ممبئی دھماکے اور اتحادی ممالک کی منصوبہ بندی

ممبئی دھماکے 27.11.08 اتحادی ممالک کی سازش تھی۔ یہ سازش کیوں، کیسے اور کس لئے کی گئی۔ اس کا حتمی جواب دینا مشکل ہے مگر مابعد واقعات اور حالات نے یہ ثابت کر دیا کہ اتحادی ممالک بروقت مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں کسی حد تک ناکام بھی رہے مگر ان کی نیت نہیں بدلی اور حکمت عملی تبدیل کر کے اپنے اہداف کی کوشش تاحال جاری رکھی ہوئی ہے۔ اتحادی ممالک کا خطے میں مجاہد طالبان سے لڑنا اور کمزور کرنا واضح اہداف میں شامل ہے۔ مگر اس امر میں بڑی مشکل یہ ہے کہ مجاہد طالبان نے اتحادی ممالک کے ظلم و ستم کے سامنے ہمت ہاری اور نہ ہتھیار ڈالے۔ پاکستان کی سرکاری، سیاسی اور عسکری مقتدر قوتیں ظالم، حملہ آور اتحادی ممالک کی حلیف اور معاون ہیں بلکہ بعض مذہبی جماعتیں بھی بالواسطہ اتحادی ممالک کے لئے دست تعاون دراز کرتی رہتی ہیں۔
ممبئی حملے 3دن جاری رہے۔ بھارتی سرکار نے تحقیق و تفتیش کا انتظار کئے بغیر کہا کہ حملے ISI اور پاکستانی فوج میں بھارت مخالف عناصر کی کارروائی ہے۔ نیز مذکورہ اداروں کو لشکر طیبہ نے (مجاہدین) دہشت گرد فراہم کئے۔ القصہ بھارتی سرکاری نے پاکستان کو 48گھنٹے کا جنگی الٹی میٹم دیا کہ پاکستانی سرکار لشکر طیبہ کے دہشت گرد (مجاہدین) بالخصوص حافظ محمد سعید وغیرہ، فوج اور ISI کے متعلقہ احباب بھارت کے سپرد کرے نیز لشکر طیبہ جیسی دیگر فلاحی اور جہادی تنظیموں کے خلاف کارروائی کرے وگرنہ جنگ کےلئے تیار رہے۔ امریکی صدر بش نے بھارتی دھمکی کی تائید کی اور کہا کہ پاک بھارت جنگ کی صورت میں امریکہ بھارت کا ساتھ دے گا۔ اسی طرح کی تائیدی دھمکی برطانیہ اور دیگر اتحادی ممالک نے بھی دی۔ پاکستان نے بھارت کے ساتھ جنگ لڑنے کا الٹی میٹم قبول کیا اور کہا کہ ہم فوری طور پر پاک افغان سرحد سے فوجیں بلا کر پاک بھارت سرحد پر متعین کر لیتے ہیں۔ پاک افغان مجاہدین نے پاک بھارت جنگ میں پاکستانی فوج کے شانہ بشانہ کھڑے ہونے کا بیان دیا اور کہا کہ پاک افغان سرحد پر اتحادی فواج کو ہم اکیلے سنبھال لیں گے۔ نیز بھارت کے ساتھ جنگ کے لئے مجاہدین کے جتھے روانہ کریں گے جو پاکستانی فوج کے ساتھ مل کر ہندو بھارت کے خلاف لڑیں گے۔ تینوں افواج نے جنگی تیاریاں مشقیں اور مظاہرے شروع کر دیے۔ منتشر قوم منظم اور متحد ہو گئی۔ حتیٰ کہ زرداری اور گیلانی نے بھی جنگی الٹی میٹم قبول کر لیا۔ پاکستان کی ہنگامی جنگی تیاریاں دیکھ کر اتحادی ممالک جنگ سے بھاگ گئے اور نئی حکمت عملی کے تحت امن کی بات کی اور کہا کہ لشکر طیبہ اور اس جیسی دیگر تنظیمیں عالمی دہشت گردی کا مرکز اور پناہ گاہ ہیں۔ پاکستان ان کے خلاف کارروائی کرے۔ نیز ISI اور فوج میں بھارت مخالف عناصر کو لگام دے۔ ممکنہ جنگ میں ناکامی کے خدشے کے تحت اتحادی ممالک نے اقوام متحدہ میں اپیل کی کہ لشکر طیبہ اور دیگر فلاحی تنظیمیں دہشت گرد ہیں۔ ان پر پابندیاں لگائی جائیں۔ پابندیوں کے ضمن میں پاکستان کی جمہوری سیاسی حکومت نے اقوام متحدہ کے ساتھ بھرپور تعاون کیا اور ممبئی حملوں میں لشکر طیبہ کو ملوث کرنے کے بوگس اور جعلی ثبوت فراہم کئے۔ چین اقوام متحدہ میں برسوں سے لشکرطیبہ اور دیگر تنظیموں پر پابندی کو ویٹو کر دیتی تھی، اس بار صدر زرداری کی خصوصی درخواست پر چین نے لشکر طیبہ پر پابندیوں کو ویٹو نہیں کیا۔ پاکستان فوجی سلامتی کونسل کے سربراہ میجر جنرل (ر) اسد درانی نے پریس کانفرنس منعقدہ نیویارک میں اعتراف کیا کہ اجمل قصاب پاکستانی شہری ہے۔ بعد ازاں وزیراعظم داخلہ رحمان ملک نے خصوصی پریس کانفرنس، اسلام آباد میں اعتراف جرم کرتے ہوئے کہا کہ اجمل قصاب کا تعلق لشکر طیبہ سے ہے۔ مولانا زکی الرحمن لکھنوی ممبئی حملوں کے ماسٹر مائند ہیں۔ لہٰذا لشکر طیبہ کی اعلیٰ قیادت اتحادی ممالک کے دباﺅ کے تحت نظربند اور قید کر دی گئی۔ بعض قائدین عدم ثبوت کے باعث عدالتی فیصلوں کے تحت رہا ہو ئے۔
(جاری ہے)