بجلی اور گیس کے بل بغاوت پر مجبور کرنے لگے

کالم نگار  |  اسلم لودھی
بجلی اور گیس کے بل بغاوت پر مجبور کرنے لگے

اس شخص کے ہاتھ میں پٹرول سے بھری ہوئی بوتل تھی جسے وہ اپنے جسم پر انڈیل کر خود کو آگ لگا لینا چاہتا تھا کہ اچانک کچھ لوگوں نے اسے پکڑ کر پٹرول کی بوتل اس سے چھین لی لیکن وہ بار بار یہی کہتا جارہا تھا کہ میں زندہ نہیں رہنا چاہتا مجھے مر جانے دو ۔ لوگوں نے پوچھا کہ زندگی کو ختم کرنے کا فیصلہ آخر تم نے کیونکر اور کیسے کرلیا کس نے تمہارا دل دکھایا ہے اور کون اس کی وجہ بنا ہے ۔
اس کے ہاتھ میںبجلی کابل 7000 اور گیس کا بل 25000 کا تھا اس نے روتے ہوئے کہا کہ میں نے اس خیال سے مسلم لیگ ن کو ووٹ دیا تھا کہ نواز شریف مہنگائی ٗ بجلی اور گیس کے حد سے بڑھتے ہوئے بلوں سے نجات دلائے گا ۔
 لیکن نواز شریف نے جو وعدے کیے تھے ان کاعمل اس کے بالکل برعکس نکلا انہوں نے مہنگائی کو کم کرنے کی بجائے ہر چیز پر جنرل سیلزٹیکس میں اضافہ کرکے عوام کے منہ سے روٹی بھی چھین لی ہے۔
وزیر بجلی خواجہ آصف نواز کابینہ میں سب سے نااہل ٗ بدترین اور بے رحم وزیر ہیں ۔ان کی لاپروائی اور بدنظمی کی وجہ سے غربت کی انتہاء میں زندگی گزارنے والے 18  کروڑ پاکستانی سخت ترین حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیںکیونکہ 17 روپے فی یونٹ کے حساب سے بجلی کا بل کوئی بھی نہیں دے سکتا اور جو دے سکتے ہیں ان سے حکومت وصول نہیں کرتی۔
 جبکہ عوام کا عالم یہ ہے کہ جس شخص کی تنخواہ 12 ہزار روپے ہے اس کو بجلی کا بل 15 ہزار اورگیس کا بل 25 ہزار آرہا ہے۔ اتنی رقم کا وہ انتظام کہاں سے کرے بیوی بچے فروخت کرے یا گھر بیچے ۔ایک شخص سے بدترین مثال اور کیا ہوگی ایک شخص نے اپنا خون فروخت کرکے بجلی اور گیس کا بل جمع کروایا ہے ۔
 اسے کہتے ہیں تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو۔10 ارب روپے سے زائد بجلی کے بل وصول کرنے کا اعتراف تو خود وزیر بجلی بھی کرچکے ہیں ۔جب روتے چلاتے ہوئے غریب لوگ بجلی کے دفتروں میں پہنچتے ہیں تو ان کا کوئی پرسان حال نہیں ہوتا لوگ کیسے زندہ رہیں مسلم لیگی حکمرانوں کواس سے کوئی غرض نہیں ہے ۔800 سو ارب کے سرکاری محکمے ناہندہ ہیں جبکہ چوری میں خود محکمے کے اہلکار شامل ہیںعمران اور قادری کے جلسوں اور دھرنوںکو فراہم کی جانے والی بجلی کے بل بھی غریب عوام سے زبردستی وصول کیے جارہے ہیںجبکہ 40 کروڑ بجلی کے یونٹ خود واپڈا ملازمین مفت خرچ کرکے بل عوام کے کھاتے میں ڈال دیتے ہیں ۔ نواز شریف کابینہ کا ایک اور بدترین اور نااہل ترین وزیر محکمہ سوئی گیس کا ہے سوئی گیس ایسا محکمہ ہے جس کی دیواریں بھی رشوت مانگتی ہیں لیکن سوئی گیس کے افسر اور ملازمین ماہانہ لاکھوں میں تنخواہیں اور مراعات وصول کرنے کے باوجود عوام سے زندہ رہنے کا حق بھی چھین رہے ہیں ۔
سلنڈر گیس پر بھی ماہانہ دو ہزار سے زائد خرچ نہیں ہوتا لیکن 25 ہزار کا بل بھیج کر زندہ انسانوں سے زندگی کا حق بھی مسلم لیگی دور میں چھینا جارہا ہے ۔کیا لوگ بجلی اور گیس کے بل ادا کرنے کے لیے اپنا گھر بار فروخت کردیں کیا لوگ بجلی اور گیس کے بل ادا کرنے کے لیے اپنے بیمار والدین کو علاج اور ادویات کے بغیر گلہ دبا کر خود مار دیں کیا لوگ بجلی اور گیس کے بل ادا کرنے کے لیے اپنے بچوں کو تعلیمی اداروں سے اٹھا لیں کیا لوگ بجلی اور گیس کا بل جمع کروانے کے لیے روٹی کھانا بھی چھوڑ دیں کیا لوگ بجلی اور گیس کے بل جمع کروانے کے لیے بنکوں کو لوٹنا اور دولت مندوں سے دولت چھیننا شروع کردیں ۔ جس ملک میں زائد بل بھیجنے والوں کو گرفت نہ کیا جاسکے جس ملک میں غریب انصاف کے لیے روتا روتا خود کو آگ لگا کر اپنی زندگی ختم کرلے اس ملک کے وزیراعظم سمیت تمام وزیروں مشیروں اور عہدیداروں کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنے عہدوں سے چمٹے رہیں ۔نواز شریف بہت اچھا تھا اور بہت اچھا ہوگا ہم بھی اسی دھوکے میں اسے ووٹ دیتے چلے آرہے ہیں لیکن اس نے ٗ اس کے وزیر وں اور مشیروں نے اپنے بدترین اور عوام دشمن فیصلوں ٗ بجلی اور گیس کے حد سے بڑھتے ہوئے بلوں کی وجہ سے لوگوں کو عمران اور قادری کی جانب دیکھنے پر مجبور کردیا ہے۔
اگرپیپلزپارٹی کے دور میں کرپشن کے ریکارڈ ٹوٹے تو مسلم لیگی دور میں بجلی اور گیس کے ہوشربا بلوں اور مہنگائی نے عوام کی وہ درگت بنا ئی ہے کہ اب نواز شریف کی کسی بات پر یقین کرنے کو جی نہیں چاہتا۔ شیر کے انتخابی نشان پر مہر لگانے والے شرمندہ تو ہیں ہی لیکن اب ان کے آنسو بھی نہیں رکتے ۔