برصغیر میں فارسی ادب

کالم نگار  |  ڈاکٹر تنویر حسین
برصغیر میں فارسی ادب

برصغیر فارسی زبان و ادب کا گہوارہ رہا ہے فارسی زبان میں تصوف کے موضوع پر لکھی جانے والی حضرت داتا گنج بخشؒ کی کشف المحجوب سے ہر خاص و عام واقف ہے یہ عروس البلاد لاہور ہی میں تصنیف کی گئی۔ مولانا روم، شیخ سعدی شیرازی، خواجہ حافظ شیرازی اور مولانا حاجی جیسے فارسی عالم، مورخ، شعراء کا تذکرہ میرو غالب اور حالی و اقبال کی مانند ہوتا ہے۔ مغلیہ عہد میں شاعر، ادیب، مصور، خوش نویس اور خطاط ہندوستان آئے۔ اس ضمن میں عرفی، نظیری اور خواجہ عبدالصمد (مصور) ابوالفضل اور فیقی کے نام لئے جا سکتے ہیں ہماری اردو زبان فارسی زبان کا دودھ پی کر جوان ہوئی ہے۔ برصغیر میں اسی فارسی زبان و ادب کے حوالے سے پہلی بین الاقوامی کانفرنس 25 ستمبر 2014ء کو گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں منعقد ہوئی۔ اس کانفرنس کا انعقاد شعبہ فارسی کے زیر اہتمام کیا گیا۔ اس کانفرنس کا سہرا گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے وائس چانسلر جناب پروفیسر ڈاکٹر محمد خلیق الرحمن (اعزاز کمال) کے سر سجتا ہے ڈاکٹر خلیق الرحمن صاحب نے صاف و شستہ انداز میں مہمانان کی آمد کا شکریہ ادا کیا اور شعبہ فارسی کو خراج تحسین پیش کیا۔ کانفرنس کا آغاز تلاوت کلام پاک سے ہوا۔ نعت رسول مقبولؐ پیش کرنے کا اعزاز اردو کے استاد، نقاد اور نعت گو شاعر ڈاکٹر فخرالحق نوریؒ کے حصے میں آیا۔ اس کے بعد شعبہ فارسی کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر اقبال شاہد ڈائس پر آئے اور انہوں نے کانفرنس میں آنے والے مہمانوں اور دیگر شرکاء کا شکریہ ادا کیاڈاکٹر محمد شمیم خان راج شاہی یونیورسٹی بنگلہ دیش سے تشریف لائے تھے۔ انہوں نے برصغیر میں فارسی زبان و ادب کے حوالے سے مختصر اور جامع مقالہ پڑھا۔ صبح کے اسی سیشن میں آقامی اکبر برخورداری، جو خانہ فرہنگ ایران (اسلامیہ جمہوریہ ایران) کے ڈائریکٹر ہیں نے اپنے خوبصورت خیالات کا اظہار فارسی لہجے میں کیا تو صرف ’’متشکرم‘‘ کا لفظ ہمارے پلے پڑا۔ ہمارے ساتھ ڈاکٹر محمد آصف چٹھہ بیٹھے تھے۔ کہنے لگے۔ فارسی بے حد شیریں زبان ہیں۔ یہ زبان بولتے ہوئے انسان بہت ہی فقیر درویش سا لگتا ہے۔ ڈاکٹر محمد اکرم شاہ صاحب نے بھی سامعین پر اپنے مقالے کا اتنا ہی بوجھ ڈالا، جتنا وہ برداشت کر سکتے تھے۔ اور داد سمیٹی ڈاکٹر سلیم مظہر صاحب کے بارے میں ہم پہلے ہی جانتے تھے کہ فارسی زبان و ادب کے ماہر ہیں اور باکمال استاد ہیں لیکن سٹیج پر ہم نے ان کے تقریری جوہر دیکھے تو سبحان اللہ کہ اٹھے ڈاکٹر نجم الرشید صاحب نے مقالے کے کاغذ اپنے سامنے رکھے لیکن کاغذ کی بجائے سامعین کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر انہیں نیند کی آغوش سے باہر لے آئے۔ معلوم ہوا فارسی میں سب سے زیادہ کام برصغیر میں ہوا ہے۔
 ڈاکٹر سعادت سعید صاحب کا مقالہ بھی پرمغز تھا۔ پروفیسر ڈاکٹر سید سلطان شاہ صاحب شعبہ اسلامیات کے چیئرمین ہیں۔ اس کانفرنس میں بھی آپ کے مقالے کی خوش بو نے سامعین کو معطر کئے رکھا ڈاکٹر ہمایوں شمس صاحب نے فیصل آباد کی نمائندگی کی اور خوب کی ڈاکٹر محمد آصف چٹھہ صاحب نے اپنے مقالے کے اہم نکات گنوائے اس کانفرنس میں جان ڈاکٹر بابر آسی صاحب کی زبان سے ادا ہونے والے طوطی ہند امیر خسرو کے اشعار نے ڈالے رکھی۔ گورنمنٹ کالج یونیورسٹی میں آسی صاحب جیسے استاد ہی ہونے چاہئیں۔ ذہین اور محنتی لائبریرین محترم نعیم صاحب بھی کانفرنس میں متحرک نظر آئے۔ آخر میں ہم نے دیکھا کہ قوال حضرات ہال میں پہنچ گئے ہیں۔ ان کے ساتھ طلبہ کا ایک ہجوم داخل ہوا۔ قوالی مولانا روم کے کلام پر مبنی تھی۔ اس کا ترجمہ شعبہ فارسی کے ڈاکٹر محمد ثاقب صاحب نے کیا تھا۔ ڈاکٹر فخرالحق نوری صاحب کو اختتامی کلمات کے لئے مدعو کیا گیا تو انہوں نے قوال حضرات کی آمد دیکھ کر کہا۔ قوال آمد، پروفیسر برخاست، ڈاکٹر فخر الحق نوری صاحب نے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد خلیق الرحمن صاحب ڈاکٹر محمد اقبال شاہد اور ان کے رفقائے کار کو مبارکباد دی۔