اہانت ِ اسلام اور مغربی میڈیا

ابوالامتیاز ‘ ع۔ س۔ مسلم ..........
اسلام‘ مسلمانوں‘ قرآنِ مجید اور رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مغربی اخبارات اور ان سے متعلقین کا تعصب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں‘ وہ آزادی ٔ رائے یا حقوق انسانی کی آڑ میں اپنے خبث باطن کا اظہار کرتے رہتے ہیں‘ وہ اس میں کس حد تک جا سکتے ہیں‘ اس کا معمولی سا اندازہ ’’گلف نیوز‘‘ دبئی میں اشاعت پذیر ایک 25 سینٹی میٹر 2x کالمی طویل رپورٹ سے ہو سکتا ہے۔ لاہور سے مغربی نیوز ایجنسی رائٹر (REUTERS) کے نامہ نگار نے اپنے مراسلے میں لکھا ہے کہ زیب النساء جواب 55 سال کی عمر کو پہنچ چکی ہے‘ اس وقت گرفتار ہوئی‘ جب ایک ’’مولانا‘‘ (MUSLIM CLERIC) نے قرآنِ کریم کے ایک نسخے کی بے ادبی کے بارے میں اسلام آباد پولیس کو ایک رپورٹ درج کرائی‘ رپورٹ میں وکیل صفائی اور خود نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق کسی کا نام نہیں لیا گیا تھا اور نہ ہی کوئی نشان دہی کی گئی تھی۔ پھر شاید وقت زیب النساء کو بھول گیا‘ اس پر کوئی مقدمہ چلا اور نہ سزا ہوئی‘ اور اب ایک خدا ترس وکیل آفتاب احمد باجوہ کی مداخلت سے 14 سال بعد اسے عدالت کے ذریعے رہائی نصیب ہوئی۔ لیکن رائٹر کا نامہ نگار یہ رپورٹ جاری کرتے ہوئے‘ بجائے اسکے کہ پولیس کی ’’کارکردگی‘‘ کو ہدفِ تنقید بناتا‘ نظامِ انصاف کی ناکامی پر تنقید کرتا یا اس کم نصیب خاتون کے احوال سے اپنے قارئین کو باخبر کرتا‘ اس نے اپنی رپورٹ کے نصف سے زیادہ حصے میں قانونِ اہانت کو ہی نشانہ بنایا۔ مغربی اخبارات یا نامہ نگاروں کے‘ مسلمانوں اور شعائرِ اسلامی کیخلاف کھلے تعصب کے مطابق اس نے 30 سال قبل ماضی میں زقند لگاتے ہوئے سارا ملبہ قانونِ اہانت پر ڈالنے کی کوشش کی۔ ضیاء الحق کے دور سے غیرمسلم اقلیتوں‘ خصوصاً ایسے عیسائی نوجوانوں کا دفاع کرنے کی کوشش کی‘ جنہوں نے خود اسکی اپنی رپورٹ کے مطابق رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں اہانت آمیز خطوط لکھے تھے اور جو عوام الناس کے غیض و غضب کا نشانہ بنے۔ گویا ان عیسائی نوجوانوں نے کوئی ایسا کارِ نمایاں سرانجام دیا تھا‘ جسے سراہنے کے بجائے قابل مذمت تصور کیا گیا۔
نامہ نگار کو اتنی بھی توفیق نہ ہوئی کہ وہ مغربی اخبارات و جرائد میں رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں مستقلاً اہانت آمیز کارٹونوں کی اشاعت‘ ان کا دفاع اور اپنی حکومت کی اس بارے میں ہٹ دھرمی کو تھوڑا بہت ہی ہدفِ تنقید بناتا اور مسلمانوں کے رنج و غم اور غیظ و غضب کا کچھ تذکرہ بھی کرتا کہ وہ اس عمل میں کس قدر روحانی اور قلبی کرب سے گزرتے ہیں۔ ڈھٹائی کی حد یہ ہے کہ اس نے کمالِ بدطینتی سے (MUSLIM CLERIC) یعنی مولانا کا لفظ استعمال کرکے مغربی میڈیا کی عام روش کے مطابق الزام کا رخ مسلمان علماء کی طرف موڑنے کی کوشش کی ہے کہ گویا ہر فساد کے ذمہ دار مسلمان علماء یا بالواسطہ انکے مدارس ہی ہیں۔
کیا ایسے خودساختہ امن پسندوں اور ’’آزادی اظہار‘‘ کے علمبرداروں اور ’’دانش مندوں‘‘ پر کبھی عقل و دانش اور انصاف پسندی کا سورج بھی طلوع ہو گا!