آئین اور قانون کی پاسداری سے استثناء ممکن نہیں…(۱)

ایک پارلیمانی نظام میں، حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے، وزیر اعظم ملک کے سیاہ و سفید کا مالک ہوتا ہے ۔ اس لیے سلطنت کے اندر جو کچھ ہوتا ہے یا نہیں ہو سکتا اسکی ساری ذمہ داری ملک کے چیف ایگزیکٹو یا وزیر اعظم کے کندھوں پر ہی ہوتی ہے ۔ اگر وہ اچھی کارکردگی دکھائے تو قوم اسکو کندھوں پر اٹھا کر دوبار ہ اسکی جماعت کو منتخب کر لیتی ہے اور اگر حکمرانی کمزور ہو اور وزیر اعظم ملکی مسائل حل کرنے میں ناکام ہو جائے تو قوم اسکو اور اسکی جماعت کو مسترد کر دیتی ہے۔ جمہوری نظام میں یہ احتساب ووٹ کی پرچی سے کیا جاتا ہے۔لیکن ایک بات واضح ہے کہ وزیر اعظم اور اسکے چاروں وزرائے اعلیٰ ملک چلانے کیلئے بے پناہ اختیارات رکھنے کے باوجود ، ملک کے آئین اور قانون کی خلاف ورزی کا سوچ بھی نہیں سکتے اور اگر وہ ایسا کریں تو بے پناہ مقبولیت کے باوجود اور انتخابات میں بھاری اکثریت حاصل کرنے کے بعد بھی انکو عدالت کے کٹہرے میں کھڑا کیا جا سکتا ہے اور سخت ترین سزائیں بھی دی جاسکتی ہیں۔
قارئین کو یاد ہو گا کہ سابق امریکی صدر نکس کو و ائیٹ ہاوس سے بے عزت کر کے نکالا گیا اسی طرح ماضی میں ذوالفقار علی بھٹو جیسا ہر دلعزیز وزیر اعظم بدقسمتی سے تختہ دار تک جا پہنچا میاں نواز شریف کو بھی بطور وزیر اعظم عدالت میں پیش ہونا پڑا۔ پارلیمانی نظام حکومت میں صدر اور گورنرزکے عہدے صرف علامتی سمجھے جاتے ہیں اس لیے کہ روز مرہ کی حکمرانی میں ان کا کوئی خاص کردارنہیں ہوتا۔اسی طرح صدر کو ریاست کا سربراہ ہونے کی حیثیت سے وفاق کی علامت سمجھا جاتا ہے ۔ گورنرز صوبوں میں وفاق کی نمائندگی کرتے ہیں اور ریاستی عہدے دار ہونے کے ناطے وہ سیاسی سرگرمیوں میں حصہ نہیں لیتے بلکہ صدر یا گورنر بننے سے قبل ان کو قومی اسمبلی یا سینٹ کی رکنیت سے استعفی دینا پڑتا ہے اور ساتھ ہی صدر اور گورنر اپنے عہدوں سے سبکدوش ہونے کے بعد بھی دو سال تک قومی اسمبلی یا سینٹ کے ممبر منتخب نہیں ہو سکتے اور نہ ہی وہ اس عرصے میں سیاست میں ملوث ہوسکتے ہیں۔ ایسی صورت حال میں چونکہ صدر یا گورنرز کا حکومتی امور چلانے میں کوئی خاص کردار نہیں ہوتا اس لیے بحیثیت صدر یا گورنرریاستی امور کو نبھاتے ہوئے ان کی طرف سے اٹھائے گئے کسی بھی قدم یا کیے گئے کسی بھی سرکاری فیصلے پر ان کے خلاف فوجداری مقدمات قائم نہیں کیے جا سکتے ۔ اس صورت حال کا مطلب یہ بالکل نہیں کہ صدر یا گورنرز کو اپنے کسی ذاتی فعل سے ملکی آئین یا قانون توڑنے کی کسی صورت میں بھی اجازت ہے دنیا کے کسی بھی ملک میں ایسا نہیں ہوتااور نہ ہی کوئی بین الاقوامی قانون اسکی اجازت دیتا ہے بدقسمتی سے پاکستان کو تو منہ زور صدور اور گورنروں نے اپنی ماسی کا ویڑہ بنائے رکھا ہے اسی لیے یہاں پچھلے آٹھ سالوں سے اسمبلیاں برائے نام ہیں اور ریاستی سربراہ حکومتی سربراہ بنے ہوئے ہیں جسکیلئے وہ منتخب ہی نہیں ہوئے اور ساتھ ہی فوجداری مقدمات سے استثناء بھی مانگتے ہیں یعنی دو دو روٹیاں اور وہ بھی چوپڑی ہوئی کی طلب ہے ۔ مجھے یقین ہے کہ قانون کے ماہرین اس بات سے اتفاق کریں گے کہ ملکی آئین صرف صدر یا گورنر نہیں بلکہ ریاست کے ہر فرد اور افراد کے مجموعے یعنی قوم کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ اس لیے صدر اور گورنر کی زیادتی کا نشانہ کسی طرح بھی کسی فرد یا قوم کو نہیں بنایا جا سکتا نہ کوئی فرد اپنی زیادتی کا نشانہ کسی گورنر یا صدر کو بنا سکتا ہے یہی وجہ ہے کہ جنرل پرویز مشرف پر حملہ کرنے والے پھانسی پر لٹکا دیئے گئے اور کردوں کو قتل کرنے والا صدر صدام حسین بھی اس سزا سے نہ بچ سکا۔ اگر یہ بات ٹھیک ہے تو یہ کیسے ممکن ہے کہ ملک کے صدر اور سارے گورنرز کو اس بات کی اجازت ہو کہ وہ قومی خزانے میں پڑی ہوئی افراد یا قوم کی امانت کو لوٹ کریا کسی فرد یا اسکے رشتہ دار کو قتل کر کے بھی یہ کہیں کہ ملک کے آئین اور قانون میں بحیثیت صدر یا گورنران کیلئے استثنا کی گنجائش ہے۔
سند ھ میں ایم کیو ایم کی قیادت کے خلاف قائم ہونے والے سارے قتل کے مقدمات ہو سکتا ہے معجزانہ طور پر جھوٹے ثابت ہو جائیں لیکن ان درجنوں مقدمات میں سے اگر ایک بھی مقدمہ جائز اور سچا ہے تو پھراس مقتول پاکستانی اور اس کے مظلوم لواحقین کے حقوق کا تحفظ کس ملک کا آئین کرے گا۔ اس لیے صدر یا گورنروں کودیا گیا استثناء کبھی بھی کسی فرد یا پوری قوم کے خلاف کیے گئے جرم کے خلاف نہیں ہو سکتا۔یہی وجہ ہے کہ سپریم کورٹ کے پچھلے فیصلوں کے مطابق ملک کے آئین اور قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں میں خواہ صدر ہو یا گورنر، وزیر اعظم ہو یا وزیر اعلیٰ ، عسکری سالار ہو یا کسی عدالت کا جج، کسی کو بھی استثنا ء حاصل نہیں اور سوچا جائے تو پاکستان میںپچھلے دس سالوں سے صدارتی نظام ہے نہ پارلیمانی ۔ چونکہ حکومتی امور چلانے کیلئے سارے بڑے بڑے فیصلے وزیر اعظم کی بجائے صدر ہی کرتے ہیں۔ اگر صدر وزیر اعظم کا کردار ادا کرنا شروع کر دے اور گورنر صوبے چلانے کیلئے بیکراں ہوں تو پھر ان سب پہ وہ فوجداری مقدمات کیوں نہیں چلائے جا سکتے جو وزیر اعظم اور وزرائے اعلیٰ پربھی چلائے جا سکتے ہیں۔
بین الاقوامی عدالتوں میں کسی بھی ملک کے باشندے کے خلاف مقدمات کا مسئلہ بھی ایسے ہی ہے۔ اقوام متحدہ کسی بھی صدر ، وزیر اعظم یا گورنر کو کسی جرم کے خلاف چھوٹ نہیں دیتی۔ 1983 سے 1989 تک پانامہ کے صدر رہنے والے مسٹر نوریگا (Noriega) کا منشیات فروشی اور پیسوں کی سمگلنگ کے جرائم پر امریکہ نے مقدمہ چلایا اور وہ آج تک جیل میں ہے ۔ جولائی 2008 میں انٹرنیشنل کریمنل کورٹ نے سوڈان کے حاضرصدر عمر حسن احمد البشیر کے وارنٹ گرفتاری نکا ل دیئے جس کی وجہ سے وہ ابھی بھی گرفتاری کے ڈر کی وجہ سے ملک سے باہر جانے سے کتراتے ہیں۔
(جاری ہے)
آصف علی زرداری صاحب کیلئے باعزت راستہ تو یہی ہے کہ وہ اپنے آپ کو خود عدالت کے آگے پیش کر دیں اور اپنے خلاف سارے مقدمات کا ڈٹ کر مقابلہ کریں اگر وہ واقعی بے گناہ ہیں اور حکومت بھی ان کی اپنی ہی ہے تو پھر خوف کس نا انصافی کا، یہی مخلصانہ مشورہ انکو میاں نواز شریف صاحب نے بھی دیا ہے لیکن بدقسمتی سے مسائل اتنے گھمبیر ہیں کہ صدر مملکت یہ خطرہ مول لینے کو تیار نہیںاور دوسری طرف صورت حال یہ ہے کہ پاکستانی قوم کی ایک بہت بڑی اکثریت یہ ماننے کو بالکل تیار نہیں کہ ان سارے مقدمات میں سے ایک بھی سچا نہیں اور یہ تاثر اس وقت تک ختم نہیں ہو سکتا جب تک سویٹزلینڈ کے بینکوں میں پڑے ہوئے کروڑوں ڈالرز اور سرے میں موجود شاندار محل اور دوبئی، امریکہ ، برطانیہ ، فرانس اور سپین کی وہ جائیدادیں جن کی لسٹیں آئے دن انٹر نیٹ پر پوری دنیا میں بار بار دکھائی جاتی ہیں، موجود ہیںکچھ لوگوں ک ایہ ایمان ہے کرپشن کی داستانیں صرف افسانے نہیں بلکہ زمینی حقائق ہیں اس لیے عدالتیں ان الزامات پر اپنی مہر ثبت کریں یا نہ کریں ملوث افرادکو قوم سے صفائی کی چٹ ملنا مشکل ہے یہ بات ٹھیک ہے کہ کسی بھی فرد کے اپاہج ہونے کی سرکاری تصدیق تو ڈاکٹری معائینے کے بعد ہی ہو سکتی ہے لیکن سامنے کھڑے ہوئے ایک ٹانگ سے عاری لنگڑے کیلئے میڈیکل سرٹیفیکیٹ کا ہونا یا نہ ہونا بے معنی ہے۔ جناب شفقت محمود جو پیپلز پارٹی کے سابقہ سینٹر اور بے نظیر بھٹو کے بہت قریبی ساتھیوں میں سے تھے ، نے حال ہی میں اپنے کالم میں لکھا ہے:’’زرداری بہت سارے کرپشن کے الزامات سے خواہ بری ہوں یا ان کو سزا مل جائے۔۔۔۔ لیکن کیا ان کے قریبی ساتھیوں، دوستوں، مداحوں ، سیاسی اور میڈیا کی قابل ذکر ہستیوں اور عام لوگوں میں سے کسی کو بھی اس بات پر ذرہ برابر شک ہے کہ اتنا زیادہ مال و دولت اور جائیداد ان کے پاس کہاں سے آئی ‘‘
کچھ لوگ پوچھتے ہیں کہ NRO کے مسئلے کو مہران بینک کے مقدمے سے پہلے کھولنا کیوں ضروری تھا اس کا جواب کچھ لوگ یوں دیتے ہیں کہ ایک چلتی گاڑی کی باڈی پر اگرچند بہت بڑے اور بھدے ڈینٹ پڑے ہوں اور ساتھ ہی سٹیرنگ پر بیٹھے شخص کے ڈرائیونگ لائسنس کے جعلی ہونے کی خبربھی ہو تو پھر ظاہر ہے پہلی ترجیح ہر حالت میں باڈی کا ڈینٹ نکلوانے کی بجائے یہ یقین کرنا ہو گا کہ گاڑی واقعی ہی ایک ایسے پیشہ ور ائر دیانت دار فرائیور کے ہاتھ مین ہے جو یسے ہر طرح کے حادثوں سے محفوظ رکھے ۔بد قسمتی سے این آر او زدہ لوگوں میں سے کچھ بہت ہی اہم حکومتی عہدوں پر بیٹھے ہیں اور ان کی ایماندار ار اہلیت پر لوگوں کو شک ہے جو دور ہونا چاہیے۔ اس کے بعد مہران بینک اور قرضے ہڑپ کرنے والے مقدمات کو بھی نہ صرف فوراً سنا جائے بلکہ حمود الرحمان کمیشن کی رپورٹ میں اٹھائے جانے والے ہر مسئلے کا تجزیہ بھی اس لیے ضروری ہے تا کہ ماضی میں کی جانے والی غلطیوں کو مستقبل میں کوئی دہرانے کی جرات نہ کر سکے
قارئین 2007 میں جب صدر پرویز مشرف کے آرٹیکل 248 کے تحت استثناء کا مسئلہ سامنے آیا تو 20 جولائی 2007 کو 13 ججز پر مشتمل سپریم کورٹ کے بینچ نے جسٹس خلیل الرحمن رمدے کی صدارت میں ایک بہت واضح متفقہ فیصلہ ان الفاظ میں دیا تھا
\\\"Since neither the constitution nor any law can possibly authorize him (President) to commit a criminal act or do any thing which is contrary to law, the immunity can not extend to illegal or un-constitutional act.
ترجمہ: چونکہ نہ آئین اور نہ کوئی قانون صدر کو کوئی جرم سرزد کرنے یا کسی قانون کی خلاف ورزی کرنے کی اجازت دیتاہے اس لیے استثناء غیر قانونی اور غیر آئینی اقدامات کیلئے نہیں دیا جا سکتا۔