تعلیم کے خواہشمند ایک عام پاکستانی کیلئے یہ ایک بڑی نعمت ہے۔ اس سے پاکستانی قوم کیلئے کیوبا کے عوام کے اس خلوص اور عزم کا پتہ چلتا ہے جو وہ ترقی پذیر ممالک کیلئے رکھتے ہیں۔ کیوبا نے نہ صرف امداد بھجوائی بلکہ ڈاکٹروں کی ایک ٹیم بھی بھیجی جو سات ماہ تک ایک وزیر کے ہمراہ زلزلہ زدہ عوام کے ساتھ رہی۔ اپنے محدود وسائل کے باوجود پاکستان کو اتنے بڑے پیمانے پر امداد کی فراہمی دراصل کیوبا کے عوام کی جانب سے پاکستانی عوام کیلئے بھرپور خلوص کا اظہار تھا۔
اس معاملے کا حقیقی پہلو یہ ہے کہ کیوبا میں کاسترو کے انقلاب کے بعد سے جب اس نے کیوبن آئین میں بدنام ’’پلیٹ ترمیم‘‘ کے ذریعے اس پر شکنجہ کسا تھا‘ امریکی سامراج سے حتمی نجات کے بعد کیوبا کا یہ شیوہ رہا ہے کہ اپنے وسائل کسی نسل یا مذہب کی شرائط کے بغیر دنیا بھر میں کچلی ہوئی اور غریب قوموں کی امداد پر خرچ کئے جائیں لہٰذا ہم نے دیکھا کہ کیوبا نے نوآبادیات کیخلاف انگولا کے عوام کی قوم پرستانہ جدوجہد کی مدد کی اور ہم نے دیکھا کہ 2005ء کے زلزلے کے بعد ضرورت کے وقت کیوبن لوگ پاکستان آئے جبکہ اس وقت بھی ہم کیوبن لوگوں کو ہیٹی میں آفت زدہ لوگوں کی مدد کرتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ سپرپاور امریکہ کے برعکس اس کا ایسا کوئی ایجنڈا نہیں کہ ان لوگوں کی غربت کا استحصال کریں اور امریکیوں کیلئے لے پالک بنانے کیلئے ہیٹی والوں کے بچے اغوا کرلیں۔
پاکستان میں 2005ء کے زلزلے کے بعد کیوبا نے کم آمدنی والے پاکستانیوں کیلئے میڈیکل فیلڈ میں 1000 سکالرشپس کی پیشکش کی۔ اس اقدام نے ان خاندانوں کیلئے کامیابی کا ایک اہم راستہ کھول دیا۔ ان میں سے کوئی بھی بیرون ملک میڈیکل کی تعلیم کے اخراجات برداشت کرنے کی استطاعت نہیں رکھتا تھا جبکہ پاکستان میں بھی بہت کم لوگ یہ اخراجات برداشت کرنے کی سکت رکھتے تھے لیکن اس وقت سے وقتاً فوقتاً ان طلبہ کے بارے میں ایک شوروغوغا برپا کیا جاتا ہے اور اس حقیقت کے باوجود کہ اٹھائے گئے ایشوز طے کئے جاچکے ہیں لہٰذا کیا یہ محض حسن اتفاق ہے یا پھر یہ ایک ایسی قوم کو ٹارگٹ بنانے کا ایک انداز ہے جو پورے خلوص کے ساتھ پاکستانی عوام کی مدد کررہی ہے؟
اتنا کچھ کرنے کے باوجود کیوبا کو کون نشانہ بنائیگا اور پاکستان کیساتھ تعلقات کو تباہ کرنے کی کوشش کریگا؟ اسکا جواب قدرے سوچ بچار کا متقاضی ہے۔ امریکہ انقلاب کی کامیابی کے بعد سے کاسترو حکومت کو نقصان پہنچانے کی کوشش کررہا ہے۔ وہ کیوبا کے علاقے کے ایک حصے گوانتاناموبے پر غیرقانونی قبضہ جاری رکھے ہوئے ہے اور دو بار اس ملک میں ناکام فوجی مداخلت کرچکا ہے۔ امریکہ نے 1959ء سے اس قوم کی مالیاتی اور تجارتی ناکہ بندی کررکھی ہے اور یہ سب کچھ اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کی کئی بار منظور کردہ ان قراردادوں کے باوجود کیا جا رہا ہے جن میں عالمی ادارے کے ایک رکن ملک کیخلاف یہ اقتصادی جنگ ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ قراردادیں ایک طرف عالمی برادری کی اکثریت نے قریباً متفقہ طور پر منظور کی ہیں جبکہ دوسری جانب امریکہ‘ اسرائیل اور جزائر مارشل ہیں۔جب کیوبا کا معاملہ ہو تو امریکہ کیلئے کوئی چیز اتنی معمولی حیثیت کی حامل نہیں ہوتی خصوصاً جب اس کا تعلق پاکستان جیسے ملک سے ہو جس کے بارے میں امریکہ سمجھتا ہے کہ اسے صرف امریکی اثرورسوخ کے دائرے میں رہنا اور اسکے ایجنڈوں کا وفادار رہنا چاہئے۔ پاکستان امریکہ کیساتھ اپنے اتحاد کی بڑی بھاری قیمت ادا کررہا ہے اور کیوبا کا ایشو ایک وسیع تر گیم پلان کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے لیکن اگر کیوبا سے ہر سال ایک ہزار ڈاکٹر آئیں تو بلاشبہ وہ پاکستانی قوم کیلئے کیوبا کی جانب کھڑکی کھولنے کی پیشکش کا باعث بنیں گے اور اس طرح اقتصادی طور پر اس کا گلا گھونٹنے کی امریکی کوششوں کے باوجود وہ زندہ رہنے کا طریقہ سیکھ جائیگا۔ مزید برآں ڈاکٹر حضرات کمیونٹی کے اندر وسیع پہنچ رکھتے ہیں لہٰذا امریکہ اسکے اثرات سے بخوبی واقف ہے۔ بلاشبہ امریکہ کے معاملے میں صورتحال قطعی مختلف ہے‘ براہ راست ان مشکلات کے حوالے سے جن کا سامنا پاکستانی طلبہ کو امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کے سلسلے میں نہ صرف ویزوں کے حصول بلکہ مالیاتی اخراجات اور نائن الیون کے بعد امریکہ میں ہراساں کئے جانے کے حوالے سے کرنا پڑتا ہے۔ کیا امریکہ پاکستان کے کم آمدنی والے خاندانوں کو اپنے ملک میں فنی تعلیم حاصل کرنے کی کوئی پیشکش کرتا ہے؟ اسکے تمام وزیٹر پروگرام طبقہ اشرافیہ یا انکے بچوں کیلئے ہوتے ہیں۔ یہ صرف کیوبا ہی نہیں بلکہ ہر وہ ملک جسے امریکہ ناپسند کرتا ہے‘ اگر پاکستان کے عوام کو سچے خلوص کے ساتھ کوئی پیشکش کرتا ہے تو اسکے راستے میں بلاواسطہ یا بالواسطہ رکاوٹیں پیدا کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس وقت توانائی کے اہم شعبے میں پاکستان کی مدد کرنے کی ایرانی کوششوں کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ ایران گیس پائپ لائن منصوبے کو ختم کرنے کیلئے پاکستان پر موثر طریقے سے دبائو ڈالا گیا ہے‘ کم سے کم جو کچھ نظر آرہا ہے کہ کس طرح ایران کی جانب سے اپنے علاقے میں پائپ لائن کی تنصیب مکمل ہوچکی ہے اور اسے اب پاکستانی کی جانب سے ایکشن کا انتظار ہے۔ اسی طرح بجلی کا معاملہ ہے۔
ایران پہلے ہی پاکستان کے بعض سرحدی علاقوں میں یہ قیمتی سہولت فراہم کررہا ہے۔ اس نے پاکستان کو 1000 میگاواٹ بجلی فراہم کرنے کی پیشکش کی ہے اور ایرانی ذرائع کے مطابق اسے بڑھا کر دگنا یعنی 2000 میگاواٹ کردیا جائیگا۔ پھر کیا وجہ ہے کہ پاکستان اس ایرانی پیشکش کا مثبت جواب نہیں دے رہا جبکہ اسے بجلی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ اس سے ہم بخوبی اندازہ لگا سکتے ہیں کہ کوئی بیرونی دبائو ضرور موجود ہے۔
کیوبا کے معاملے میں سکالرشپس کے حوالے سے محض بے تکی تنقید نہیں کی جا رہی جو تین سال بعد پھر سامنے آئی ہے۔ ابتدا میں یہ پروپیگنڈہ بھی بڑے موثر انداز میں کیا گیا کہ کیوبا میں تعلیم حاصل کرنیوالے پاکستانی طلبہ کیلئے مذہبی ضروریات کا خیال نہیں رکھا گیا۔ یہ بڑی بیہودہ بات ہے کیونکہ کیوبا کی حکومت نے بشمول غذائی عادات کے ان کی ضروریات کا وسیع مطالعہ کیا اور اپنی مذہبی‘ ثقافتی جڑوں کے بہت مختلف ہونے کے باوجود انہیں پورا کرنے کی تمام تر کوشش کی ہے۔ دوسرا ایشو جو وقتاً فوقتاً اٹھایا جا رہا ہے‘ کیمپس کے حالات سے متعلق ہے۔ بلاشبہ کیوبا وسائل کے لحاظ سے امریکہ یا یورپ نہیں اور ایسے کیمپسز پیش نہیں کرسکتا جہاں دولت مندوں کیلئے ہر تفریح کا سامان موجود ہو۔ پھر بھی کیوبا اب تک 100 سے زائد ممالک کے 43545 سے زیادہ میڈیکل طلبہ کی میزبانی کرچکا ہے اور ایک لاکھ سے زائد ڈاکٹر گریجوایشن کرچکے ہیں اور کسی بھی ملک کے طلبہ نے ان سہولیات کو کوئی ایشو نہیں بنایا۔
غالباً سب سے اہم نقطہ جس کی بنیاد پر ماضی میں اور اب بھی میڈیکل سکالرشپس کو نشانہ بنایا جا رہا ہے‘ یہ ہے کہ کیوبن ڈگری کو دنیا میں کہیں بھی تسلیم نہیں کیا جاتا لیکن اس ایشو کی بھی حقیقت میں کوئی بنیاد نہیں کیونکہ کیوبن میڈیکل پروگرام عالمی ادارہ صحت سمیت بین الاقوامی طور پر تسلیم کیا جاتا ہے اور اس بات پر اصرار کہ پاکستانی صرف پیرامیڈک ڈگری حاصل کریں گے‘ قطعی غلط ہے۔ یہ واضح ہے کہ پاکستان کیوبا تعاون ختم کرنے کی کوشش کرنیوالوں کا نظریہ یہ ہے کہ جس قدر ممکن ہوسکے‘ بڑے سے بڑا جھوٹ بولا اور اسے پھیلایا جائے تاکہ اس جھوٹے تاثر کو ختم کرنے میں طویل وقت لگے اور یہ اس پروپیگنڈے کا بنیادی تقاضا ہے جو امریکہ کی جانب سے پڑھایا جاتا ہے کہ بڑے جھوٹ کو استعمال کرو!
حقیقت یہ ہے کہ جون 2008ء میں پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل نے پاکستانی میڈیا کو آگاہ کیا تھا کہ اس نے کیوبا کے میڈیکل کورسز کو تسلیم کرلیا ہے اور کیوبا سے واپس آنیوالے تمام ڈاکٹروں سے کسی امتیاز کے بغیر کسی بھی نارمل فارن ڈگری ہولڈرز کے مساوی سلوک کیا جائیگا اور یہ ڈاکٹرز رجسٹریشن کیلئے این ای بی امتحان میں بھی شرکت کرسکیں گے۔ پاکستان میں باخبر افراد نے امتحان دیا ہے اور اس ایشو پر مطمئن ہیں لیکن جو لاعلم ہیں وہ پروپیگنڈے کا آسانی سے شکار ہوجاتے ہیں۔ یہ اسی طرح کا معاملہ ہے جس کا شکار دو طاقتی دور میں سوویت یونین سے پڑھ کر واپس آنیوالے پاکستانی پروفیشنلز بن رہے تھے۔ کیوبا کو بھی اسی طرح کے پروپیگنڈے کا واضح طور پر اسی ذریعے سے نشانہ بنایا جا رہا ہے لیکن بدقسمتی یہ ہے کہ بے خبر پاکستانی اس کا شکار ہورہے ہیں‘ بہرحال کیوبا کیلئے ضروری نہیں کہ وہ ہمارے لئے یہ سب کچھ کرے۔ اگر ہم نے الزام تراشی کا سلسلہ جاری رکھا تو پھر وہ پاکستان کو دی جانیوالی سکالرشپس کو ختم کرسکتا ہے اور اس صورت میں آخر نقصان کس کا ہوگا؟