شام ڈھلے مصروف بہت ہوتے ہیں میرے حاکم

کالم نگار  |  محمد آصف بھلّی

معلوم نہیں یہ شعر کس شاعر کی تخلیق ہے لیکن جس شاعر نے بھی درج ذیل شعر کہا ہے اس نے یقینا بہت نزدیک سے حکمرانوں کو دیکھا ہوگا اور ان کی شام سے بعد کی مصروفیات کا مشاہدہ بھی کیا ہوگا....
شام ڈھلے مصروف بہت ہوتے ہیں میرے حاکم
جو کچھ اُن سے کہنا ہو وہ کہہ لو شام سے پہلے
پاکستان کی وفاقی حکومت نے ایک دو روز پہلے تیل کی قیمتیں بڑھانے کا جو فیصلہ کیا ہے بلکہ قیمتیں بڑھا کر عوام پر جو ظلم ڈھایا گیا ہے یہ فیصلہ شام کے بعد کی ”مصروفیات“ کے دوران کیا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ کوئی حکمران جس کے دل میں مخلوقِ خدا کیلئے تھوڑی سی بھی ہمدردی موجود ہوتی وہ ہوش و حواس میں تو ایسا فیصلہ نہیں کرسکتا تھا۔ اگر عالمی مارکیٹ کا جائزہ لیا جائے تو اس کے مقابلے میں پاکستان میں پٹرول، ڈیزل اور مٹی کا تیل پہلے ہی سے بہت مہنگا تھا اور جب دنیا بھر میں پٹرول کی قیمتوں میں کمی کا رجحان ہو لیکن پاکستان میں تیل کی قیمتیں بڑھا دی جائیں تو مہنگائی کی چکی میں پہلے سے پسی ہوئی قوم کے ساتھ اس سے زیادہ خوفناک مذاق کوئی اورنہیں ہوسکتا۔ اب تو میرے جیسے متوسط درجے سے تعلق رکھنے والوں کو پٹرول پمپ کی طرف جاتے ہوئے وحشت محسوس ہونے لگتی ہے۔ خود میں اپنی گاڑی میں تیل ڈلوانے کیلئے فوج کی نگرانی میں قائم ایک پٹرول پمپ پر گیا توجتنی دیر تک گاڑی میں پٹرول ڈالا جاتا رہا، مجھے یوں محسوس ہوا جیسے گاڑی میں پٹرول نہیں میرا لہو انڈیلا جا رہا ہے۔ پٹرول پمپوں پر جو ظلم ہوتا ہے وہ شاید ہمارے حکمرانوں کے علم میں بھی نہیں۔ اگر ہمارے حکمران اپنی قوم کو عذاب میں مبتلا کرکے اور دیکھ کر خوش ہوتے ہیں تو انہیں معلوم ہونا چاہئے کہ عوام پر ظلم کے پہاڑ توڑنے کیلئے پٹرول پمپ والے ہی کافی ہیں۔ حکمرانوں کو غریب عوام کے خون میں اپنے ہاتھ رنگنے کی قطعاً ضرورت نہیں۔ عوام کو مہنگا ترین پٹرول اگر ملاوٹ شدہ ملے اور پٹرول کی مقدار بھی ادا شدہ رقم کے مقابلے میں کم دی جائے تو کیا اس ظلم کے بعد بھی حکمرانوں کو عوام پر کسی دوسرے ظلم کی ضرورت رہ جاتی ہے اور جس لمحے حکومت تیل کی قیمت میں چھ یا سات روپے فی لیٹر اضافہ کرتی ہے پٹرول پمپ اسی لمحے زیادہ قیمت وصول کرنا شروع کردیتے ہیں حالانکہ مجموعی طور پر پاکستان بھر کے پٹرول پمپوں پر کروڑوں لیٹر وہ تیل موجود ہوتا ہے جو قیمتیں بڑھنے سے پہلے خریدا گیا ہوتا ہے۔ اس تیل کی قیمت سے اربوں روپے کا ہونے والا ناجائز منافع پٹرول پمپوں کے مالکان کی جیبوں میں چلا جاتا ہے۔ ہماری حکومت کو یہ بھی علم ہونا چاہئے کہ حکومت نے جو پٹرول عوام پر ظلم کی انتہا کرتے ہوئے 71.20 روپے فی لیٹر فروخت کیا جا رہا ہے۔ جب حکمران اپنا خسارہ پورا کرنے کیلئے قوم پر بوجھ ڈالتے ہیں تو معاشرے کے عام افراد جن میں سنگ دل تاجر سرفہرست ہیں وہ بھی عوام پر ظلم کرنے میں برابر کے شریک ہوجاتے ہیں۔حکومت نے پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کرنے میں کون سی کسر باقی چھوڑی ہوئی ہے جسے پورا کرنے کیلئے سرکاری قیمتوں سے بھی زیادہ قیمت پٹرول پمپوں پر وصول کی جاتی ہے۔ ایک دوست نے مجھے طنزیہ ایس ایم ایس بھیجا ہے کہ تیل کی قیمتیں اور عام ضروریات زندگی کی قیمتیں ایک فوجی ڈکٹیٹر کے دور سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہیں اس لئے ”جمہوریت زندہ باد“۔ میں نے اپنے دوست سے کہا کہ جمہوریت کیلئے تو میں ہمیشہ زندہ باد کا نعرہ ہی بلند کروں گا۔ البتہ جمہوری ڈکٹیٹر ہوں یا فوجی ڈکٹیٹر ان کیلئے میں دل اور زبان سے مردہ باد ہی کہوں گا۔
خوانندگانِ کرام! اس سے آگے میں کچھ کہنے کیلئے بے مثال شاعر منیر نیازی کے منظوم خیالات کا سہارا لینا چاہتا ہوں۔ میں اپنے اس عجز کا اعتراف کرنا چاہتا ہوں کہ جتنی شدت اور تیزی سے ہمارے یہ این آر او کے ذریعے لائے گئے حکمران ملک کو برباد اور قوم کو تباہ حال کرتے چلے جا رہے ہیں اس کی بھیانک اور صحیح تصویر پیش کرنے کیلئے میری نثر میں ویسا زور نہیں۔ منیر نیازی نے کہا تھا....
اس شہرِ سنگ دل کو جلا دینا چاہئے
پھر اس کی خاک کو بھی اُڑا دینا چاہئے
حد سے گزر گئی ہے یہاں رسمِ قاہری
اس دَہر کو اب اس کی سزا دینا چاہئے