’’عوامی شعور ‘‘

’’عوامی شعور ‘‘

پاکستان کے بارے میں اکثر یہ سننے میں آتا ہے کہ اس ملک میں جمہوری نظام حکومت کی ناکامی کی وجوہات میں تعلیم کی کمی، ووٹرز کی ذہنی ناپختگی اور جمہوری طرز حکومت کے بارے میں کم آگہی سرِ فہرست ہیں۔ جس کی وجہ سے ہر دفعہ بد عنوان ، مطلب پرست اور پیشہ ور سیاست دان منتخب ہو کر اسمبلیوں تک پہنچ جاتے ہیں۔ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ پاکستان میں صرف ڈکٹیٹرشپ یا فوجی حکومت ہی کامیاب ہو سکتی ہے۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے اصل میں ملک میں جمہوریت کی ناکامی کی وجہ دراصل مراعات یافتہ اور طاقت ور لوگ ہیں نہ کہ عوام۔ کیونکہ جب کبھی ایک عام آدمی کو موقعہ فراہم کیا جائے وہ صحیح فیصلہ کر تا ہے اور انتخابات میں بد عنوان اور نااہل افراد کو یکسر مسترد کر دیا جاتا ہے۔ ا س کی واضح اور تازہ ترین مثال پچھلے انتخابات میں پی پی پی کی ناکامیابی ہے۔
یہ بات سیاسی صورت حال کے بارے میں تازہ ترین ALLUP PUBLIC POLL Gیعنی عوامی آرا کے سروے سے بھی ثابت ہوتی ہے جو کہ ملک میں جاری لانگ مارچ اور دھرنوں کے بارے میں منعقد کیا گیا۔ یہ سروے چاروں صوبوں میں وسیع پیمانے پرمنعقد گیا۔ اس میں 33فی صد شہری اور 67 فی صد دیہی علاقوں کے افراد نے حصہ لیا۔ اس سروے میں جوموضوعات رکھے گئے وہ درج ذیل ہیں:
اول: انتخابات میں دھاندلی، دوم: طاہرالقادری، سوم: عمران خان، چہارم: نواز شریف، پنجم: فوج کا کردار، ششم: لانگ مارچ، ہفتم: سول نا فرمانی، ہشتم: وزیراعظم کا استعفیٰ اور اسمبلیوں کی تحلیل۔اس جائزے کے نتیجے میں موصول ہونے والے جوابات سے یہ بات روز روشن کی طرح عیان ہو گئی کہ عوام میں شعور کی قطعی کوئی کمی نہیں پائی جاتی اور وہ سیاست کے اسرارورموز سے مکمل طور پر واقفیت رکھتے ہیں۔51% لوگوں کے خیال میں پچھلے انتخابات میں دھا ندلی ہوئی لیکن 67% کے خیال میں دھاندلی اتنی بڑی سطح پر نہیں تھی کہ جس کی وجہ سے عمران خان ملک کے وزیر اعظم کے منصب کے لیے منتخب ہو سکتے۔ نیز تقریباً 72% افراد کی رائے میں عمران خان کو وزیر اعظم کے استعفے کے مطالبے سے پہلے انتخابات میں دھاندلی کے سلسلے میں قائم ہونے والے عدالتی کمیشن کی رپورٹ کا انتظار کرنا چاہیے۔ مزید برآن 63% افراد کی رائے میں عمران خان کے دھرنے اور جلسوں کا اصل مقصد انتخابی اصلاحات نہیں بلکہ وہ ملک کے وزیر اعظم بننے کے خواہش مند ہیں۔ اس سلسلے میں66% افراد کی آرا کے مطابق وزیر اعظم کو مستعفی نہیں ہونا چاہیے اور 61فی صد افراد نے پارلیمنٹ کی تحلیل کی مخالفت کی۔ سروے کے مطابق 63% افراد نے عمران خان کی طرف سے دی گئی سول نافرمانی کی مخالفت کی۔ لیکن تصویر کا دوسرا رُخ یہ ہے کہ سروے میں 51% افراد نے کے پی کے صوبے میں PTIحکومت کی کار کردگی کو سراہا۔ نیز 45% افراد کا خیال تھا کہ میاں نواز شریف کے خلاف ہونے والے دھرنے لانگ مارچ اور جلسوں کی وجہ اُن کا شاہانہ طرِز زندگی اور اُن کے اردگرد صرف چند گِنے چُنے وزرا کا حصار ہے۔
مزید برآں64% افراد کی رائے میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو ماڈل ٹائوں میں مولانا طاہر القادری کے کارکنان کے قتل کے سلسلے میں ہونے والے واقعات کی وجہ سے اُن کے عہدے سے ہٹا دیا جانا چاہیے
قارئین! ملک میں ہونے والے GALLUP PUBLIC POLL کے نتیجے میں یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ پاکستانی عوام با شعور اور سیاسی طور پر بالغ النظر ہیں اور جمہوری اداروں کی نا پائیداری کی اصل وجہ ہماری سیاست پر چند گِنے چُنے خاندانوں ، وڈیروں اور صنعت کاروں کا قبضہ ہے ۔ اور عوام ان ہی لوگوں کو ووٹ دینے پر مجبور ہیں۔ 67سال گزر جانے کے باوجود بھی ملک میں زرعی اصلاحات نہیں کی گئیںاور غریب ہاڑی اور مزارعین نہ چاہتے ہوئے بھی وڈیروں کو ووٹ ڈالنے پر مجبور ہیں۔ ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ لوگوں کو آزادی اور مرضی سے اپنے نمائندے ُچننے کے مواقع فراہم کیے جائیں ۔اُس صورت میں جمہوریت ملک میں مضبوط بنیادوں پر قائم ہو سکے گی۔