انسانیت کا منشورِ اعظم …خطبہ حجتہ الوداع

کالم نگار  |  ڈاکٹر افتخار حیدر ملک
انسانیت کا منشورِ اعظم …خطبہ حجتہ الوداع

خطبہ حجتہ الوداع وہ منشورِ اعظم ہے جسے موضوعِ انسانیت کہاجائے تو بے جا نہ ہو گا یہ خطبہ شہنشاۂ معظم نبیِ رحمتؐ نے آج سے تقریباً پندرہ سو سال پہلے میدانِ عرفات میں جبلِ رحمت پر کھڑے ہو کر کم و بیش ایک لاکھ انسانوں کے سامنے ارشاد فرمایا تھا۔ جس کو بنیاد بنا کر 1215 عیسوی میں برطانوی حکومت نے ایک آئین تیا ر کیا جسے میگنا کارٹا کہتے ہیں ۔ خطبہ حجتہ الوداع اُس معلم اعظمؐ کا پیش کر دہ وہ پہلا منشورِ آدمیت ہے جس کے ہر لفظ میں روانی اور ہر سطر میں حسنِ معانی چھپا ہوا ہے ۔ یہ ایک ایسے اُمّی لقب کا شاہکارِ عظیم ہے جس کے مخزنِ عمل کے سامنے دنیائے کفر کے تمام ابو جہل دم بخود ہیں ۔ جس سے زمانہ تا ابد علوم کی تحصیل کرتا رہے گا۔ آپؐ نے یہ خطبہ اس وقت ارشاد فرمایا جب آپ کی حیاتِ مبارکہ کا سورج زندگی کی شام میں اتر رہا تھا۔ آپؐ نے فرمایا اے لوگو! میری باتیں غور سے سنو شاید آج کے بعد اس جگہ پر ہماری ملاقات دوبارہ کبھی نہ ہو سکے۔ یاد رکھو آج کے دن زمانۂ جاہلیت کے تمام القابات اور رسوم و رواجات میرے قدموں کے نیچے ہیں۔ تمہارا رب ایک ہے۔ تم سب آدم کی اولاد ہو۔ رنگ و نسل برتری کا معیار نہیں بلکہ اللہ کی نظر میں معزز وہ ہے جو فتویٰ پر تقویٰ کو ترجیح دیتا ہے۔ خبر دار! میرے بعد گمراہ نہ ہو جانا۔ دوسروں کا حق نہ مارنا، ظلم و زیادتی نہ کرنا، اخوت و محبت کے دیئے جلائے رکھنا۔ امانت میں خیانت نہ کرنا، اپنی روزی کو سود سے پاک رکھنا، والدین ، بیوی بچوں، ہمسایوں، رشتہ داروں اور غلاموں کے ساتھ نیک سلوک کرنا، امیر کی اطاعت کرنا اگرچہ وہ ناک کٹا حبشی ہی کیوں نہ ہو ۔ کتاب و سنت کی روشنی سے اپنی زندگیوں کو مزّین رکھنا۔ آخر میں آپؐ نے حاضرین سے شہادت لی کہ کیا میں نے اللہ کا پیغام آپ تک پہنچا دیا ہے۔ سب بیک زبان ہو کر بولے ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپؐ نے اللہ کا پیغام ہم تک کماحقہ ، پہنچا دیا ہے۔ اس پر رسول رحمتؐ نے آسمان کی طرف تین بار انگلی اٹھا کر کہا اے خدا گواہ رہیو۔
خطبہ کے اختتام کے فوراً بعد میدانِ عرفات میں آیتِ تکمیل نازل ہوئی اس طرح سورۃ المائدہ کی اس آیت پر قرآن بھی اور دین بھی مکمل ہو گیا۔ اس آیت میں اللہ نے اعلان کر دیا ’’آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا اور اپنی نعمت تم پر تمام کر دی اور تمہارے لئے اسلام بطورِ دین پسند کیا‘‘ جس وقت آپؐ نے یہ خطبہ ارشاد فرمایا اس وقت انسانی عقل و خرد پر تشکیک کے سائے اور وہم و گمان کا فسوں محیط تھا۔ حسنِ نظر بھی اور نورِ سحر بھی ایک سراب لگتا تھا ۔ دراصل اس خطبے کی ابتدا بطن ِ حرا سے ہوئی اور جس کی روشنی سے چہرۂ کفر پر موجود تمام نقاب بے نقاب ہو گئے۔ اور جس کے بعد ظلم کی شب کا غرور اتر گیا ۔ اور یوں انسانیت کی گنگ زبانوں سے توحید کے نغمے ابلنے لگے۔ اور چار دنگِ عالم میں اسلام کا پرچم بلند ہونے لگا۔ یہ خطبہ ایسا بلیغ الکلام اور فصیح البیان تھا جسے رفیع المقامؐ نے ایسی دلنواز زبان اور دلنشین ادا میں لوگوں کے سامنے پیش کیا جس کی مثال دنیا میں ناپید ہے۔ یہ صرف ایک خطبہ نہیں تھا بلکہ ایک ضابطۂ زندگی ہے اور اہلِ جہاں کے لیے ایک مکمل نصاب ہے۔ یہ فکروبصیرت کا ایسا باب ہے جو مردہ دلوں کے لیے درسِ حیات اور دورِ جہالت کے خاتمے کا اعلان تھا۔ یہ قصر ِ ایمان کی وہ پختہ بنیاد ہے جس کی ہیبت سے طاغوت کے درو دیوار تھر تھراتے ہیں۔ یہ نفرت اور ظلم کے جھلسے ہوئے صحرائوں میں لطف و کرم کا برستا ہوا ایک سہانا بادل ہے جس سے انسانی فکر کی بنجر زمیں سیراب ہوتی ہے۔ یہ خطبہ انسانی تہذیب و تمدن کا پاسبان ہے۔ جس کی برکت سے ظلمت کو تابانی اور ادراک کو خدا کا عرفان ملا۔ یہ آئینِ حیات کا وہ جریدہ ہے جس نے بشریت کو تشکیک کی دلدل سے نکال کر یقین کی منزل کا راستہ دکھایا۔ یہ وہ دستورِ زندگی ہے جو چشم بصیرت کے لئے نور اور انسانیت کے لیے فکرو عمل کا ظہور ہے۔ وادیِ فاران میں روشنیون کا ایک ایسا جلوس ہے جس کی چمک نے انسانیت کے دل کے دریچے روشن کر دئیے اور جس کے اجالوں سے شمس و قمر کو ضیاء ملی یہ دنیا کا عظیم چارٹر اہلِ دنیا کے لیے موجبِ فوزوفلاح بھی ہے اور امن کا گہوارا بھی۔ آج جبکہ ایک طرف مکروفریب ہم سفر ہیں اور دوسری طرف جورو جفا ہم رکاب ہیں ۔ ایسے میں یہ خطبہ ہر انسان کے قلب و نظر میں موجود تکبر اور رعونت کے اماموں کے لیے ایک ننگی تلوار ہے جس کی ضرب سے حسنِ نظر اور نور سحر کے چشمے پھوٹتے ہیں جو عقل و خرد پر محیط وہم و گمان کے تسلط کے خاتمے کا اعلان ہے۔