بیاد حضرت میاںجی حافظ راج دین ؒ

(اسلم طاہرالقادری) ..........
حاجی راج دین کو پہلی بار مسجد میں نماز کی ادائیگی فرماتے دیکھا میں نے اور مرحوم جعفر قاسمی صاحب (صوفی، دانشور اورساٹھ کے عشرے میں بی بی سی کے براڈکاسٹر)دونوں نے جناب نذیر احمد غازی( بعد میں نامور قانوندان اورعدالت عالیہ لاہور کے جج) کے بارے میں دریافت کیا اب ےاد نہ ہے کہ نذیر احمد غازی صاحب سے اس روز ملاقات کی گئی تھی مگر وہ گھمبیر تاثر جو اس مختصر ملاقات میں جعفر قاسمی صاحب کے ذہن پر ہوا تھا وہ اسطرح تھا کہ وہ خود کلامی کرنے لگے ،لباس، سبحان اللّہ ، سفید براق ! کیا صوفی ذائقے کی خوش ذوقی کا نمونہ ہیں صاف ستھرے دیندار شرفا اور پنجاب کے کھاتے پیتے۔۔۔۔ اور پھر کئی ایک اسمائے صفت قاسمی صاحب جلال و ہیبت کے بیان میں کہہ گئے اور یوں کئی دنوں تک جب ملاقات ہوئی تو موصوف نے میاں جی سے لمحاتی ملاقات کی آب وتاب کے تا ثر کو باردگر یاد فرما کر روحانی انسباط کو عام کیا ۔ اب یہ دونوں شخصیتیں اس دنیا سے عدم آباد کو اٹھ گئیں ، اور ان کے تذکرے باقی رہ گئے ۔ میاں جی روحانی دائرہ میں فیض رساں تھے ہمارے ھاں جسطرح مغرب میں ایک خاص عہد کے انسان کو ایک مخصوص فکر کے حامل ہونے پرایک نام دیا جاتا ہے، مثلا Renaissance man وغیرہ اسطرح کی کوئی اصطلاح موجود ہے نہ یا میرے علم میں ہے جس سے میں جامعیت کے ساتھ سترہویں سے بیسویں صدی کے دورانیے اور متصل عہد کے صوفیوں (پنجاب کی تحدید کے ساتھ )کے روحانی اور ذوقی میلانات کی تفہیم کر سکوں وہ معروف معنوں میں صوفی دانشور نہ تھے مگر ان سے جب بھی مکالمہ ہوا یا زوال پذیر معاشرتی صورت حال پر باتیں ہوئیں تو انہوں نے بے حد اختصار کے ساتھ وہ چونکا دینے والا محاکمہ کر ڈالا کہ سننے والا دم بخود رہ گیا ۔ جیسا کہ مولانا رومی کی مثنوی (شریف )کو بزبان اقبال ، زبان پہلوی میں قرآن کہا گیا۔ میاں جی ایک وسیع المشرب انسان تھے ، انکے شاگردوں میں کئی ایک قدرے الگ مسالک کے لوگ بھی تھے مگر انکی فیض رسانی میں کبھی فرق نہ آیا ہر ایک شاگرد آپ سے گوناں ارادت کیشی کا اظہار کرتا نظر آتا۔ آپ ستر برسوں سے زائد شہر لاہور میں رہے وہ حضرت داتا گنج بخشؒ کی درگاہ کے راستے اس بے مثل شہر میں داخل ہوئے اور اکتوبر(۳۲شعبان المعظم) ۴۰۰۲ ع میں جب یہ شہرابھی زوال و ادبار اور دہشت گردانہ غارت گری کا نشانہ نہ بنا تھا ، اسی درگاہ شریف کے راستے نماز فجر کی ادائیگی کے بعد کی ساعتوں میں اس وطن کو واپس چلے گئے جہاں سے وہ ہجرت کر کے شہر لاہور کے تکوینی نظام کا حصہ ہو ئے ۔ میاں جی کی نماز جنازہ میں تمام شرعی اور ذوقی پہلو تفصیل کے ساتھ پیش نظر رکھے گئے جو غازی صاحب کی سلامت طبعی اور انکے سلسلہ عالیہ نقشبندیہ کے صوفی بزرگ کے خلف الرشید ہونے کی مستند مثال ہے۔ چھ برس ہونے کو آئے کھاریاں کے نواح میں لانگو شریف کی بستی کے قبرستان میں حضرت میاں جی آسودہ خاک ہیں ہر سال ۳۲ شعبان المعظم کو انکے خلاف جناب نذیر احمد غازی کی معیت میں برسی کا اہتمام کرتے ہیں جہاں انکی روحانی برکات کے تذکرہ ہوتے ہیں۔ حضرت میاں جی ؒکبھی جاہ پسند واقع نہ ہو ئے تھے اور وہ دنیاوی حشم و جاہ کے حامل لوگوں سے عمر بھر گریزاں رہے اور کمال بے نیازی کے ساتھ سورج کی کرنوں کی آمد میں مزاحم سایوں کو الگ کر دیتے تھے۔