چودھری فیملی پر بہتان

صوفی محمد انور ..........
پاکستان کے موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ پاکستان کے تمام سیاسی لیڈر خصوصاً پاکستان مسلم لیگیوں کے نام پر سیاست کرنے والے اپنی تمام سابقہ رنجشیں بھلا کر ملک و قوم کیلئے اکٹھے ہو جائیں کیونکہ ہر طرف دہشت گردی اور ناگہانی آفات نے ملک کو گھیر رکھا ہے۔ میں مجبوری کے تحت دو سیاسی لیڈروں کے درمیان نفرت پھیلانے والوں کے مضمون کا جواب لکھ رہا ہوں کیونکہ دس سال پہلے بھی اسی طرح کے لوگوں کی وجہ سے میاں نواز شریف پریشانیوں سے دوچار ہو چکے ہیں۔روزنامہ نوائے وقت پاکستان کے رنگین صفحات پر میاں نواز شریف کے ذاتی فوٹو گرافر ذوالفقار علی بلتی کے نام سے 28 جولائی کو مضمون شائع ہوا جس میں مضمون لکھنے والے نے جنرل پرویز مشرف کے12اکتوبر1999ءکے اقدام اور اس کے بعد کے حالات و واقعات پر مسلم لیگ اور چودھری صاحبان کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا ہے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ اس وقت میاں نواز شریف بطور وزیراعظم امیر المومنین بننا چاہتے تھے جس کی مثال سپریم کورٹ پر حملے کی دی جا سکتی ہے لیکن بات لمبی ہو جائے گی۔ میاں نواز شریف کے سامنے آرمی کا ایک مضبوط ادارہ (ڈسپلن فورس) تھی۔ ان کی خواہش تھی کہ وہ کسی نہ کسی طرح اس ادارے پر اپنا کنٹرول کریں۔ اس بات کا آرمی کے تمام بڑے بڑے آفیسروں کو پتہ چل چکا تھا۔ وہ آفیسرز مختلف ذرائع سے میاں نواز شریف کو تنبیہہ بھی کرتے تھے اور Message بھی Convey کرواتے تھے کہ میاں نواز شریف اپنی حکومت کریں۔ ملک کے اندر دوسرے اداروں کے ساتھ چھیڑ چھاڑ نہ کریں۔ آرمی کے لوگ ان کے کسی کام میں دخل اندازی نہیں کرینگے۔ میاں نواز شریف کو اپنے ساتھیوں سے صلاح مشورہ کرنے کی عادت نہیں ہے۔ جن دنوں میاں نواز شریف نے جنرل ضیاءالدین بٹ کی جنرل پرویز مشرف کی جگہ تقرری کرنے کی کوشش کی اس سے چند گھنٹے پہلے چودھری شجاعت حسین وزیراعظم ہاﺅس سے آئے تھے۔ میاں نواز شریف نے چودھری شجاعت حسین سے مشورہ تک نہیں کیا کہ بیرون ملک گئے جنرل پرویز مشرف کو معزول کرنا ہے۔ اس وقت دو اداروں کا مقابلہ تھا۔ ذرا اپنی ایمانداری اور ضمیر کو جگا کر سوچیں کہ کسی بھی ملک خاص طور پر اپنے پاکستان کا چیف آف آرمی سٹاف غیر ملکی دورہ پر ہو اور وزیراعظم اڑتے ہوئے جہاز میں برطرف کرنے کا اعلان کر دے تو پھر کیا ہو گیا جو کچھ ہوا، یہی ہونا تھا۔
میں خود مارشل لاءکے خلاف ہوں لیکن 99ءتک جتنے بھی مارشل لاز لگے ہیں وہ چند سیاسی لوگوں کی کوتاہیوں اور نااتفاقیوں کی وجہ سے لگے ہیں۔ میاں نواز شریف حکومت کس طرح ختم ہوئی، ملک کے اندر مارشل لاءکے حالات کس طرح پیدا ہوئے، ان تمام واقعات پر روشنی ڈالنے کی ضرورت تھی۔ مسلم لیگ ایک سیاسی پارٹی ہے۔ قیام پاکستان سے لے کر اب تک ہر آنے والے حکمرانوں نے اسے اپنے اقتدار کیلئے استعمال کیا۔ بیشک کنونشن مسلم لیگ ہو، جناح مسلم لیگ ہو، ملک قاسم گروپ ہو، خواجہ خیر الدین مسلم لیگ ہو، پیر پگاڑا گروپ، محمد خاں جونیجو گروپ، نواز لیگ یا پاکستان مسلم لیگ قائداعظم ہو، کسی نہ کسی طرح حکمرانوں نے مسلم لیگ کو ہی اقتدار میں رکھا۔ میں خود چودھری شجاعت حسین کے ساتھ اٹک جیل بھی گیا۔ حقیقت یہ ہے کہ چودھری شجاعت حسین کے ساتھ بیگم کلثوم نواز چودھری صاحب کی گاڑی میں اٹک گئی تھیں۔ میں بھی اس گاڑی میں اور میاں نواز شریف کا ملازم شکیل بھی اس گاڑی میں موجود تھا ۔شروع شروع میں میاں نواز شریف نے چودھری شجاعت حسین کے اسلام آباد والے گھر میں سیاست کا آغاز کیا جبکہ چودھری شجاعت حسین نے میاں نواز شریف کو اپنے گھر رہنے کی آفر کی جو انہوں نے قبول کی۔ بیگم کلثوم نواز کو چودھری صاحبان نے ہر طرح کے تعاون کی پیشکش کی۔ میں چودھری شجاعت حسین کے ساتھ کراچی بھی نواز شریف کو ملنے گیا تھا اور چودھری صاحب نے میاں نواز شریف کو حالات سے آگاہ کیا اور ہر طرح کے تعاون کا یقین دلایا۔ لاہور میں چودھری شجاعت حسین نے قابل احترام میاں محمد شریف (مرحوم) کو بتایا تھا کہ چند موقع پرست اور خودغرض لوگ غلط باتوں سے بیگم کلثوم نواز کے کان بھرتے ہیں جو کہ وہ جیل میں میاں نواز شریف کو بتاتی ہیں جس کی وجہ سے میاں نواز شریف پریشان ہوتے ہیں۔ ان کو سمجھائیں اب میاں محمد شریف مرحوم اس دنیا میں نہیں ہیں۔ وہ بھی بیگم کلثوم نواز کے ساتھ خودغرض اور مفاد پرستوں کی موجودگی کا برا مناتے تھے کیونکہ ان لوگوں کی کوشش ہوتی تھی کہ مخلص ساتھیوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کر کے اپنی اہمیت بڑھائی جائے۔ یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ میاں نواز شریف کی پاکستان (جیل) میں موجودگی کے دوران چودھری صاحبان نے الگ پارٹی بنانے کی کوشش کی تھی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ چند لوگ جن کو چودھری صاحبان کی ذات اچھی نہیں لگتی تھی چودھری صاحبان کی موجودگی میں پارٹی اور عوام میں کوئی عزت اور قدر نہیں تھی۔ ایک طرف میاں نواز شریف کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ملک میں مارشل لاءلگ گیا تھا جس سے سیاسی لوگ پریشان ہو گئے تھے اور دباﺅ کا شکار تھے۔ اس ماحول میں چودھری صاحبان نے اپنے ساتھیوں کا حوصلہ بڑھانے کیلئے دن رات محنت کی۔چودھری شجاعت حسین اور چودھری پرویز الٰہی کو سابق گورنر پنجاب جنرل جیلانی مرحوم نے میاں نواز شریف کا ہاتھ سیاست سکھانے کیلئے پکڑایا تھا۔ میاں نواز شریف تحریک استقلال سے آئے تھے۔ چودھری صاحبان ایک سیاسی خاندان کے فرد تھے ان کا سیاست میں اعلیٰ مقام تھا۔ مضمون میں جس طرح چودھری ظہور الٰہی شہید کا ذکر کیا گیا ہے، یہ جھوٹ، ناقص معلومات اور منافقت پر مبنی ہے۔ چودھری ظہور الٰہی شہید ایک عظیم سیاسی لیڈر تھا وہ میاں محمد شریف مرحوم (والد میاں نواز شریف) کے خاص دوست تھے۔ مجھے ان دونوں عظیم افراد کے درمیان ملاقاتوں کو دیکھنے کا موقع ملا ہے، یہ دونوں بہت ہی ایک دوسرے کو عزت کی نگاہوں سے دیکھتے تھے۔ میاں نواز شریف جب سعودی عرب چلے گئے تو تمام ن لیگ کے لیڈروں اور عہدیداروں نے دہائی دینا شروع کر دی کہ میاں نواز شریف کو زبردستی جنرل مشرف نے ملک بدر کر دیا ہے حالانکہ معاملہ بالکل اس کے الٹ تھا۔ میاں نواز شریف دس سال کا معاہدہ کر کے گئے۔ وہ شاہی مہمان بن کر گئے۔ تمام خاندان اور نوکروں کو ساتھ لے کر گئے۔ وہ حمزہ شہباز کو ضمانت کے طور پر چھوڑ گئے اور تمام لیڈر (ن لیگ) اس معاہدہ سے انکار کرتے رہے۔ پھر نواز شریف نے پانچ سال کے معاہدے کو تسلیم کیا آخرکار دس سالہ معاہدے کو تسلیم کر لیا۔ اس لیڈر کے بارے میں ذرا سوچیں جس نے مکہ معظمہ میں اور مدینہ شریف کی سرزمین پر بیٹھ کر دس سال معاہدے کا اعتراف نہ کیا۔ جب میاں نواز شریف سعودی عرب میں شاہی مہمان بن کر چلے گئے تو پھر کیا چودھری صاحبان سیاست چھوڑ دیتے اور خاموش ہو کر بیٹھ جاتے یا ن لیگ کے خودغرض اور مفاد پرستوں کی طرح زیر زمین چلے جاتے اور اپنی پارٹی کے ورکروں، عہدیداروں کو تنہا چھوڑ دیتے جو کہ ناممکن تھا۔ چودھری صاحب نے جنرل پرویز مشرف کی حکومت سے مذاکرات کئے، بلدیاتی الیکشن کروائے، اپنی پارٹی کو منظم کیا اور ملک کے اندر سیاسی لوگوں کو اکٹھا کر کے دوبارہ سیاسی ماحول پیدا کیا۔موجودہ حالات میں محترم مجید نظامی گواہ ہیں کہ مسلم لیگیوں کے اتحاد میں کون لوگ رکاوٹ ہیں۔ وہ ایک محب الوطن بزرگ ہیں۔ وہی بتا سکتے ہیں کہ مسلم لیگ کے اتحاد میں کس کس مسلم لیگی نے ان کوپورا پورا اختیار دیا تھا کہ ملک و قوم کی خاطر وہ جو بھی کوشش کریں گے وہ اس میں شامل ہونے کیلئے تیار ہیں۔ کئی دوسری باتوں اور واقعات پر سے پردہ اٹھا سکتا ہوں۔ اب اگر ان کو ناعاقبت اندیش اور خودغرض لوگ صحیح راستے پر نہیں آنے دیتے تو اس کی ذمہ داری چودھری شجاعت حسین پر نہیں ڈالی جا سکتی۔ چودھری شجاعت حسین صاف ستھری سیاست کرنے کے عادی ہےں۔ چودھری صاحبان سے زیادہ کوئی بھی لیڈر پارٹی اخراجات برداست نہیں کر سکتا۔ اعجاز حسین بٹالوی کو چودھری صاحبان نے میاں نواز شریف کے کیس پیروی کرنے کیلئے کہا تھا۔