نواز شریف کے شیر

کالم نگار  |  فضل حسین اعوان....شفق
نواز شریف کے شیر

گو نواز گو کا نعرہ حکومتی پارٹی مسلم لیگ (ن) کے لئے چھیڑ بن گیا۔ اس نعرے پر قائدین ‘ کارکن اور سپورٹر چڑ جاتے ہیں اور اب تو آگ بگولا بھی ہونے لگے ہیں۔ شہباز شریف اپنے جلسوں اور تقریبات میں گو نواز گو کے نعروں کو عمران خان کے بھیجے گئے لوگوں کی شرپسندی قرار دیتے ہیں جبکہ نواز شریف کی موجودگی میں بھی چند سرپھرے یہ نعرہ لگا کر تقریبات کا ماحول خراب کر چکے ہیں۔ وزیر اعلیٰ شہباز شریف دوروز قبل غصے سے آپے میں نہ رہے ،وہ کچھ کہہ دیا جس کا انکو ادراک نہ ہو سکا کہ انہوں نے کیا کہہ دیا ہے ، کسی نے د رست کہا کہ غصہ عقل کو کھا جاتا ہے ۔ شاہ پور میں سیلاب زدگان سے خطاب کرتے ہوئے انہوںنے کہا کہ ’’ ہم نے اللہ کے شیروں کا جگایاتو نہ سُرخی رہے گی نہ پائوڈر۔سب جانتے ہیں کہ ہمارے جلسوں میں شرپسند کون بھیجتا ہے۔ عمران خان صاحب! اس کام سے باز آ جائیں۔ اس کا نتیجہ تباہی کے سوا کچھ نہیں نکلے گا۔‘‘
 اس خبر پر سرسری تبصرہ ہو رہا تھا۔ میں نے کہا کہ اللہ کے شیر کون ہیں؟ تو میرے ساتھیوں جی این بھٹ اور امتیاز تارڑ نے بیک زبان کہا ’’پولیس والے‘‘ یہ دونوں دوست پی ٹی آئی اور پی اے ٹی کے ہمدرد نہیں، مسلم لیگ ن کے خیرخواہ ہیں مگر روایتی لیگیوں کی طرح خبر پر تبصرہ کرتے ہوئے حقیقت کو اپنی خواہش کا رنگ نہیں دیتے۔ صرف ن لیگ ہی نہیں باقی پارٹیوں کے سپورٹرز میں بھی اپنی خواہش کو حقائق کا نام دینے کی خصلت پائی جاتی ہے۔
اللہ کے شیر کا مطلب نواز شریف کے شیر ہی ہوسکتا ہے جیسا کہ اکثر اخبارات میں یہی لکھا گیا۔نواز شریف کے شیر پولیس والے ہو سکتے ہیں یا اس پارٹی کے جانثار کارکن۔ اگر پولیس والوں کو شہباز شریف اور نواز شریف کا شیر مان لیا جائے تو 17 جون کو واقعی یہ ماڈل ٹائون میں طاہرالقادری کے کارکنوں پر شیروں کی طرح جھپٹے تھے لیکن بعد میںان شیروں پر جب اسی حکومت نے مقدمات قائم کردیئے تو خاک اور راکھ کاڈھیر ثابت ہوئے، ان میں سے کچھ دوتین روز قبل موقع ملتے ہی انکوائری کے دوران بھاگ گئے ۔ اسلام آباد کے دھرنے پولیس کے شیر جوانوں کے ذریعے ہٹانے کی کوشش کی گئی توکئی بڑے افسروں نے چھٹی لے لی اور کئی نے استعفے دے دیئے جو دبنگ تھے ان کو دھرنے والوں نے دبوچ کر ’’ملنگ‘‘ بنا دیاالبتہ اب طاہر عالم کے مسل پھڑک رہے ہیں،کب تک ؟ جب تک اِس حکومت کے زیر سایہ ہیں۔پھر آنے والے حکمرانوں کو اپنی وفاداری کا یقین دلارہے ہونگے ۔چن ماہی وقتی شیر ہیں ، سانحہ ماڈل ٹائون کے بعد سیانے ہوگئے ہیں۔ اب وہ اتنا ہی شکار کرتے ہیں جتنا ہضم کر سکیں۔
میاں شہبازشریف کا اشارہ اگر کارکنوں کی طرف ہے جیسا اکثر اخبارات نے سمجھا اور اللہ کے شیروں کے بجائے نواز شریف کے شیر لکھا ہے ۔مسلم لیگ کے کارکنوں اور قائدین کو ان کی تاریخ کے تناظر میں میاں مٹھو کہنا چاہئے ۔یہ چوری کھانے ،چوری کھلانے والوں کے گن گانے اور اپنی ہی تعریفوں کے پل باندھنے والے مٹھو ہیں۔مشکل وقت میں کوئی جانثار کبھی نظر نہیں آیا، سب نثار نثار ہی ثابت ہوئے۔ مسلم لیگ کے لیڈر اور کارکن شریف برادران سے شکوہ کناں رہتے کہ وہ چند ایک لیڈروں کے سوا کسی کو ملنا گوارہ نہیں کرتے ۔اس میں شک بھی نہیں ہے ۔ سینٹرچودھری جعفر اقبال نے اپنے وزیر اعظم کو دھرنے ختم کرانے کے حوالے سے تجاویز ایک خط کے ذریعے ارسال کیں جبکہ اسی کام کے لئے وہ شیر پائو،فضل الرحمٰن، اچکزئی،بزنجو،اعجازالحق جیسے لیڈروں کو ملتے رہے کرکر لمبے ہاتھ،وہ دن میں تین تین ۔ جعفراقبال کیلئے انکے پاس وقت نہیں تھا۔ جب اچھے دن ہوتے ہیں تو میاں صاحبان پارٹی والوں کی پروا نہیں کرتے‘ بُرے دنوں میں وہ بھی ان کا ادھار چکا دیتے ہیں۔یہ اللہ کے شیر ہیں نہ نواز شریف کے شیر ،وہ اپنے رہبروں کا عکس اور ان کی طرح اپنے مفادات کے اسیر ہیں،وہ ایسے کے ساتھ تیسا بن کے پیش آتے ہیں۔آج نواز شریف پر جان نچھاور کرنے کے دعویدار کل وہیں ہونگے جہاں یہ 12اکتوبر1999ء کے بعد اس وقت تھے جب میاں نواز شریف اور ان کے خاندان کو مشرف کے ساتھی جرنیلوں نے کال کوٹھڑی میں پھینک دیا تھا۔بہت سے خاجے، ساجے اور ماجے کلثوم نوازکی گاڑی کے گرد جمع تھے،پولیس کی ایک للکار پر سب کی دُلکی لگ گئی اور وہاں شیخوپورہ کا کارکن عارف سندھیلااس کرین کے ساتھ لٹکا ہوا تھا جس نے بیگم صاحبہ کی گاڑی اُٹھائی ہوئی تھی۔اس موقع پر دوسری آواز کراچی سے مشاہداللہ کی بلند ہوئی باقی ہر سو ، ہو کاعالم تھا۔آج جو لوگ گلے پھاڑ پھاڑ کر نواز شریف زندہ باد،ہم تمہارے ساتھ ہیں،نو عمران نو، کے نعرے لگاتے ،گونواز گو کہنے والوں پر ٹوٹ پڑتے ہیں۔ ان کے ایکشن سے لگتاہے کہ وہ اپنے قائدین پر اپنے خون کا آخری قطرہ تک بہا دیں گے ، ان کی طرف میلی آنکھ سے دیکھنے والوں کو چیر پھاڑ دیں گے، یہ سب دکھاوہ ہے،یہ ہاتھی کے دانت ہیں جو کھانے اور دکھانے کے الگ الگ ہیں۔ مجھے پتہ ہے میرے یہ الفاظ خود کو نواز شریف کا جانثار اور وفار دار قرار دینے والوں پر گراں گزر رہے ہونگے ۔وہ میری بات پر نہ جائیں اپنے قائد کا فرمان سنیں۔’’آپ کہتے تھے قدم بڑھائو نواز شریف ۔۔۔جب میں نے قدم بڑھایا اور مُڑ کر دیکھا توپیچھے کوئی بھی نہیں تھا۔‘‘
آج تاریخ پھر خود کو دہراتی نظر آتی ہے۔ بڑے صاحبان کے اطوار و انداز نہیں بدلے۔ پارٹی کے خدمتگاروں کے اندر کا انسان بھی نہیں بدلا۔ آج جو دھاڑ رہے ہیں تو اس کا سبب اقتدار کا ایندھن ہے جب تک مل رہا ہے ان کا سراپنے قائدین کے لئے واہ واہ اور مخالفوں کے لئے ٹھاہ ٹھاہ میں ہل رہا ہے۔ نواز شریف کے شیرجاگے بھی توشکار کے لئے نہیں، بلکہ کسی دوسرے کے شکار پر اپنے دانت تیز کرنے کیلئے جاگیں گے۔ میاں صاحب اپنے شیروں سے کچھ کروانے کی امید باندھنے سے قبل خود شیر بنیں۔صرف شیر ہی بن جائیں تو کافی ہے ۔اللہ کا شیر بننا کم از کم انکے بس کی بات نہیں۔ شیر ایسے نہیں ہوتے کہ اپنے کارکنوں کو چھوڑ کر جیل سے محلات میں جا بسیں۔ شیروں کی نشانی اقبال نے یوں بیان کی ہے…؎
آئین جواں مرداں حق گوئی و بے باکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
آج تو ہر طرف روباہی (مکاری‘ لومڑیت ہی لومڑیت )نظر آتی ہے۔