سیلاب تو آگیا، سیاسی طوفان کو کون روکے گا

صحافی  |  عطاء الرحمن

نواز شریف نے کہا ہے صدر آصف علی زرداری جمہوریت کے لئے خطر ہ بن چکے ہیں وہ ان کے خلاف بھی لانگ مارچ نکالنے کا سوچ رہے ہیں۔ جمہوریت کا تحفظ بہت ضروری ہے ۔ مگر جناب زرداری کے تین سالہ دور حکومت اور عوام کو در پیش سلگتے ہوئے مسائل سے ان کی لا پرواہی نے تو قومی یکجہتی کو بھی بہت بڑے خطرے میں مبتلا کردیا ہے۔ ظاہر ہے اس کے منفی اثرات ملکی سلامتی پر بھی پڑ سکتے ہیں جو پہلے ہی بہت سے چیلنجوں سے نبرد آزما ہے۔ صدر صاحب کے انتہائی پر تعیش دورہ فرانس و برطانیہ نے کوئی قومی خدمت سرانجام نہیں دی۔ نہ کسی کو اس کی توقع ہے ایک کام البتہ کیا ہے۔ پاکستان کے عوام پر یہ حقیقت واشگاف کردی ہے کہ مملکت خدادا کا اقتدار جو محض انکی بیوی کے اچانک اور مظلومانہ قتل کی وجہ سے موصوف کی جھولی میں آن گرا تھا۔ وہ اس کے لائق اور مستحق نہیں۔ ورنہ جیسا بھی صدر مملکت ہو اس کی حیثیت قوم کے باپ کی سی ہوتی ہے۔ پارلیمانی جمہوری نظام حکومت نے تو سربراہ مملکت کا کردار ہوتا ہی ایک غیر سیاسی لیکن تمام ابنائے وطن کے سروں پر دست شفقت رکھنے والی شخصیت کا ہوتا ہے۔ ہمارے موجودہ صدر صاحب قوم کو قدرتی آفات اور اپنے اتحادیوں کے گرم کیے ہوئے قتل و غارت گری کے بازار کے رحم و کرم پر چھوڑ کر ملک سے باہر بیٹھے ہیں۔عین اس عالم میں جبکہ چاروں صوبے منہ زور اور تباہ کن سیلاب میں ڈوبے جارہے ہیں۔ بے بس و لا چار لوگ اپنے گھروں سے محروم ہوگئے ہیں۔ موت ان کے آگے منہ کھولے کھڑی ہے۔ لا تعداد افراد کو یہ بلا ہضم کرچکی ہے۔ بیماریوں نے گھیرا کیا ہوا ہے۔ صوبوں کے پاس ضروری وسائل نہیں جناب صدر فرانس کی پر کیف فضاﺅں سے لطف اندوز ہوتے ہوئے لندن کی دھوپ کا مزا لے رہے ہیں۔ مہنگے ترین ہوٹل میں قیام پذیر ہیں۔ قومی خزانہ لٹایا جارہا ہے۔ صدر ہیں کہ اہل وطن کی کسی پکار مطالبے یا صرف نصیحت کی پرواہ نہیں۔
اس پر اکتفا نہیں۔ زرداری صاحب اپنے پیچھے جو کراچی چھوڑ کر گئے ہیں۔ اس شہر کے وہ خود بھی باسی ہے۔ ہماری صنعتی و اقتصادی شہ رگ بھی وہاں خانہ جنگی کا سماں ہے طوائف الملوکی کا راج ہے۔ قتل عام جاری ہے۔ یہ سارا کام ان کی مرکزی و صوبائی حکومتوں کے زیر سایہ ان سیاسی تنظیموں کے ہاتھوں ہورہا ہے جوموصوف کی اتحادی ہیں۔ ایم کیو ایم، اور اے این پی ایک دوسرے پر قتل و غارت گری کا الزام عائد کرتی ہیں۔ دونوں نے زرداری صاحب کی قیادت میں حکومت کا باقاعدہ حصہ لیا۔ اسمبلی کے ایوان اور کابینہ کے اجلاس میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر بیٹھا جاتا ہے۔ باہر نکل کر یہی لوگ اپنے اپنے کیمپوں میں شامل ان عناصر کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں۔ تحفظ بھی فراہم کرتے ہیں جو رقیب تنظیم کے کارکنوں کو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بناتے ہیں۔ نوبت باایں جا رسید کہ ایم کیو ایم کے رکن صوبائی اسمبلی رضا حیدر کو دن دیہاڑے ان کے پولیس محافظ سمیت تہہ تیغ کرکے رکھ دیا ہے۔ ردّعمل میں کراچی مقتل گاہ بن گیا ہے۔ دو روز میں 75 افراد کی جانیں لے لی گئیں۔” اے این پی“ والوں کا کہنا ہے ان میں بھاری اکثریت ان کے افراد کی ہے۔ یوں اس ہنگامے نے نسلی اور لسانی فساد کی شکل اختیار کرلی ہے۔ ماضی میں کیا کبھی ایسا ہوا ہے۔ اتحادیوں کے آپس میں اختلافات نئی بات نہیں۔ یہ بڑھتے ہیں تو حکومتیں بھی ٹوٹ جاتی ہیں۔ یا اسکی اتحادی جماعت باہر نکل کر اپنی راہ علیحدہ کرلیتی ہے۔ لیکن یہ کارِ عجیب جو پہلے کسی نے دیکھا تھا نہ سنا، زرداری صاحب کی صدارت کے تحت ظہور پا رہا ہے کہ اتحادی جماعتیں مل کر حکومت کے مزے لوٹیں اور قتل و غارتگری کا بازار گرم کرکے ایک دوسرے کے گھروں کو تڑپتے لاشے بھی روانہ کریں۔ زرداری صاحب ہیں کہ ان سب باتوں سے بے پروا ہو کر برطانیہ میں بیٹھ کر بیٹے کی سیاسی تاجپوشی کا جشن منانے میں مصروف ہیں جبکہ برطانیہ کے وزیراعظم نے ہمارے ہمسایہ دشمن ملک میں کھڑے ہوکر سرعام ہماری توہین کی ہے۔
اس عالم میں میاں نواز شریف قومی لیڈر کی حیثیت سے لانگ مارچ کے بارے میں ضرور سوچیں لیکن انہیں اس پر بھی غور کرناچاہیے اور باقاعدہ لائحہ عمل تیار کرناچاہیے کہ آئین، جمہوریت اور پارلیمانی روایات کی سختی کے ساتھ پابندی کرتے ہوئے اس ناگفتہ بہ صورت حال سے جو تیزی کے ساتھ قومی المیہ بنتی جارہی ہے،نجات کیسے حاصل کی جاسکتی ہے۔ یہ وقت کا سب سے اہم فریضہ ہے اور ایک مسلم ملکی قائدکی حیثیت سے اس کی ذمہ داری جنا ب نواز شریف پر ہے۔ انہیں اس سے بحسن و خوبی عہدہ برا ہونے میں دیر نہیں لگانی چاہیے کہ پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ چکا ہے او ر اگر اس کا بہاﺅ قابو سے باہر ہوگیا تو کہیں عام سیلاب کے ساتھ ایک بڑے اور زیاد ہ تباہ کن سیاسی طوفان کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ میاں برادران بجاطورپر اپنی سرگرمیاں سیلاب زدگان کے امدادی کاموں پر مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ انہیں ممکنہ سیاسی طوفان کی پیشگی روک تھام کیلئے بھی قدم بڑھانے چاہیے۔ ہم خیال سیاسی جماعتوں کی لیڈرشپ کو ساتھ ملا کر چھوٹے صوبوں کے عوام کو اعتماد میں لیناچاہیے۔ ان کے دلوں میں امید کی نئی کرن روشن کرنا نیا ولولہ اور عزم پیدا کرناچاہیے تاکہ حکمرانوں کے اعمال کے نتیجے میں آنے والے طوفان سے جمہوریت کو بھی بچایا جاسکے اور ملکی سلامتی کےلئے بھی بہتر تحفظ کا سامان ہو۔