بھٹو کیس ری اوپن ضرور کیجئے مگر ۔۔۔۔

خواجہ عبدالحکیم عامر.........
پتہ چلا ہے کہ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے حالیہ دورہ لاہور کے دوران پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی اور سابق وزیراعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کے کیس جس کے نتیجے میں انہیں پھانسی دی گئی تھی کو ری اوپن کرنے کا عندیہ دیا ہے اور اس ضمن میں وہ وکلا کی ایک کمیٹی بھی بنا رہے ہیں تاکہ بھٹوکیس کو نہ صرف ری اوپن کرایا جائے بلکہ بھرپور انداز میں ری اوپن کئے جانے والے کیس کی پیروی بھی کی جا سکے۔
بھٹو شہید کا کیس تو سالوں پہلے ری اوپن ہو جانا چاہیے تھا مگر مصلحتاً ایسا نہ کیا جا سکا، دختر شہید دو مرتبہ اقتدار میں بھی آئیں مگر باپ کا کیس ری اوپن نہ کرا سکیں۔ یار لوگ تو اقتدار کو پھولوں کی سیج سمجھتے ہیں مگر اصل میں ایسا نہیں ہے۔ اقتدار میں ایسی ایسی مصلحتیں اور مجبوریاں آڑے آ جاتی ہیں کہ ایک بہن اپنے سگے بھائی کے قاتل نہیں پکڑ سکتی، انہیں عوام کے سامنے لانے سے قاصر نظر آتی ہے۔ اس کا یہ مطلب نہیں کہ دنیا سے بہن بھائی کا پیار اُڑنچھو ہو گیا ہے بہنیں تو آج بھی بھائیوں پر جان نچھاور کرنے پر تیار نظر آتی ہیں مگر ایک بیٹی وزیراعظم بن کر بھی باپ کی روح کو قرار نہ دلوا سکے، ایک بہن وزیراعظم ہونے کے باوجود سگے بھائی کے قاتل نہ پکڑ سکے۔ اس بحث میں الجھنے کی چنداں ضرورت نہیں کہ بے نظیر بھٹو نے دو بار اقتدار میں آنے کے باوجود باپ کے قاتلوں کو بے نقاب کیوں نہ کرایا؟
بھٹو شہید اپنی موت کے حقدار نہ تھے سید یوسف رضا گیلانی نے بھٹو صاحب کا کیس ری اوپن کرنے کا جو عندیہ دیا ہے یار لوگوں نے اسے ضرورت سے زیادہ سراہا ہے۔ دوسری طرف دنیا والے باتیں بنانے سے بھی باز نہیں رہتے مثلاً گیلانی حکومت بی بی کے قاتل تو پکڑ نہ سکیں بھٹو کے قاتل بھلا کیونکر بے نقاب کر پائے گی۔ ایک رائے یہ سامنے آئی ہے کہ وزیراعظم گیلانی نے بھٹو کیس ری اوپن کرنے کا شوشہ چھوڑ کر بے نظیر قتل کو پس پشت ڈالنے کی کوشش کی ہے۔ ایک نقطہ نظر یہ سامنے آیا ہے کہ یوسف رضا گیلانی صاحب نے موجودہ عدلیہ کو پیغام دیا ہے کہ ہم بھٹو کیس کے ذریعے عدلیہ کو بدنام کر سکتے ہیں۔ جتنے منہ اتنی باتیں۔ اس ضمن میں ایک دو اہم باتیں حکومت کے نوٹس میں لانا ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ سچ ہے کہ کیس ری اوپن کرا کے اور بھٹو کو بے گناہ قرار دلوا کر بھٹو کی بے چین روح کو یقیناً سکون دیا جا سکتا ہے مگر اس کےلئے زرداری صاحب اور گیلانی صاحب کو سب سے پہلے بے نظیر قتل کیس کو کلیئر کرانا ہو گا کیونکہ بے نظیر کے قاتل سامنے آنے تک پاکستانی عوام خاص کر جیالے بھٹو کیس میں وہ دلچسپی نہیں لیں گے جو انہیں لینی چاہیے اور سب سے اہم بات یہ کہ بھٹو کیس کے لئے حکومت کو ایسے وکلا کا انتخاب کرنا ہو گا جن کے کردار ہر قسم کے شک اور شبہ سے مبرا ہوں۔