بس ایک کمی

اسرار بخاری ۔۔۔
سر راہے میں تجویز پیش کی گئی ہے کہ غیر ملکی خواتین کے پاکستان آنے پر پردے کی پابندی عائد کردی جائے یہ تجویز حب الوطنی کے جذبہ سے پیش کی گئی ہے مگر اس کی بڑی شدومد کے ساتھ مخالفت کا بھی امکان ہے کیونکہ اس کی سب سے پہلے اور سب سے زیادہ مخالفت محترمہ عاصمہ جہانگیراور ان کے قبیلے کی خواتین کی جانب سے کی جاسکتی ہے اسے بنیادی انسانی حقوق کے منافی قرار دیا جائے گا اوربہت ممکن ہے کہ اگر اس تجویز پر عمل کیا گیا تواس کے خلاف باقاعدہ تحریک چلائی جاسکتی ہے ویسے پاکستان ایک انتہائی لبرل معاشرہ ہے یہاں بے شمار خواتین پردہ کرتی ہیں اور بے شمار خواتین پردہ نہیں کرتیں بہت سی خواتین جزوی پردہ کرتی ہیں پردہ کے حوالے سے تصورات بھی جدا جدا ہیں مثلاً کسی کے نزدیک آنکھ کا پردہ کسی کے نزدیک محض شرم و حیا کسی کے نزدیک ہاتھ اور چہرے کے سوا باقی جسم کا پردہ، بہت سی خواتین نیم اور بہت سی مکمل مغربی لباس پہنتی ہیں جبکہ بہت سی خواتین ہاتھوں کے دستانے اور پیروں میں جرابوں کے ذریعہ سر سے پاﺅں تک پردہ کرتی ہیں بہر حال جو جس حال میں ہے کسی کو اعتراض نہیں ہے نہ کوئی روک ٹوک ہے کیونکہ پاکستان ایک لبرل معاشرہ ہے اس لئے پردے کو بھی خواتین کی مرضی ومنشا کے مطابق تسلیم کرلیا گیا ہے۔دنیا کے بہت سے ملکوں میں پاکستان کو یہ انفرادیت حاصل ہے کہ یہاں کسی کے ذاتی معاملات میں مداخلت نہیں کی جاتی ذاتی معاملات میں عدم مداخلت عمومی رویہ ہے مثلاً محترمہ عاصمہ جہانگیر جن کا پہلے ذکر ہوا ان کی سرگرمیوں کو امریکہ نواز بھارت نواز قرار دیکر یا ان کے بھارتی فوجیوں کے ساتھ بھنگڑوں پر تو اعتراض کیا گیا مگر ان کی ذاتی زندگی کبھی ہدف تنقید نہیں بنی مثلاً جب سے وہ عاصمہ جیلانی کیس کے حوالے سے مشہور ہوئی ہیں اس ناچیز نے تادم تحریر کبھی یہ اعتراض نہیں سنا کہ انہوں نے ایک قادیانی جہانگیر صاحب سے شادی کیوں کی یا مثلاً اداکار ہ نور نے ایک بھارتی ہندو وکرم سے شادی کی تو عام حلقے تو کیا مذہبی حلقوں کی جانب سے بھی کوئی طوفان کھڑا نہیں کیا گیا پاکستان ایک روادار معاشرہ بھی ہے بعض انتہائی سنگین واقعات کے باوجود یہاں فرقہ وارانہ منافرت پیدا کرنے کی کوئی سازش کامیاب نہیں ہوئی اختلافات اپنی جگہ لیکن بریلوی، دیوبندی، اہلحدیث یا شیعہ گلی محلوں میں مکمل ہم آہنگی اور خیر سگالی کے جذبہ کے ساتھ رہتے ہیں رواداری کی انتہا ہے کہ لاہور میں قادیانیوں کی عبادت گاہوں پر حملے ہوئے اس ناچیز کی کسی بھی مسلک سے تعلق رکھنے والے شخص یا عالم سے بات ہوئی کسی نے اس کی حمایت نہیں کی بلکہ ہر ایک نے ناپسندیدگی کا اظہار کیا یہ امر باعث اطمینان ہے کہ پاکستان ایک روادار معاشرہ ہے البتہ ایک کمی جو اس عاجز کی کوتانظری بھی ہوسکتی ہے پاکستان سیاسی لحاظ سے زندہ و بیدار معاشرہ نہیں بن سکا ہے سیاسی حمایت اور مخالفت برادریوں، علاقانیت اورلسانیت کی بنیاد پر کی جاتی ہے اگرمعاف کردیاجائے تو بہت سی صورتوں میں لالچ اور ذاتی مفادات بھی پیش نظر ہوتے ہیں اور پاکستانی قوم کے دکھوں کی وجہ یہی ہے جس دن پاکستانی قوم نے صحیح سیاسی شعور حاصل کرلیا اور سیاسی نمائندوں کے انتخاب میں صحیح سیاسی شعور کا مظاہرہ کیا وہ دن پاکستانی قوم کے مسائل کے خاتمے اور تیز رفتار ترقی کے آغاز کا دن ہوگا۔