صدر صاحب! پارٹی کو خودسوزیوں اور خودکشیوں سے بچائیں

مطلوب وڑائچ
شہید ذوالفقار علی بھٹو کا جب ہاری ماں اور جاگیردار باپ کے گھر جنم ہوا تو بھٹو نے ایک ہی گھر میں دو مختلف دنیائیں دیکھیں۔ جوان ہوئے تواس ماں کی آنکھوں میں بسے، ان خوابوں کو عملی جامہ پہنانے کا تہیہ کرلیا۔ ایوب کابینہ چھوڑ کر بھٹو نے 1968ءمیں ملک کے پسے ہوئے طبقے کے لیے ایک جماعت پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔ تشکیل کے صرف دو سال بعد پیپلز پارٹی نے انتخابات میں مغربی پاکستان میں تمام پارٹیوں کو چاروں شانے چت کر دیا۔ پہلی مرتبہ غریب اور متوسط طبقہ جس نے کبھی لاہور ،کراچی اور اسلام آباد تک نہ دیکھا تھا ایک بڑی تعداد میں اسمبلیوں میں پہنچ گیا۔ لیکن اس ملک کا جاگیردار اور سرمایہ دار طبقہ سازشوں، لابیوں اور اقربا پروری کی بدولت 77کے انتخابات میں ایک بار پھر پیپلز پارٹی کے اندر اپنی جگہ بنا چکا تھا۔
ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد شہید محترمہ بے نظیر بھٹو جب 86ءمیں وطن واپس آئیں تو انہوں نے بڑی حد تک پارٹی کو ایک دفعہ پھر ایسے لوگوں سے پاک کر دیا۔ وہ جانتی تھیں کہ اس ملک کے 95فیصد عوام غریب ہیں اور مجھے غریبوں کی نمائندگی کرنی ہے۔ یہی وجہ ہے 88ءکے الیکشن میں پیپلز پارٹی کے ٹکٹ ہولڈرز میں ایک کثیر تعداد غریب اور متوسط طبقے کی تھی۔ اس جرم کی سزا محترمہ کو 2007ءمیں ان کی وطن واپسی پر دی گئی۔محترمہ کی شہادت کے بعد صدر مملکت آصف علی زرداری صاحب نے ”پاکستان کھپے“ کا نعرہ لگا کر کارکنوں کو پارٹی کے جھنڈے تلے متحد رکھا۔
بدقسمتی سے 2002ءاور 2008ءکے انتخابات سے قبل پھر غیرمحسوس طریقے سے غیرمرئی قوتیں ایک بار پارٹی میں نقب لگانے میں کامیاب ہو گئیں، جنہوں نے بھٹو اور ان کی اولاد کو وقت آنے پر تنہا چھوڑ دیا تھا۔ 2002ءکے انتخابات کے بعد میں بھی خدمت کے جذبے اور کاز کی تکمیل کے لیے یورپ کی پُرآسائش زندگی چھوڑ کر پاکستان شفٹ ہو گیا تھا۔ میں نے پارٹی کازاور پارٹی لیڈرشپ کے لیے اپنے آپ کو وقف کر دیا۔ اس دوران میں نے یورپ اور دنیا بھر میں پھیلے ہوئے پارٹی کے پرانے خیرخواہوں، جو بے توقیری کی وجہ سے بددل ہو کر سیاست چھوڑ چکے تھے یا پارٹی سے لاتعلق ہو چکے تھے ان کو پارٹی کے پرچم تلے جمع کرنا شروع کیا۔ ان میں سے بیشتر کا استدلال تھا کہ وڑائچ صاحب آپ ایک نئے جذبے اور جنون کے ساتھ آئے ہیں۔ یہ کام آپ سے پہلے بھی کئی سرپھرے کر چکے ہیں لیکن چونکہ میرے سر پر پارٹی کی خدمت کا جنون بدستور سوار رہا۔ میرا یقین محکم تھا کہ ہم ماضی کی غلطیوں کا محترمہ بے نظیر بھٹو کی قیادت میں ازالہ کر سکتے ہیں۔ لیکن میری حیرت کی انتہا نہ رہی کہ محترمہ کی شہادت کے بعد جب پیپلز پارٹی نے عنانِ اقتدار سنبھالی تو جاگیرداروں، سرمایہ داروں لابیوں ،اقرباپروریوں اور رشتہ داریوں کا جادو پھر اثر کر گیا۔
آج جب میں اقتدار کے ایوانوں میں ان لوگوں کو دیکھتا ہوں جو ضیاءالحق کے بھی ساتھی تھے اور مشرف کے 8سالہ دورِ آمریت میں بھی اس کے کاسہ لیس اور حاشیہ بردار تھے اور کبھی بھی سڑکوں پر نظر آئے نہ جیلوں میں گئے۔ تو مجھے ان ”خیرخواہوں“ کی بات یاد آ جاتی ہے جنہوں نے جنون کی حد تک میری پارٹی وابستگی کو دیکھ کر مجھے سرپھرے کا خطاب دیاتھا۔ آج میں ان لوگوں سے چھپتا پھرتا ہوں اور آنکھیں چراتا ہوں کہ مبادا مجھے ملیں اور کہیں ہم نہ کہتے تھے کہ ان سیاسی پارٹیوں کے دل نہیں ہوتے بلکہ دل کی جگہ پر پتھر رکھے ہوتے ہیں۔ان کے نزدیک جذبات اور وفاداری کی کوئی قدروقیمت نہیں ہوتی اور یہ سیاسی پارٹیاں تو اپنے اپنے مقاصد کے لیے ہر حربہ اور طریقہ استعمال کر لیتی ہیں اس کا مظاہرہ الیکشن کے دوران اکثر دیکھنے کو ملتا ہے۔پیپلز پارٹی اس وقت مرکز اور چاروں صوبوں میں بھرپور نمائندگی رکھنے والی جماعت ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اس کے اندر گروپس بن چکے ہیں اور یہ طاقتور گروپس مختلف دھڑوں اور افراد کی شکل میں موجود ہیںجو اپنے من پسند اور دوستوں کو پرموٹ کر تے ہیںاور ان لابی کے لیے کہیں تک بھی چلے جاتے ہیں۔ ہندوﺅں میں اقتدار کے لیے برہمن جبکہ اچھوت بے چارے صرف خدمت کے لیے پیدا ہوتے ہیں۔ بالکل اسی طرح پیپلز پارٹی میں بھی ”سیاسی برہمن“ پارٹی کے اقتدار میں آتے ہی مقتدر ہو جاتے ہیں۔ آزمائش کی گھڑیوں میں استقامت کا مظاہرہ کرنے والا دوسرا طبقہ جس کا کام پھانسی لگنا، کوڑے کھانا، جیل قلعے کاٹنا، مالی قربانیاں دینا ہوتا ہے۔ یہ اقتدارزدہ طبقہ ان غریبوں کے کندھوں پر چڑھ کر اقتدار کی معراج تک۔
شہید بھٹو کو جب پھانسی کی سزا سنا دی گئی تو ملک بھر سے کم از کم 9جانثاروں نے خودسوزیاں کرکے اپنے قائد کو خراجِ تحسین پیش کیا۔ ہزاروں کارکنوں کو کوڑے اور لاکھوں کو قید کی سزا ہوئی۔ جہاں تک تو سمجھ آتی ہے وہ آمریت کے دور میں ہوا لیکن اپنے ہی دور حکومت میں جب کوئی کارکن اپنے اوپر تیل چھڑک کر خودسوزی کی کوشش کرے تو سمجھ لینا چاہیے کہ:
جس دور میں لٹ جائے فقیروں کی کمائی
اس دور کے سلطان سے کچھ بھول ہوئی ہے
اس میں شک نہیں کہ سابق حکومت کے دیئے ہوئے بحران سر چڑھ کر بول رہے ہیں حکومت ان سے بڑی پامردی سے نبردآزما ہے۔ لیکن سیاسی کارکن اپنی قربانیوں کا صلہ دو روپے کی روٹی ،آٹا، چینی، گیس،بجلی اور گھی کی صورت میں نہیں صرف تھوڑی سی عزت اور اس کی خدمت کے اعتراف کی صورت میں چاہتا ہے۔ پیپلز پارٹی میں گھس آنے والے سیاسی موقع پرستوں اور ابن الوقتوں جن کی نظروں میں پارٹی کی تنظیم اور انفراسٹرکچر کوئی اہمیت نہیں رکھتا وہ پارٹی کارکنوں اور تنظیمی عہدیداروں کا احترام بھی لازم نہیں سمجھتے۔ یہی وجہ ہے کہ پیپلز پارٹی اس وقت طبقاتی گروپ میں پھنسی نظر آتی ہے۔ اور ابن الوقت سیاسی گروﺅں نے صدرِ مملکت کے گرد جو حصار قائم کیا ہے اس کی وجہ سے عام کارکن تو درکنار پارٹی عہدیداروں کی رسائی بھی ان تک ناممکن ہو چکی ہے۔
پارٹی کے کلیدی عہدوں پر براجمان لوگ بمعہ مرکزی اور صوبائی وزراءبھی پارٹی کارکنوں کو اہمیت نہیں دیتے یہی وجہ ہے کہ پنجاب میں پارٹی کی صوبائی تنظیم تو اپوزیشن کا کردار ادا کرنے میں راضی ہے مگر ہوٹر اور جھنڈے والی چند کاروں میں بیٹھے کچھ لوگ اقتدار کے خواب سے باہر نکلنا پسند نہیں کرتے۔ وہ بلایہ سوچے کہ پارٹی کا مستقبل کیا ہوگا ڈنگ ٹپا ﺅ اور مفاداتی پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں۔ میں نے اپنی زندگی کو جمہوریت کی بحالی اور شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی وطن واپسی اور صدرِ مملکت جناب آصف علی زرداری کی رہائی کے لیے وقف کر دیا تھا اور اس سلسلہ میں مجھے اپنی خواہشوں،نفع نقصان اور زندگی موت کو ایک طرف رکھ دیا تھا اور قیدوبند کی صعوبتیں برداشت کی تھیں وہ شجر جس کی آبیاری میں نے اپنے خون پسینہ سے کی ہے اس شجر کی جڑوں، ٹہنیوں کو نقصان پہنچتے کیسے دیکھ سکتا ہوں اور خاموش تماشائی کا کردار نہ میں نے تب ادا کیا تھا نہ آج کروں گا۔
خونِ دل دے کہ نکھاریں رخ برگ گلاب
ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے
صدر صاحب! یہ لمحہ فکریہ ہے کہ خودسوزی کی کوشش کرنے والے یہ معصوم جیالے کارکن کہیں کسی دن خودکش بمبار نہ بن جائیں۔ پیپلز پارٹی پاکستان کی سب سے بڑی پارٹی ہے۔ ہم جمہوریت کے چیمپئن ہونے کے بھی دعویدار ہیںاور ہماری تاریخ بتاتی ہے کہ یہ سچ بھی ہے ۔اب انصاف اور جمہوریت کی ابتدا ہمیں اپنے گھر سے شروع کرنا ہو گی۔ اقتدار کی نچلی سطح پر منتقلی تبھی ممکن ہے جب ہم اقتدار کو جیالے کارکنوں کی دہلیز پر پہنچائیں گے وگرنہ ہمارے مستقبل کے قائد جناب بلاول بھٹو زرداری صاحب کو دینے کے لیے ہمارے پاس کچھ نہیںبچے گا۔