سیلاب زدگان کو چوروں ڈکیتوں سے بچائیں

کالم نگار  |  پروفیسر سید اسراربخاری

طیارے کے جانکاہ حادثے کے بعد سیلاب کی تباہ کاری ہمارے لئے اللہ کی طرف سے ایک اشارہ ہے کہ ہم اپنے معاملات درست کر لیں اور ملک سے جرائم کا خاتمہ نہ سہی تو ان میں کمی تو ضرور کر دیں، سب سے زیادہ ذمہ داری حکومت اور پھر عوام پر عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنا قبلہ درست کر لیں۔ اس وقت بھارت کے ڈیموں کے باعث وطن عزیز پانی میں ڈوب چکا ہے اور بیشتر علاقے زیرِ آب ہیں۔ سیلاب کے تندوتیز ریلوں نے لوگوں کو بے گھر کر دیا اور وہ بیچارے گھروں کی چھتوں پر محصور ہیں یا کیمپوں میں پناہ لئے ہوئے ہیں اس کسمپرسی کے عالم میں چور ڈکیتوں لٹیروں کو موقع مل گیا ہے اور وہ کیمپوں پر حملہ کر کے چھتوں پر پناہ لینے والوں کو نشانہ بنا کے ان کو لوٹ رہے ہیں۔ خواتین سے زیورات چھین رہے ہیں اور لوٹ مار کا ایک بازار گرم ہے جسے سرد کرنے کے لئے کوئی حکومتی سیکورٹی فراہم نہیں کی گئی۔ آج اگر ہم نے بھی ڈیم بنا لئے ہوتے تو یہ آفت نہ ٹوٹتی، مگر ہمارا تو جیسے اس ملک سے لوٹنے کا رشتہ ہے اس کے سوا ہمارا اس سے کوئی تعلق نہیں، کوئی ادارہ اپنے فرائض منصبی ادا نہیں کرتا۔ حکمرانوں، سیاستدانوں کا فرض ہے کہ وہ مصیبت کی اس گھڑی میں سیلاب زدہ علاقوں میں موجود ہوں اور سیلاب زدگان کو نہ صرف تحفظ فراہم کریں بلکہ ان کو چوروں ڈاکووں کی دست برد سے بھی محفوظ رکھیں۔ اس وقت کئی مقامات سے بکثرت یہ اطلاعات آ رہی ہیں کہ سیلاب کے متاثرین کو لوٹا مارا جا رہا ہے۔ حکومت جس قدر جلد ممکن ہو اس بات کا بندوبست کرے کہ جو لوگ سیلاب سے بھاگ کر کچھ زیور یا نقدی لے کر بھاگے ہیں ان کی جان و مال کو تحفظ فراہم کیا جائے اگر ہماری اس طرح کی باتیں وطن عزیز سے باہر پہنچیں گی تو ملک کی کس قدر بدنامی ہو گی۔ آج وقت ہے کہ ہمارے لیڈر پانی میں اتر کر سیلاب زدگان کو بچاتے مگر وہ اپنے اللوں تللوں سے فارغ نہیں وہ بھلا کیا خاک کسی مصیبت زدہ کی مدد کو پہنچیں گے۔ آج ہمارے حکمرانوں کو بھی آہستہ آہستہ یہ احساس ہونے لگا ہے کہ کالا باغ ڈیم بننا چاہیے۔ سچ کیا ہے کسی نے کہ آں کہ دانا کند نادان ہم میکند مگر بعد از خرابی بسیار (جو دانا کرتا ہے نادان بھی وہی کچھ کرتا ہے مگر بڑی خرابی و تباہی کے بعد) مختلف جگہوں پر امدادی کیمپ قائم ہیں مگر یہ بھی اطلاع ہے کہ بعض کیمپ جعلی ہیں، اس لئے ذرا دیکھ بھال کر فنڈز دیں اور امدادی سامان بھی اول تو خود پہنچائیں اگر ایسا نہ ہو سکے تو مستند کیمپوں میں امدادی سامان اور رقوم جمع کرائیں اس مقصد کے لئے نوائے وقت گروپ آف پیپرز نے بھی نوائے وقت فلڈ ریلیف قائم کیا ہے جو کہ نوائے وقت کے دفتر ہی میں موجود ہے جو لوگ بذریعہ چیک مدد کرنا چاہیں وہ اس پتہ پر چیک ارسال کر سکتے ہیں۔ چیک نوائے وقت فلڈ ریلیف فنڈ 2010 کے نام بھجوائے جا سکتے ہیں۔ پاکستان اس وقت آفات و بلیات کی زد میں ہے جس میں زیادہ تر ہمارا اپنا ہاتھ ہے۔ جعلسازی کا ہر سطح پر دور دورہ ہے ہر چند کہ جمہوری حکومت ہے مگر دکھائی نہیں دیتی پورے ملک کی تطہیر کی ضرورت ہے مگر حکمران سیاستدان خاموش ہیں۔ ایک طرف سیلاب ہے دوسری جانب جعلی ڈگریاں ہیں تیسری جانب ڈرون حملے ہیں اور چوتھی جانب کشمیر پر مظالم کی بھرمار ہے۔