بھارتی دعوت مذاکرات ساقی نے کچھ مِلا نہ دیا ہو شراب میں؟

کالم نگار  |  کرنل (ر) اکرام اللہ

نئی دہلی اور اسلام آباد سے بیک وقت مختلف نیوز ایجنسیوں اور دونوں حکومتوں کے ذرائع نے جس انداز میں یہ ڈرامائی اعلان کیا ہے کہ بھارت نے پاکستان کو سیکرٹری خارجہ سطح کے مذاکرات کی باضابطہ دعوت دے دی ہے اور ہمارے وزیر خارجہ نے جس عُجلت میں اِس پیشکش کی تصدیق کرتے ہوئے اسے پیشگی ہی خوش آئند قرار دیتے ہوئے یہ فرماتے ہوئے قبول کر لیا ہے کہ پاکستان نے ”بات چیت سے کبھی انکار نہیں کیا“ اِس لئے بھارت کی طرف سے اشارہ ملتے ہی نئی دہلی حاضر خدمت ہونے کیلئے تیار ہیں
اسد خوشی سے میرے ہاتھ پاﺅں پھول گئے
کہا جو اُس نے ذرا میرے پاﺅں داب تو دے
یہ خاکسار اِس جلد بازی پر اپنے اظہارِ حیرت میں کسی مبالغہ سے کام نہیں لے رہا۔ ریڈیو نیوز کے مطابق بھارتی میڈیا نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان بھارت مذاکرات کا باضابطہ آغاز پیر آٹھ فروری سے ہو گا اور سیکرٹری خارجہ سلمان بشیر اتوار کو نئی دہلی پہنچ رہے ہیں۔
نجی معاملات میں ایسی عجلت کو ”جھٹ منگنی پٹ بیاہ“ کہتے ہیں۔ لیکن ریاستی معاملات میں ایسی عُجلت چے معنی دارد؟ حالیہ تاریخ میں اِس کی ایک ہی مثال یاد پڑتی ہے کہ 9/11 کے بعد واشنگٹن سے اسلام آباد ایوان صدر میں ایک فون آیا اور بغیر ایک لمحہ کی تاخیر کے پاکستان کے اعلیٰ ترین مفاد کو داﺅ پر لگا دیا گیا۔ پارلیمنٹ‘ کابینہ‘ عوام سب کے سب ایک دوسرے کا منہ دیکھتے رہ گئے۔ پوری قوم اُس جلد بازی میں کئے گئے غلط فیصلہ کے نتائج آج تک بھُگت رہی ہے۔
سُنا تھا کہ اُس غلط یکطرفہ فیصلہ کے بعد قوم نے اُس آمر اور آمرانہ نظام سے نجات حاصل کر لی اور 18 فروری 2008ءکو ایک جمہوری نظام نافذ کرنے میں ہم کامیاب ہو گئے۔ یہ کیسا جمہوری نظام ہے جس کا وزیر خارجہ نئی دہلی سے ایک فون یا مراسلہ ملنے پر پارلیمنٹ یا اُس کی کابینہ کو اعتماد میں لئے بغیر اتنا بڑا فیصلہ کر لیتا ہے۔ ساری خبر پڑھ لیجئے۔ ذرائع ابلاغ کی نئی دہلی اور اسلام آباد میں چھان بین کر لیجئے۔ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کا کہیں ذکر نہیں ملتا۔ جیسے وہ اِس چھوٹے سے معمولی نوعیت کے روٹین فیصلے میں Irrelevent ہوں۔ نہیں جناب یہ چھوٹا سا معمولی نوعیت کا روٹین ایشو نہیں ہے۔ یہ بھارت کے ساتھ ازسرِنو پاکستان کے تعلقات کی نوعیت طے کرنے کا اہم ایشو ہے۔ اب تقدیر کے مکافات کا عمل حرکت میں آ چکا ہے۔ امریکہ‘ برطانیہ اور مغربی طاقتیں دہشت گردی کی جنگ میں اپنے
آپ کو بے بس پاتی ہیں۔ عراق اور افغانستان کی دلدل میں امریکہ کو ویت نام کی شکست یاد آ رہی ہے۔ اِس تباہ کن صورتِ حال سے نجات حاصل کرنے کیلئے واپسی کا واحد راستہ پاکستان کی امداد کے بغیر ممکن نہیں۔ اور پاکستان نے برسلز اور لندن کانفرنسوں میں واضح کر دیا ہے کہ وہ بھارت کی طرف سے تاریخی خطرات کے باعث وہ مشرقی سرحد کے توازن کو کسی صورت بھی عدم توازن کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ لہٰذا بھارت کی طرف سے مذاکرات کی پیشکش درحقیقت امریکہ اور مغرب کے ایما پر پاکستان کو یہ یقین دلانے کی کوشش ہے کہ دونوں ممالک کے تعلقات معمول پر لانے کے لئے واشنگٹن اور لندن کسی نہ کسی طرح کی گارنٹی دیکر پاکستان کو فاٹا اور افغان سرحد پر اپنے فوجی آپریشن کو 2010ءمیں وسعت دی جائے تاکہ 2011ءکے آخر تک امریکی اور نیٹو فوجیں اپنے انخلا کا عمل شروع کر سکیں۔ نہ صرف اسلام آباد بلکہ پوری پاکستانی قوم کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ کیا اِس تناظر میں ہم بغیر ٹھوس یقین دہانیوں جن میں مسئلہ کشمیر کا حل سب سے اوپر ہے۔ ہم نئی دہلی کی طرف سے پیش کردہ ”لالی پاپ“ کو قبول کر سکتے ہیں؟