وطن محبت نہےں عشق مانگ رہا ہے!

نواز خان میرانی
دنےا بنانے والے اور دنےا مےں بسنے والے روز وجود اور نزول سے جب بھی عشق کی انتہا کو پہنچے تو محےرالعقول ناقابل فہم و ادراک کُن سے کن فےکون کہنے والے اور کر گزرنے والوں نے کام کئے کہ عقل و خرد حےراں و پرےشان نظر آتی ہے۔ مکانوں میں میم اور لامکاں والے نے کائنات تخلیق کر ڈالی اور تخیل کی توفیق بخشنے والے نے قائد سے وجودِ مملکت کی بنیاد کھوا دی اور وجہ تخلےق کائنات کلمے والے کے عشق کی انتہا تھی اور اسی کلمے والے کے عشق کے کُلیے قاعدے نے کلمے کے نام پہ پاکستان بنا ڈالا۔
محض مُحبت‘ حُجت کے سرابوں تک رہ کر عام اور گم نام رہ جاتی ہے۔ حد سے زےادہ محبت کی جائے تو مقام عشق کا درجہ اختےار کر جاتی ہے پھر کاتبِ تقدےر بھی باتدبےر لوگوں کے جنون و خرد کو مقبول بنا کر قائد کو قائداعظم اور قادر و قدےر ڈاکٹر عبدالقدےر کو باضمےر اور بے ضمےروں کو پُرملال بنا کر اُمتِ مسلمہ کو محفوظ بنا دےتا ہے۔
وطن سے محبت ہمارے اےمان کا حصہ اور ہم وطنوں کا فرےضہ اولےن ہے مگر جب تک عوام سے حاکموں اور محکوموں سے مخدوموں تک محض محبت تک جذبہ محدود کر دےا جائے گا تو پھر محبت کرنے والے جا بجا تو نظر آئےں گے کےونکہ محبت کا دعویٰ کرنے والوں پر نہ تو کوئی قدغن لگائی جا سکتی ہے اور نہ کوئی پےمانہ و پرکار اس کا تعےن کر سکتی ہے اسی لئے ہےر رانجھے اور سےاسی سسی پنوں اور چُوری کھانے والے مجنوں اگلی میعاد بھی مانگتے آ رہے ہےں اور قوم ترقی کی بجائے تنزلی کی جانب تےزی سے گامزن ہے کہ اےسا تو اےتھوپےا اور نائےجرےا مےں بھی نہےں ہوتا۔
دعویٰ کرنے والے اور کرنے والوں پہ کوئی پابندی نہ تو عدلےہ لگا سکتی ہے نہ ہی قانون، قانونِ فطرت ہی بالآخر ان کا محاسبہ اور بولتی بند کرا دےتا ہے اور ےہی دنےا بنانے والے کا دستور اور منشور ہے۔ دنےا کے رکھوالے زندگی سے اجےرن لختِ جگر کے بےچنے والوں اور خونِ جگر سے اس ملک کو سےنچنے والوں کے نالے ضرور سُنتا ہے اور مظلوموں اور مقہوروں کی دعا تو عرشِ الٰہی کو ہلا دےتی ہے۔ زنجےر عدل تک نہ پہنچ سکنے والے اور نہ ہلا سکنے والے عرش الٰہی دن مےں کئی بار ہلا سکتے ہےں کےونکہ ہلانے کے لئے محض ہاتھ اٹھانے ہوتے ہےں مگر اچھا ہے کہ اےسا کرنے والے محبت کو متحرک کر کے وطن سے کی محبت کو عشق کے مقام تک پہنچا دےں تو پھر کچے گھڑے پہ بھی چناب عبور کرنے اور تےشہ فرہاد‘ فولاد جےسے مضبوط کوہ و دمن پہ رحمت رب ساےہ فگن ہو کر رہتی دنےا تک مثالِ بے مثال بنا دےتی ہے۔ مطلب ےہ ہے کہ کچھ کرگزرنے کی امنگ و لگن ہی ےہ پےارا وطن بچا سکتی ہے جس کے لئے جذبہ عشق کی آبےاری نہاےت ضروری ہے ملک وملت اور اُمت مسلمہ کی تحارےک کو تارےکےوں اور گم نامی سے نکالنا اور قائد کے کردار اور ان کے افکار کو اجاگر کرنا اور کرانا صرف مجےد نظامی ہی کی ذمہ داری ہے وطن سے محبت ان کو جوان رکھتی اور قائد کے افکار کام کام اور کام مےں سارا دن مصروف رکھتی ہے۔
حکمرانوں کو بھی وطن کی بقا اور اس کی بنا کبھی کراچی کو خاکستر کرنے اور کبھی لیاری‘ اورنگی اور گولیمار کے غریبوں کو راہ چلتے اور مزدوری کرتے وقت واقعی گولی مار کر مار دےنے کے مجرموں کو سرعام بے نقاب کرنا چاہےے مگر جاہ و حشمت اور اقتدار کا نشہ اور حکومت کی محبت اےسا کرنے سے رو کے تو پھر اپنے مذہب اور ملک سے عشق کا سہارا لے کر اےسا کرنے مےں دےر نہےں کرنی چاہےے‘ اَن ہُونی کو ہُونے مےں اور اپنی جون کو بدلنے مےں صرف اور صرف عشق ہی ترےاق و تےر بہدف ہے۔
وگرنہ تو بادشاہوں کا بادشاہ تو بتا چکا ہے کہ جس قوم کو اپنی حالت بدلنے کا ہوش نہ ہو اور حاکم اور محکوم مدہوش ہوں تو پھر دعوے اور جواب دعوے کسی بھی مسئلے کا حل نہےں کےونکہ ہمارے ملک کا معمار پکار کر کہتا ہے دلےلےں اور تاوےلےں ملک وملت کو معمول اور مہمات مےں منہمک تو کر دےتی ہےں تقدےر نہےں بدلتی۔
شاےد کوئی منطق ہونہاں اس کے عمل
تقدےر نہےں تابع منطق نظر آتی!
جہاں اپوزےشن مصلحت انداز جوابدہ بے باک اتحادی فسادی ان پڑھ سےاست دان اور قانون دان اپنے ملک کے مان کو کروڑوں مےں نےلام کر دےں تو پھر عاشق صادق کا ظہور ہوتا ہے‘ کام کرامات مےں اور معمے معجزات مےں تبدےل ہوتے دےر نہےں لگتی اسی کو زبان خلق نقارہ خدا کہتے ہےں۔ جسے عقل کے اندھے اور ناکارہ ناخدا نہےں سمجھتے مگر خودی‘ تکبر‘ نخوت‘ نفرت تو صرف عشق سے ختم ہوتے ہےں محض محبت سے نہےں۔
عشق مےں مجھ کو جلا اور درد دے دل مےں مرے
عشق کی دولت سے کر آباد دل مےرا اللہ