وفاقی حکومت پنجاب کو دس ارب روپے فراہم کرے

کالم نگار  |  محمد مصدق

قدرتی آفات کا سامنا کرنا سب سے مشکل کام ہے اور جہاں اتنے وسیع پیمانے پر پانی بھپر جائے کہ شکار پر شکار کرتا چلا جائے تو ان حالات میں حکومتی اہلکاروں کی کارکردگی پر سب کی نظر ہوتی ہے اور اگر الیکٹرونک میڈیا پر عوام کے انٹرویو سنیں تو ایک آواز سنائی دیتی ہے کہ ہمارے حکمران، ایم پی اور ایم این ایز کہاں ہیں آخر وہ ہماری مدد کو کیوں نہیں آئے۔ ان حالات میں وزیراعلیٰ پنجاب محمد شہبازشریف کی کارکردگی حیرت انگیز ہے۔ سیلاب زدہ علاقوں میں نہ صرف خود گئے ہیں بلکہ اپنے افسروں کو بھی بھجوایا ہے تاکہ تیزی کے ساتھ امداد کا سلسلہ جاری رہے اور جلد از جلد انہیں اس مصیبت سے چھٹکارا ملے، سیکرٹری اطلاعات شعیب بن عزیز اس طوفانی دورے میں وزیراعلیٰ کے ساتھ ہیں اور میڈیا کو تمام اطلاعات فراہم کر رہے ہیں، انہوں نے نوائے وقت کو بتایا اس وقت وزیراعلیٰ کی ہر ممکن کوشش ہے کہ ہر مصیبت زدہ تک خود پہنچےں اور ان کی امداد کریں۔ سب سے زیادہ اہمیت پکی پکائی روٹی اور سالن فراہم کرنے پر دی جا رہی ہے۔ اس مقصد کے لےے عام باورچیوں کے علاوہ بڑے ہوٹلوں کے خانساموں تک کی خدمات حاصل کی گئی ہےں۔ پھر لائیوسٹاک کی بحفاظت منتقلی کو بہت اہمیت دی جا رہی ہے۔ فصلوں کے نقصان کا ازالہ تو وفاقی حکومت سے دس ارب روپے ملنے کے بعد ممکن ہو گا ورنہ محمد شہبازشریف نے تو اعلان کر دیا ہے کہ اگر وفاقی حکومت نے دس ارب روپے کی امداد فوراً فراہم نہ کی تو پھر مجبوراً انہیں سستی روٹی کا منصوبہ بند کرکے اس رقم کو متاثرین سیلاب پر خرچ کرنا پڑے گا۔
وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے لےے پنجاب حکومت کی اپیل پر دس ارب روپے فراہم کرنا اس لےے کوئی مشکل کام نہیں ہے کہ بے نظیر سپورٹ پروگرام کے لےے ایک طرف تو سیلاب سے زیادہ کی رقم موجود ہے تو دوسری طرف امریکی امداد میں سے 75 ملین ڈالر مزید اس سپورٹ پروگرام کے لےے فراہم کےے گئے ہیں۔ حکومت پاکستان کو دانش مندی سے کام لینا چاہےے اور فوری طور پر بے نظیر سپورٹ پروگرام سے صرف پنجاب ہی نہیں بلکہ دوسرے صوبوں کو بھی فوری امداد فراہم کرنی چاہےے۔ کیونکہ بےنظیر سپورٹ پروگرام کا بنیادی مقصد یہی ہے کہ غریب انسان کم از کم دوائیاں تو کھا سکے اور پنجاب حکومت عملی طور پر یہی کام کر رہی ہے، ویسے شہبازشریف نے بدھ کے روز خود کشتی چلا کر ایک پوری فیملی کو بچایا جس کی وجہ سے حیرانی ہوئی کہ کمر درد کہاں چلا گیا۔