داتا گنج بخشؒ کا 966 واں عرس

کالم نگار  |  پروفیسر سید اسراربخاری

سید علی ابن عثمان ہجویری المعروف داتا گنج بخش کا عرس عقیدت و احترام سے منایا جا رہا ہے۔ لاہور کی بنیاد جس نے بھی رکھی مگر لاہور کو لاہور داتاؒ صاحب نے بنایا۔ ان کا مزار شہر کے وسط میں پورے پنجاب کی علامت اور ثقافت کا حصہ ہے۔ سید علی ہجویریؒ اپنی نوجوانی کے دور میں اپنے پیر حسن کھیتری کے حکم پر غزنی سے لاہور میں وارد ہوئے۔ ان کے پیر نے انہیں اچانک لاہور جانے کا حکم دیا تھا جس کی وجہ انہیں سمجھ نہ آ سکی تھی۔ اپنے شیخ کے حکم پر انہوں نے پہلی رات لاہور شہر کے مرکزی دروازے پر گزاری۔ فجر کے وقت وہاں سے ایک جنازہ نکلا‘ انہوں نے پوچھا کو یہ کس کا جنازہ ہے تو بتایا گیا کہ یہ حسین زنجانی کا جنازہ ہے تب انہیں معلوم ہوا کہ انہیں ان کے پیر نے کیوں لاہور بھیجا۔
اُنہوں نے لاہور سے باہر اپنا ڈیرہ ڈالا اور دیواروں میں مقید لاہور اُن کے پیچھے چلا آیا یہی وجہ ہے کہ آج فصیلوں میں بند لاہور واہگہ کی سرحد تک پھیل گیا۔ انہوں نے ایک ایک نئے لاہور کی بنیاد رکھی‘ توحید کا جھنڈا بلند کیا اور پورے شہر کو کلمہ پڑھا دیا۔ جس طرح ان کی زندگی میں ان کے گرد بڑے بڑے شیوخ اور زائرین کا ہجوم رہتا تھا اس سے کہیں بڑھ کر اُن کی رحلت کے بعد اُن کے مزار پر عقیدت مندوں کے میلوں نے ڈیرے جما لئے۔ اُن کے مزار پر سلاطین وزرائ‘ امرائ‘ امیر غریب سبھی آتے تھے اور اب بھی آ رہے ہیں جو بھی جاتا گوہرِ مُراد سے جھولی بھر لاتا۔ ان کے مزار پر معین الدین اجمیری نے چلہ کاٹا اور خوب فیض یاب ہوئے۔ آج جو لوگ زندہ ہو کر کسی کو دو وقت کی روٹی نہیں دے سکتے داتا گنج بخش کی درگاہ پر ان کی وفات کے بعد بھی لاکھوں کی تعداد میں غریب لوگ کھانا کھاتے ہیں اور اس مرکزِ تجلیات سے فیض یاب ہوتے ہیں۔ لاہور کے گوالے جو دودھ میں پانی ڈالنے سے باز نہیں آتے وہ بھی داتا کی سبیل میں ایسا دودھ ڈالتے ہیں جس میں پانی کے ایک قطرے کی آمیزش نہیں ہوتی۔ دودھ کی یہ سبیل تین دن جاری رہتی ہے اور لوگ دودھ پیتے بھی ہیں اور لے بھی جاتے ہیں۔
علی ہجویریؒ اپنے وقت کے جید عالم دین تھے اور علم و عمل کا پیکر ان کے در سے فیض سے عوام‘ خواص نے ولایت کے درجے پائے۔ انہوں نے کئی کتابیں لکھیں جن میں سے اکثر چوری ہو گئیں مگر ان کے معرکة آلاراءتصنیف کشف المحجوب شاید اس لئے باقی رہ گئی کہ انہوں نے اس کا مقدمہ ہی اپنے نام سے شروع کیا۔ ہم آخر میں یہ شعر ان کی درگاہ کی رونقوں فضیلتوں اور تجلیات کی نظر کرتے ہیں :
از صد سخنِ پیرم یک نقطہ مرا یاد است
عالم نشود ویراں تامیکدہ آباد است
ترجمہ (مجھے اپنے پیر کے سو نقطوں میں سے ایک نقطہ یاد ہے کہ یہ دنیا اس وقت تک ویران نہیں ہو گی جب تک میکدہ آباد ہے) جیسا کہ حضرت علی ہجویریؒ کا میکدہ دن رات آباد ہے اور ایک عالم اس سے اپنے پیمانے بھر بھر کر لے جا رہا ہے۔