پاکستان کوئی سوکھا بَنیا ؟

محمد عمر دین ولد علی بخش شیخ جھجھر ضلع روہتک انڈیا سرگودھا پاکستان....
میرے دادا جان فرخ نگر سے نقل مکانی کرکے جھجھر میں آکر آباد ہو گئے وہاں وہ 30 سال سے رہ رہے تھے پھر پاکستان کی آزادی کیلئے جدوجہد شروع ہو گئی میرے آباو اجداد نے مسلم لیگ کے پلیٹ فارم کو تقویت دینے کیلئے پورا پورا ساتھ دیا جب آزادی پاکستان کا اعلان ہوا تو ہمارے آس پاس قتل و غارت شروع ہو گئی تو آس پاس کے مسلمان اپنی جانیں بچاتے ہوئے ہمارے گاوں آنا شروع ہو گئے وہاں مسلمانوں کا ایک جم غفیر ہو گیا پھر ہمیں کسی ذرائع سے معلوم ہوا کہ ہندو اکٹھے ہوئے کر مسلمانوں پر ایک بڑا حملہ کرنے والے ہیں ہم نے بھی اپنے دفاع کی تیاری شروع کر دی کیونکہ ہم لڑ کر مرنے کو ترجیح دیتے تھے اسی دوران ہمارے گاوں کے فوج میں ملازم میجر حنیف اور بریگیڈئر فاروق خاں نے اپنے ہم منسب انگریز فوجی سے رابطہ کیا اور صورتحال سے آگاہ کیا اس انگریز فوجی نے انہیں ہر طرح سے مدد کی یقین دہانی کروائی تو اس انگریز فوجی نے ہمارے علاقہ کو کیمپ میں تبدیل کر دیا.... ہندو اور مسلمانوں میں یہ معاہدے طے کروا دیا کہ کوئی فریق ایک دوسرے کے علاقہ میں نہیں جائے گا لیکن ہندووں نے اپنا دباو بڑھاتے ہوئے ہندو زیادہ سے زیادہ اکٹھے کرلئے تو مسلمانوں نے اس صورت حال سے اس انگریز فوجی کو آگاہ کر دیا تو انگریز فوجی نے اپنے جوانوں کے ہمراہ علاقہ کا دورہ کیا اور ہندووں سے کہا کہ آپ نے معاہدہ کر رکھا ہے لہٰذا آپ چلے جائیں لیکن ہندو نہ مانے دوبارہ اسرار پر بھی کوئی کان نہ دھرا اور اپنی ضد پر قائم رہے تو اس انگریز فوجی آفیسر نے اپنے جوانوں کو گولی چلانے کا حکم دے دیا جب گولی چلنے لگی تو ہندو بھاگ کھڑے ہوئے اس کے بعد ہمیں جانے کا آرڈر مل گیا ہم قافلہ کی شکل میں پیدل پاکستان کی طرف روانہ ہوئے ہم ایک ماہ کی مسافت کے دوران خوراک کی کمی کی وجہ سے بھوک پیاسے ہیڈ رسول کے بارڈر سے پاکستان میں داخل ہوئے.... دوران سفر ہم پر ایک حملہ ہوا لیکن ہمارے ساتھ بلوچ رجمنٹ کے جوان ہونے کی وجہ سے ہمارا کوئی نقصان نہ ہوا پہلے ہم ملتان پہنچے وہاں سے ہم سرگودھا میں آکر آباد ہو گئے.... بس ایک تشنگی باقی ہے اور شاید یہ باقی ہی رہے اور ہم دنیا سے کوچ کر جائیں وہ یہ کہ جس مقصد کیلئے ہمارے لیڈروں نے انتھک محنت اور کوشش کی ہمارے آباواجداد نے بے بہا مالی جانی اور عزتوں کی قربانی اس ملک کو بنانے کیلئے دی مگر مقصد ملتا نظر نہیں آتا کیونکہ ہمارے ملک کو شروع دن سے ہی کرپٹ لوگوں نے لوٹنا شروع کر دیا تھا جو آج تک جاری و ساری ہے.... میں نے اپنے سوال میں پوچھا کہ اس کا کوئی حل آپ کی نظر میں ہے تو جواب ملا کہ اب پاکستان کو ایک امام خمینی کی ضرورت ہے۔