سلام ٹیچر ڈے

کالم نگار  |  نور محمد اعجاز
سلام ٹیچر ڈے

دنیا بھر میں ہر سال 5 اکتوبر ’’سلام ٹیچر ڈے‘‘ منایا جاتا ہے۔ مغربی ممالک کو یہ احساس ہے کہ ان کی ترقی اور خوشحالی کا اصل راز استاد ہی کی محنت کے طفیل ۔ وہ اس بات کو بخوبی جانتے اور پہچانتے ہیں کہ دنیا میں ان کا نام اور مقام صرف اور صرف اساتد ہی کی شب و روز کی محنت کا ثمر ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ یہ دن استاد کی عقیدت میں استاد کو خراج تحسین پیش کرنے کیلئے ایک عظیم یاد گاردن کے طورپر مناتے ہیں۔ وہ اپنی سوسائٹی اور معاشرے میں استاد کو سکون قلب مہیا کرنے کیلئے نت نئی مراعات اور جدید سہولتوں کی فراہمی بارے ان سے نہ صرف مشاورت کرتے ہیں بلکہ ان کی ڈیمانڈ اور خواہشات کو ہمیشہ اولیت دی جاتی ہے۔ وہ استاد کی معاشی‘ رہائشی اور دیگر تمام تر ضروریات کو پورا کرنا اپنا فرض اولین سمجھتے ہیں تاکہ استاد ہر طرح کے گھریلو تفکرات ‘ ذہنی اور فکری پریشانیوں سے حقیقی طورپر آزاد ہوکر اپنے تدریسی فرائض کا حصہ بطریق احسن سرانجام دے سکے۔ حکام اور عوام کسی بھی قسم کی تکلیف ‘حیرانی و پریشانی کے لمحات کو استاد کے قریب سے گزرنے بھی نہیں دیتے۔ گویا مغربی ممالک کی اقوام نے استاد کے راستے میں روزمرہ زندگی میں آنے والی تمام رکاوٹوں اور حائل مسائل کا یکسر خاتمہ کر دیا ہے۔  ادھر ہمارے ملک پاکستان میں حکمران اساتذہ کو اپنا ’’غلام‘‘ اور ’’کمی‘‘ سمجھتے ہیں۔ ظاہر ہے جب حکمران اساتذہ کو عزت کی نظر سے نہیں دیکھیں گے تو عوام سے کیا توقع کی جا سکتی ہے۔ ہرآنے والی حکومت اساتذہ کو معاشرہ میں ہر طرح سے ذلیل و خوار کرنے میں ادھار کھائے بیٹھی ہے۔ ذیل کی کچھ مثالیں انکے اقدامات اور خیالات کی عکاسی کرتی ہیں۔
1 ۔ تعلیمی ادارہ میں فلش نہ ہونے پر اگر استاد قریبی کھیتوں میں رفع حاجت کیلئے جاتا ہے تو اُسے سنے بغیر  غیرحاضر سمجھ کر ٹرانسفر کر دیا جاتا ہے۔2۔ سکول جاتے وقت راستے میں اگر بائیک خراب ہو جائے‘ چین ٹوٹ جائے یا ٹائر پھٹ جائے تو بائیک کھینچ کر دس منٹ لیٹ ہونے پر استاد کو تبدیل کر دیا جاتا ہے حالانکہ ذمہ دار انسپکٹر چین ٹوٹا ہوا دیکھ بھی رہا ہے۔
3۔ اساتذہ کیلئے ضروری ہے کہ وہ کسی بھی طرح کی چھٹی ایک روز قبل منظور کروا کر جائے۔ گویا وہ یہ لکھے کہ اس کا فلاں کل (آنے والا) فوت ہو رہا ہے‘ اسے چھٹی دی جائے۔4۔ذرا سی غلطی ہو جانے پر اساتذہ کو بھاری جرمانہ کیا جاتا ہے۔ جرمانہ کرنے کا حکم دینے والے عقل کے اندھوں کو یہ معلوم نہ ہے کہ جرمانہ کرنے کے سرکاری ملازم کی سروس میں کیا محرکات رونما ہو سکتے ہیں۔5۔کچھ کم عقل سر پھرے ایسے بھی صاحب بااختیار بھی ہیں کہ اساتذہ کی حاضری کے خانے میں غیرحاضر  لکھ دیتے ہیں۔ انہیں یہ معلوم نہ ہے کہ غیرحاضر لکھنے کا کسی بھی اتھارٹی کو اختیار نہ ہے۔ سرکاری ملازم کی سروس بریک ہو جاتی ہے اور آگے جا کر شدید مسائل جنم لیتے ہیں۔ کسی بھی بااختیار کو چاہئے کہ کیفیت کے خانہ میں اپنے دستخط کرکے متعلقہ ٹیچر سے وضاحت طلب کرے۔ واضح رہے کہ کسی بھی سرکاری ملازم کے حاضری کے خانہ میں Absent لکھنے بارے کوئی چھٹی نہ ہے اور نہ ہی کسی کو ایسا کرنے کا اختیار ہے۔
6۔ ہمارے ملک میں کوئی قومی تعلیمی پالیسی نہ ہے۔ ہر صوبہ کا ایگزیکٹو اپنی مرضی اورخواہش کے رولز بنا کر پالیسی کا نام دیدیتا ہے۔ ہر سال کی پالیسی گاڑیوں کے نئے ماڈل کی طرح بنائی جاتی ہے۔ ہر سال کی نئی ماڈل پالیسیوں نے اساتذہ کا مستقبل تاریک بنا کر رکھ دیا ہے۔ انکی پروموشن کے معاملات میں پیچیدگیاں اور رکاوٹیں پیدا کرکے انہیں پریشان و حیران کرکے رکھ دیا گیا ہے۔ مثلاً ایک پی ایس ٹی ان سروس کو ان سروس پروموشن کیلئے سی ٹی یا بی اے بی ایڈ ہونا ضروری ہے مگر نئی 14 ماڈل ان سروس پالیسی میں بی اے بی ایڈ کے ساتھ ایم کرنا ضروری قرار دیدیا گیا جوکہ سراسر زیادتی‘ ظلم اور ناانصافی ہے۔
اسی طرح ایک ای ایس ٹی کیلئے ایس ایس ٹی آرٹس اور ایس ایس ٹی سائنس میں ان سروس پروموشن کیلئے بی اے بی ایڈ اور بی ایس سی بی ایڈ یا بی ایس ایڈ ہونا لازمی اور ضروری ہے مگر 14 ناڈل رولز اور ایگزیکٹو کے یکطرفہ کم پر ساتھ ایم اے اور ایم ایس سی ہونا لازمی ہے جوکہ انصاف کی عکاسی نہیں کرتا حالانکہ ایم اے یا ایم ایس سی اضافی تعلیم سے جس کی اسے الگ انکریمنٹ دی جاتی ہیں۔
ایسی شرط 67 سالوں میں پہلی بار لگائی گئی ہے جس نے پنجاب کے ہزاروں ان سروس‘ پروموشن کیلئے متاثر اساتذہ کا جینا حرام کر رکھا ہے۔ واضح رہے کہ ایس ایس ٹی آرٹس اور ایس ایس ٹی سائنس کیلئے بنیاد تعلیم صرف بی اے بی ایڈ اور بی ایس سی اور بی ایڈ یا بی ایس ایڈ لازمی ہے۔ آئے دن کے نت نئے فارموں اور رولز اور قاعدوں سے اساتذہ سخت پریشان ہیں اور ان میں غم و غصہ کی شدید لہر پائی جاتی ہے۔
یہاں سوال پیداہوتا ہے کہ جب 20 سے اوپر سروس والے اساتذہ اپنی ان سروس پروموشن کیلئے پریشان ہونگے‘ ان کا مستقبل انہیں تاریک نظر آئے گا تو وہ قوم کے بچوں کو خاک پڑھائیں گے     ؎
جب تک اساتذہ سے انصاف نہ ہوگا
خواندگی میں اضافہ کم خواب رہے گا