ایک بزرگ صحافی کی بپتا

اسرار بخاری
صحافت کی خارزار میں کئی عشرے گزارنے والا صحافی آج پیرانہ سالی میں دربدر کر دیا گیا، جس قلم و قرطاس کی قوت نے کتنے لوگوں کو ان کا حق دلانے کی جدوجہد کی اور حقدار کی داد رسی نے اسے قلبی سکون کی دولت عطا کی البتہ زندگی بھر کلمہ حق بلند والا یہ صحافی دنیاوی دولت سے محروم ہی رہا ہے۔ آج وہ بزرگ صحافی وحید چراغ کسمپرسی کی زندگی گزار رہا ہے۔ جناب وحید چراغ آزاد کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد سے ہفت روزہ کارزار نکالتے رہے ہیں۔ نظریہ پاکستان اور کشمیر کے الحاق پاکستان پر گہرا یقین رکھتے ہیں اور اس کے لئے عمر بھر جدوجہد کرتے رہے۔ مظفرآباد میں زلزلہ نے ان کا سب کچھ تباہ وبرباد کردیا اور وہ اسلام آباد میں ایف سکس ون سٹریٹ نمبر 36 کے مکان نمبر 12 کے بالائی حصے میں مقیم ہو گئے جو ان کی بڑی بہن مسز زیڈ، جے بٹ کی وفات پر سول کورٹ اسلام آباد سے ان کے حصہ میں آیا تھا لیکن ان کی درمیانی بہن کے بیٹے سیفی سرور کی فیملی کو یہ گوارہ نہ ہوا چنانچہ انہوں نے دوسری منزل پر واقع ان کے کمرے میں جانے کا
راستہ بند کر دیا جس پر انہوں نے تھانہ کوہسار ایس ایچ او کو درخواست دی۔ ایس ایچ او کی کارروائی پر راستہ تو کھل گیا مگر ان کے باتھ روم کے گرم پانی کی لائن بند کر دی گئی، دوبارہ درخواست پر ایس ایچ او نے ماتحت پولیس آفیسر بدر منیر کو بھیجا جس کی موجودگی میں سیفی کی اہلیہ، بیٹے اور ملازم ریاض ٹیڈی نے ان کے ساتھ بدتمیزی کی پھر وحید چراغ کو تنگ کرنے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ اس اثناءمیں وحید چراغ کا چھوٹا بیٹا فرحان ان سے ملنے کے لئے آیا اور وہ اپنی تیسرے نمبر پر چھوٹی پھوپھی سے ملنے گیا اس کی آمد کی خبر سن کر سیفی سرور کے بیٹوں اور اہلیہ نے اسے زدوکوب کر کے انگلیاں توڑ دیں اور ان کی چھوٹی بہن کو یرغمال بنا لیا جس سے عید کے موقع پر وحید چراغ سمیت کسی سے ملاقات کی اجازت نہیں ہے۔ شوگر کے علاج کے نام پر اسے جو ادویات دی جا رہی ہیں ان سے وہ تیزی سے ذہنی مریضہ بن رہی ہے۔ ان حالات سے تنگ آ کر وہ وزیر آباد چلے آئے جہاں وہ گلی آرائیاں والی میں تنہائی کی زندگی گزار رہے ہیں ان کی داد رسی کے سلسلے میں ممتاز کالم نگار برادرم ہارون رشید نے بھی آئی جی اسلام آباد سے رابطہ کیا تھا مگر یہ بزرگ صحافی ”تادم“ تحریر داد رسی کا منتظر ہے۔ متذکرہ بالا حقائق آئی جی اسلام آباد کے نام ارسال کردہ خط میں بیان کئے گئے ہیں، یہ معاملہ اسلام آباد کا ہے۔ محترم سعود ساحر ، برادرم نواز رضا، برادرم مشتاق منہاس، برادرم نصرت جاوید اور دیگر صحافی دوستوں سے درخواست ہے وہ اس بزرگ صحافی کو اس کا جائز حق دلانے میں تعاون کریں ۔ وحید چراغ زندگی کی اس منزل پر ہے جہاں زندگی کی بے ثباتی کا رنگ زیادہ گہرا ہو جایا کرتا ہے اس سے پہلے کہ وحید چراغ کی زندگی کا چراغ گُل ہو جائے اسے اپنا حق پا لینے کی آسودگی ضرور ملنی چاہیے۔