آئی ایس آئی کا قابل تحسین کردار

سراغ رساں ادارے کسی بھی ملک کی آنکھیں اور کان ہوتے ہیں۔ انکے بغیر ملکی سلامتی کی محافظ افواج اندھی اور بہری تصور ہوتی ہیں۔ چونکہ وہ اِن اداروں کے بغیر ملکی مفادات کا تحفظ نہیں کر سکتیں زمانہ امن میں جب ہم ملکی سلامتی کو لاحق خطرات سے بے خبر اپنے اپنے پیشوں اور روزمرہ کے معمولات میں مصروف ہوتے ہیں تو اس وقت ملک کی سراغ رساں ایجنسیاں حالت ِ جنگ میں ہوتی ہیں۔ وہ اس بات کا صرف اندازہ ہی نہیں لگاتیں کہ ملکی سلامتی کو خطرات کہاں سے ابھر رہے ہیں بلکہ اُن خطرات کا مقابلہ کرنے کیلئے ایک خاص حکمتِ عملی کے تحت بہت بڑی بڑی کارروائیاں بھی کی جاتی ہیں جن کو کائونٹر انٹیلی جنس آپریشن کہا جاتا ہے۔ ایسے آپریشن کو بے اثر بنانے کیلئے جب ملک دشمن طاقتیں اپنی کائونٹر انٹیلی جنس کارروائیاں کرتی ہیں تو پھر اس صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے ملکی سلامتی کے محافظ ادارے اور سراغ رساں ایجنسیاں کائونٹر انٹیلی جنس آپریشن کرتی ہیں اور یہ عمل جاری رہتا ہے۔ دنیا کے ہر ملک میں یہ ادارے موجود ہی نہیں بلکہ اپنے اپنے ممالک کے مفادات کے تحفظ میں سرگرمِ عمل بھی ہیں۔ مثلاً دنیا کے دس اہم ممالک کی ایجنسیوں کے نام کچھ یوں ہیں۔ آسٹریلیا کی ASIS جو 13 مئی 1952ء کو وجود میں آئی۔ انڈیا کی RAW جو 21 ستمبر 1968ء میں 1962ء کی چین، بھارت اور 1965ء کی پاک بھارت جنگوں میں ہزیمت اٹھانے کے بعد قائم کی گئی۔ فرانس کی DGSE جو 12 اپریل 1982ء میں وجود میں آئی۔
روس کی FSB جو پرانی KGB کو تبدیل کر کے 3 اپریل 1995ء میں بنائی گئی۔ جرمنی کی BND جو یکم اپریل 1956ء میں قائم کی گئی۔ چین کی MSS یعنی منسٹری سٹیٹ سکیورٹی جو چین کے بیرونی اور اندرونی خطرات کا جائزہ لیتی ہے۔ امریکہ کی CIA جو دوسری جنگ ِعظیم کے بعد 18 ستمبر 1947ء میں قائم کی گئی۔ امریکہ کی یہ سویلین ایجنسی امریکی صدر کے احکامات پر پوری دنیا میں پسِ چلمن بہت ساری کارروائیاں کرتی ہے اس نے بہت ساری حکومتوں کے تختے الٹے۔ اسکی سب سے بڑی ناکامی کائونٹر انٹیلی جنس کے فیلڈ میں ہوئی۔ 1979ء میں سوویت یونین افغانستان میں داخل ہوا تو یہ بے خبر پائی گئی۔ 1990ء میں سویت یونین ٹوٹ گیا تو بھی یہ حیران ہوئے۔ عراق کے اندر اِن کو تباہی پھیلانے والے بڑے ہتھیاروں کا مکمل یقین تھا یہ غلط اطلاعات بھی ان کیلئے باعث ہزیمت بنیں۔ اس کے علاوہ 9/11 بھی اگر انہوں نے خود نہیں کروایا جس کو دنیا ماننے کیلئے تیار نہیں۔ تو اس اتنے بڑے منصوبے کی بھی ان کو کانوں کان خبر نہ ہوئی، CIA کے پاس دنیا کی سب سے بہترین ٹیکنالوجی ہے اور یہ دنیا کی امیرترین انٹیلی جنس ایجنسی ہے۔ اسی طرح برطانیہ کی M16 1909ء میں وجود میں آئی اس کو بھی شمالی آئرلینڈ کے گوریلوں نے کئی عشروں تک ناکوں چنے چبوائے۔ اسرائیل کی ایجنسی کا نام MOSSAD ہے جو 13 دسمبر 1949ء میں وجود میں آئی یہ ایجنسی نہ صرف مشرقِ وسطی میں عربوں اور اسرائیلیوں کیخلاف نبردآزما ہے بلکہ یہ ایران کو تو صفحہ ہستی سے مٹا دینا چاہتی ہے اور اسکے علاوہ واحد ایٹمی مسلمان ملک پاکستان تو اسکے دل میں کانٹے کی طرح چُبھتا ہے اس لئے یہ ایجنسی پاکستان کیخلاف ہندوستان کشمیر اور افغانستان میں کے سرگرم عمل ہے۔ ہندوستان کی بدنامِ زمانہ ایجنسی RAW سے ملکر MOSSAD کے کھرے بلوچستان اور پاکستان کے قبائلی علاقوں میں صاف نظر آتے ہیں۔ اِن علاقوں میں ہندوستان اور اسرائیل کا اسلحہ پکڑا گیا ہے اور گولہ بارود کے علاوہ ان پاکستانی علاقوں میں ڈالروں کی ریل پیل کی بھی یہ ایجنسیاں CIA سے ملکر ذمہ دار ہیں۔ پاکستان کی مایہ ناز انٹیلی جنس ایجنسی کا نام ISI ہے جس کو آئی بی، ایم آئی، این آئی اور اے آئی کی مکمل سپورٹ رہتی ہے۔
ایک حالیہ سروے کے مطابق Smashmg Lists.com کی ویب سائٹ پر غیرملکیوں سمیت بہت سارے لوگوں کے Views لینے کے بعد ISI کو دنیا کا مؤثر اور کامیاب ترین انٹیلی جنس ادارہ کہا گیا ہے جس نے کم ترین بجٹ کے باوجود بہت ساری سٹریٹجک کامیابیاں حاصل کیں۔ مثلاً مسٹر جان سمتھ (John Smith) لکھتے ہیں۔
\\\"It broke down the soviet union which resulted in unification of Germany, Has protected and developed the country\\\'s Nuclear Assets against All Odds, Has captured Taliban leaders. No other Agency Matches ISI in Efficiency, Precision, Discipline and professionalism.
یعنی آئی ایس آئی نے سویت یونین کو پاش پاش کیا جس سے جرمنی کا اتحاد ممکن ہوا اس نے تمام مشکلات کے باوجود پاکستان کے ایٹمی پروگرام کو تحفظ فراہم کیا اور طالبان لیڈروں کو پکڑا۔ آئی ایس آئی اپنے پیشے میں کوئی ثانی نہیں رکھتی یہ مئوثر ہے۔ صحیح اور نظم و ضبط کا پابند ادارہ ہے۔ قارئین یہی وجہ ہے کہ پاکستان کیخلاف چلائی جانیوالی ہر گولی کو آئی ایس آئی اپنے سینے پر ٹھنڈا کر دیتی ہے۔ چونکہ یہ انٹیلی جنس ایجنسی ہمارا ہراول دستہ ہے‘ اس لئے امریکہ، برطانیہ، ہندوستان اور اسرائیل کو دنیا کے کونے کونے اور خصوصاً افغانستان، کشمیر، ہندوستان، نیویارک اور لندن میں ہر پتھر کے نیچے آئی ایس آئی کے وجود کا شک پڑتا ہے۔
حال ہی میں WIKILEAKS کے ذریعے بھی آئی ایس آئی کو بدنام کرنے کی کوشش کی گئی حالانکہ اُن رپورٹوںمیں زیادہ تر ذکر نیٹو اتحادیوں کی ناکامیوں، نااہلیوں، بے گناہ لوگوں کے قتل وار کرائمز اور افغانستان پولیس کی طرف سے لوگوں پر ظلم اور جیلوں میں قیدیوں سے زیادتیوں کا ذکر ہے لیکن مغربی ذرائع ابلاغ نے نہ صرف آئی ایس آئی کو بدنام کرنے کی کوشش کی بلکہ آئی ایس آئی کے ایک سابق چیف کا نام لیکر اُن پر الزامات بھی لگائے۔ ہمارا آئی ایس آئی کا ادارہ ہمارے انہی سینئر فوجی افسران کی وجہ سے مؤثر ہے۔ سابق ڈی آئی جی ISI جنرل حمید گل، جنرل جاوید ناصر، جنرل اسد درانی، جنرل جاوید اشرف، جنرل اشفاق پرویز کیانی اور موجودہ DGISI جنرل پاشا پاکستان کے مایہ ناز سپوت اور افواجِ پاکستان کے انتہائی قابل زندہ ضمیر، محبِ وطن اور اپنی ہڈیوں کے گودے تک دیانتدار آفیسرز ہیں اِنکی موجودگی میں ملکی مفادات کے سودے کی کوئی بھی جرات نہیں کر سکتا۔ ہمیں اپنے آئی ایس آئی کے ادارے پر فخر ہے اور پوری قوم ‘افواج پاکستان اور آئی ایس آئی کی حب الوطنی کو اپنے ایمان کا حصہ تصور کرتی ہے۔ پوری قوم کی دعائیں ہمارے اِن محافظین وطن اداروں کیساتھ ہیں۔ دہشت گردی، ائر بلیو کا حادثہ سیلاب سے جانی و مالی نقصانات اور کراچی کی اندوہناک صورتحال جس میں بہت ساری قیمتی جانیں ضائع ہوئیں۔ قومی سلامتی کیلئے بہت سنجیدہ خطرات ہیں لیکن ایک سپاہی کی حیثیت سے میرا یہ ایمان ہے کہ پوری قوم کی سپورٹ کیساتھ افواج پاکستان اور آئی ایس آئی پاکستان کو توڑنے کا خواب دیکھنے والوں کی آنکھیں نوچ کر اور بازو توڑ کر اُن کے خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہونے دیں گی اور ایسا ہوگا۔ انشاء اللہ کیونکہ…؎ ’’ ہم نے گلشن کے تحفظ کی قسم کھائی ہے‘‘