پاکستان کے موجودہ حالات‘ عالمی تناظر میں … (۱)

کالم نگار  |  مطلوب احمد وڑائچ

سانحہ نائن الیون کے بعد جس طرح پاکستان کی کمزور قیادت نے ردعمل ظاہر کیا اور پھر جب رات کے اندھیرے میں واشنگٹن سے موصول ہونیوالی کال پر پاکستان کے اس وقت کے آمرنے بستر پر سوتے ہوئے اپنے آقائوں کو سلیوٹ کیا اور یہ تک نہ سوچا کہ اتحادی دھمکیاں نہیں دیتے کہ ہم تمہیں پتھر کے زمانہ میں پہنچا دینگے۔ اس وقت بدترین جمہوریت ہوتی کوئی کمزور جمہوری سربراہ بھی ہوتا تو وہ ضرور سامراجی دھمکیوں کے جواب میں میگا فون ہاتھ میں پکڑ کر کم از کم راجہ بازار پہنچ جاتا اور اپنے عوام سے مشورہ کر لیتا کہ جیو گے مرو گے میرے ساتھ یا نہیں؟
امریکی صدر بش کے اس حکم کے بعد یقینا ہمارے حکمرانوں کے پاس کچھ زیادہ چوائس نہیں تھی اور پھر ہمیں لائن کی اسی طرف کھڑے ہونا پڑا جدھر وہ خود کھڑے تھے۔ اس بات کو 9سال ہونے کو ہیں اس دوران بہت سا پانی پلوں کے نیچے سے گزرگیا مگر اب تو پل ہی نہ رہے اس ملک کو اتحادی لائن کی طرف کھڑا ہونے کی سزا یہ ملی کہ پورے ملک کا انفراسٹرکچر محفوظ نہیں ،سول و ملٹری ٹارگٹ محفوظ نہیں، اس ملک کی سالمیت محفوظ نہیں، ہزاروں سکولز، ڈاک خانے، ہسپتال بموں سے اڑا دیئے گئے ۔ہزار فوجیوں سمیت 15ہزار سے زائد لوگ دہشت گردی کا شکار ہو کر موت کی آغوش میں چلے گئے۔ لاکھوں زخمی عمربھر کا روگ لیکر بیساکھیوں کے سہارے وہیل چیئر پر حرف و یاس کی تصویربنے بیٹھے ہیں حتیٰ کہ اس وطن عزیز کے سب سے مضبوط دفاعی حصار جی ایچ کیو کو یرغمال بنا کر پوری دنیا کو ہمارا تماشا دکھایا گیا ۔ ازل سے امریکی جس پاکستانی مضبوط ادارے کیلئے خوفزدہ ہیں اس آئی ایس آئی کے دفاتر کو سرعام ٹارگٹ کیا گیا درجنوں افراد ہمارے جو کہ ہمارا اثاثہ ہیں کو ہم سے بارود کے زور پر چھین لیا گیا ملکی و غیر ملکی سرمایہ دار پاکستان کا رخ کرنے سے ڈرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پچھلے تین سالوں میں زرمبادلہ کے ذخائر میں نہ صرف کمی ہوئی بلکہ دنیا بھر سے ملٹی نیشنل کمپنیاں پاکستان کو چھوڑ کربنگلہ دیش اور سری لنکا جیسے ممالک کا رخ کر رہی ہیں اور شومئی قسمت آج بنگلہ دیش کا ٹکہ جو کبھی پاکستانی ایک روپے کے عوض 20 روپے مل جاتے تھے‘ ہماری کرنسی سے سبقت لے گیا ہے۔ ڈالر ، پونڈ اور یورو کے مقابلے میں تو روپیہ کہیں سٹینڈ ہی نہیں کرتااور ہم اس شخص کی طرح جو جس شاخ پر بیٹھا ہو اسی کو کاٹنے کے درپے ہو ہر قسم کے انجام سے بے خبر پاکستان کے اٹھارہ کروڑعوام کی نسوں میں بارود بھر کر آنیوالی نسل کو سوڈان اور صومالیہ جیسا ایک ملک بنا دینا چاہتے ہیں اور وہ بھی نصیب دشمناں اگر پاکستان مکمل تباہی سے بچایا لیا گیا تو؟
سابقہ آمر نے ملک کو آٹھ سال کیلئے صرف 10بلین ڈالر میں بیچ دیا تھا اور وہ بھی پوری طرح تو کیا 20 فیصد بھی وطن عزیز کی فلاح اور تعمیر پر استعمال نہ ہوئے بقیہ رقوم آمر اور اسکے ٹولے کے غیرملکی بینک اکائونٹ کے راستے دوبارہ مغربی ممالک کو واپس پہنچ گئی جبکہ اس وقت تک ملک کا جو سٹرکچر تباہ ہوا ہے صرف اسکی مالیت45ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔ ملک کی کریڈیبلٹی اور اعتماد کو جو نقصان پہنچا ملک کی اساس کو جو گہرے زخم آئے وہ اسکے علاوہ ہیں۔ گذشتہ ہفتے میں یورپ کے چھ ہفتوں کے دورے کے بعد واپس وطن لوٹا ہوں۔ اپنے سفر کے دوران میری چند دوست یورپین ممبران پارلیمنٹ سے ملاقاتیں ہوئیں اسکے علاوہ یورپ کے چند مشہور صحافیوں اور تجزیہ نگاروں سے بھی گفتگو ہوئی یورپ کے دانشوروں کا ایک بڑا طبقہ جس طرح آنیوالے دنوں میںپاکستان کے حالات کی تصویر کشی کرتا ہے وہ بڑا بھیانک ہے۔ امریکہ کے افغانستان سے افواج نکالنے کی اصلی وجوہات تو کئی ہیں مگر ایک بنیادی وجہ نیٹو اتحادیوں کا اب امریکہ کے اس ایڈوانچر کیلئے اپنا سرمایہ اور افواج مزید وہاں پر نہ بھیجنے کا اعلان ہے۔ جرمن چانسلر مادام مارکل کو داخلی طور پر اس ایشو پر ہزیمت اٹھانا پڑ رہی ہے اور ضمنی بلدیاتی الیکشن میں انکی پارٹی اپنی ساکھ گنوا بیٹھی ہے‘ کچھ ایسا ہی معاملہ اٹلی کے وزیراعظم برلہ سکونی کا ہے‘ داخلی مشکلات کی وجہ سے اور کرپشن کے الزامات کی وجہ سے انکی گورنمنٹ اس وقت انتشار کا شکار ہے۔ فرانس کی اپنی مجبوریاں ہیں وہاں پر چرچ اور حکومت کے درمیان فاصلے بڑھ گئے ہیں۔ معاشی طور پر بھی فرانس کو پرابلمز ہیںیہی وجہ ہے کہ فرانس کے صدر سرکوزی عوام کی توجہ موجودہ مسائل سے ہٹا کر برقعے اور نقاب کی طرف لے جانا چاہتے ہیں۔ سپین اور یونان دیوالیہ ہونے کا اعلان کر چکے ہیں۔ اٹلی کے 80فیصد بنکوں نے دیوالیہ ہونے کا اعلان کر دیا ہے۔ ان معروضی حالات میں جب کساد بازاری اور اسٹاک ایکسچینج آخری ہچکیوں پر ہیں جرمن نے یورپ کے نئے اور پرانے ممالک کو کھربوں یورو کی امداد دے کر ایک دفعہ پھر پائوں پر کھڑا کرنے کی کوشش کی ہے مگر جرمن اور یورپین پارلیمنٹ کے اراکین اور عوام جانتے ہیں کہ ریت سے بنائی جانیوالی اس دیوار کو اب کسی دھکے کی ضرورت نہیں یہ اپنے ہی وزن سے چاروں شانے چت گرنے والی ہے۔ (جاری ہے)
ان حالات میں یورپ اور نیٹو افواج عراق اور افغانستان میں مزید کسی ایڈوانچر کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ یہی وجہ ہے امریکہ نے اتحادیوں سے واضح اشارہ ملنے کے بعد اچانک افغانستان سے 2011ء میں فوجیں نکالنے کا ٹائم ٹیبل دیا ہے جرمن زبان کے موقر میگزین ورلڈ ویک کے مسٹر URS Grigerنے مجھ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ 2011ء میں امریکن افواج کے انخلا کی خبر2010ء میں جاری کرنا دراصل شکست کا برملا اعتراف ہے جس کی وجہ سے آئندہ چار سالوں میں امریکہ نے وہاں اپنے مقامی اتحادیوں کے اعتماد کو بھی ٹھیس پہنچائی ہے یہی وجہ ہے کہ اس اعلان کے فوری بعد کٹھ پتلی کرزئی حکومت نے طالبان کو مذاکرات کی دعوت دی ہے جس کے نتیجے میںطالبان مزید مضبوط ہوں گے کیوں کہ امریکہ نے واپسی کا اعلان کرکے اپنے ہی اتحادیوں کو کچھ دیرکے لیے غوروفکر کا بند دروازہ کھول دیا ہے۔ سوئس نیشنل ٹیلی ویژن کے سنیئر تجزیہ نگار مسٹر Zum Steinنے مجھے بتایا کہ امریکہ دراصل افغانستان سے فوجیں نکال کر واشنگٹن یا نیویارک واپس نہیں لے جائے گا بلکہ ان چار سالوں میں ایک نیا میدان جنگ تیار کرے گا اور یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ڈیڑھ لاکھ امریکن فوج کا اگلا مورچہ بلوچستان اور خیبرپختواہ ہوں گے۔ امریکن و مغربی اتحادیوں کے چار سالہ پروگرام کے دوران اس خالی جگہ کو بھارتی افواج پُر کریں گی جن کا پیپر ورک مکمل ہے اور آئندہ چار سالوں میں ڈیڑھ لاکھ بھارتی فوج افغانستان میں موجود ہوں گی۔ اس طرح پاکستان کی عسکری قیادت اور انٹیلی جنس ایجنسیاں جو کہ یہ خواب دیکھ رہی ہیں کہ نیٹو انخلا کے بعد وہ کابل پر دوبارہ قابض ہو سکیں گے؟ تو یہ خواب خرگوش ہے بھارت جسے اب کشمیر کے ساتھ ملحقہ سرحدوں سے کوئی بڑا خطرہ اس لیے نہیں ہے کہ پاکستان کی افواج کا ایک بڑا حصہ پہلے ہی وزیرستان وانا میں مصروف ہے اور بیک وقت آدھ درجن محاذوں پر نبرد آزما ہونا تکنیکی طور پر پاکستان کی افواج کے بس کی بات نہیں ہو گی اس طرح نیٹو کے اس متوقع انخلا کے بعد پاکستان پوری طرح علاقائی جنگ میں گِھر جائے گا۔