ہمدرد مجلسِ شوریٰ میں بلوچستان کے معاملات پر مباحثہ

ہمدرد مجلسِ شوریٰ نے 4 اگست 2010ءکو غازی علم الدین شہید روڈ لاہور پر واقع اپنے آڈیٹوریم میں ماہانہ اجلاس منعقد کرتے ہوئے ”بلوچستان کی صورت حال اور پاکستان کا استحکام“ کے موضوع پر جامع مباحثہ کا اہتمام کیا جس کے ایجنڈے میں کہا گیا کہ ”بلوچستان گزشتہ کئی عشروں سے گوناگوں مسائل کا شکار چلا آ رہا ہے اور بیرونی طاقتوں کی ہمہ پہلو سازشوں کا شکار ہے‘ ان سازشوں کا مقصد پاکستان کی سالمیت کو نقصان پہنچانا اور پاکستان کے انمول قدرتی وسائل پر قبضہ کرنا ہے“ آج بلوچستان کی صورتِ حال کے بارے میں گفتگو کے لئے میجر (ر) محمد یوسف کو خصوصی مقرر کے طور پر مدعو کیا گیا جبکہ دیگر مقررین میں اس اجلاس کی سپیکر بشریٰ رحمان‘ ڈاکٹر ایم اے صوفی‘ قائداعظم لائبریری کے شیر افضل ملک‘ ماہر تعلیم جمیل نجم‘ احمد حسن اور عبدالودود خان شامل تھے۔ پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے بحث کو سمیٹتے ہوئے فرمایا کہ میں ماضی قریب میں بلوچستان نہیں گیا ہوں اس لئے وہاں واقعی جو صورت حال ہے اس کے بارے میں کوئی تازہ محاکمہ تو پیش نہیں کر سکتا مگر جو کچھ سن رہا ہوں اس کے مطابق تو بلوچستان کی صورت حال بہتر نظر نہیں آ رہی اور جن مقررین کو ڈاکٹر رفیق احمد نے سن کر بلوچستان کی صورت حال کا اندازہ لگایا ان میں خصوصی مقرر (ر) میجر محمد یوسف ہی تھے جن کو ملازمت کے سلسلے میں بلوچستان میں قیام کرنا پڑا اور اس بات کو بھی 19 برس گزر چکے ہیں پھر اپنی تقریر میں بھی انہوں نے واضح نہ کیا کہ وہ گزشتہ 19 برس کے دوران آخری بار کب بلوچستان گئے اور بلوچستان کی تازہ صورت حال کے بارے میں ان کے پاس کون سے ایسے چشم دید حقائق تھے کہ ان کو ایک اہم مقرر کے طور پر پیش کیا گیا وہی حال ڈاکٹر ایم اے صوفی کا تھا وہ کہیں اپنے طالب علمی کے زمانے میں یعنی قیام پاکستان کے فوراً بعد کوئٹہ میں رہے اور غالباً شادی بھی وہیں کی مگر بعد ازاں ماضی قریب و بعید میں انہیں کوئٹہ کی زیارت کا موقع نہ ملا اور اگر وہ گزشتہ چند سال کے دوران کبھی کوئٹہ گئے بھی تو اس کا ذکر نہ کیا‘ باقی قائداعظم لائبریری والے شیر افضل ملک بھی 2002ءمیں وہاں اپنے اور لائبریری سائنس میں پوسٹ گریجوایٹ ڈپلومہ کیا۔ دیگر تمام مقررین میں سے بھی کسی نے ہرگز وہ نہ بتایا کہ انہوں نے کوئٹہ یا بلوچستان کی زیارت بھی کی ہوئی ہے گویا ان مقررین میں سے کوئی بھی ایسی شخصیت نہیں تھی جس کی باتوں پر اعتبار کر کے بلوچستان کی حقیقی صورتِ حال کا اندازہ کیا جا سکتا اور اس کا ایک ثبوت وہ بھی تھا کہ چیف سپیکر میجر ریٹائرڈ محمد یوسف نے کم و بیش ایک گھنٹہ اپنے خیالات کا اظہار کیا جو یقینی طور پر تصنیع وقت کے مترادف تھا کیونکہ وہ اپنی ساری تقریر میں نواب محمد اکبر بگٹی اور ان کے خاندان کی تفصیلات اور ان تفصیلات پر جو 19 برس پہلے وقوع پذیر ہوئیں اور بگٹی خاندان کے ساتھ اپنے تعلقات پر ہی گفتگو کرتے رہے اور وہ ایسی تقریر تھی جو واقعتاً بعید از موضوع تھی چنانچہ ایک مقرر نے تنگ آ کر سوال کے انداز میں فرما بھی دیا کہ شاید ہی کسی مقرر نے ہمدرد مجلس شوریٰ میں موضوع کو ملحوظ رکھ کر اظہار خیال کیا ہو جو جس کے جی میں آیا وہ کہتا رہا‘ اگر آخر میں ڈاکٹر رفیق احمد اس نام نہاد بحث کو سمیٹ نہ لیتے تو قطعاً کچھ پتہ نہ چلتا کہ اجلاس میں کیا ہو رہا تھا البتہ ڈاکٹر رفیق احمد نے کہا کہ آج کی اس بحث سے یہی باور کر سکتا ہوں کہ بلوچستان کا کوئی مسئلہ ”میکرڈ ہے اور کوئی مسئلہ مائیکرو“ ہے مگر وہ صورت حال جو کچھ بھی ہے اس کا انحصار ہمارے حکمرانوں کے طرزِعمل اور ہماری حکومت کی پالیسی پر ہے۔ ایک حکومت کی اولین کامیابی وہ ہوتی ہے کہ عوام اس کے فرمان پر اعتبار کرتے ہوں چنانچہ ہماری حکومت کو ابھی اپنے قوم و وطن کے اطمینان کے لئے اپنا اعتبار قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ واقعہ تو وہ ہے کہ بلوچستان کا الگ سے کوئی مسئلہ نہیں کیونکہ پاکستان کے تمام حصے پاکستان ہیں اور پاکستان کے جس حصے پر بھی دشمن وار کرنے کی کوشش کرتا ہے پاکستان ہی اس کا جواب دیتا ہے جہاں تک بلوچستان کو صوبائی درجہ دئیے جانے کا تعلق ہے تو جناب قائداعظم نے تو قیام پاکستان سے بھی 19 برس پہلے اپنے ”چودہ نکات“ میں بلوچستان کو صوبائی درجہ دئیے جانے پر دباﺅ ڈالا تھا اور جب پاکستان قائم ہو گیا تو بھی بلوچستان کو جلد ہی صوبہ بنا دیا جاتا مگر بابائے قوم حضرت قائداعظم محمد علی جناح رحمتہ اللہ علیہ اس دار فانی سے رخصت ہو گئے تاہم بلوچستان کی آزادی بھی جناب قائداعظم ہی کی بصیرت و تدبر کا ثمر ہے‘ آج ایک مقرر نے محمد اکبر بگٹی کے ایک بیان کا حوالہ دیا کہ انہوں نے کہا تھا کہ بلوچستان کا سرداری نظام اور بلوچستان کے سردار پاکستان کے قیام ہی سے قائم رہے ورنہ اگر (خدانخواستہ) پاکستان قائم نہ ہو پاتا تو بلوچستان کا سرداری نظام 1948ءسے بھی پہلے ختم ہو جاتا مگر تازہ معاملات کے بارے میں ڈاکٹر رفیق احمد نے کہا کہ بلوچستان کے بارے میں گفتگو کرتے ہوئے بھارت اور دیگر ممالک کی پاکستان دشمن لابی کا احساس و احتساب بھی کیا جانا چاہئے واقعہ تو وہ ہے کہ بلوچستان میں قطعاً ایسے حالات نہیں ہیں جتنا فضا میں واویلا سنائی دیتا ہے البتہ احساس ہوتا ہے کہ جیسے بلوچستان کے لوگوں کے ساتھ مکمل انصاف نہیں ہو رہا تو پھر وہ مکمل انصاف تو پوری ملت پاکستان کے ساتھ بھی نہیں ہو رہا مگر سازشی قوتوں کا ڈٹ کر مقابلہ کرنا ہو گا۔