یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے

کالم نگار  |  پروفیسر محمد مظفر مرزا

محمد مظفر مرزا
اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کی تخلیق کوئی آسان مرحلہ نہیں تھا میں سمجھتا ہوں کہ جتنی بھی اسلام مخالف قوتیں تھیں وہ بھی پسند نہیں کر رہی تھیں۔ کہ پاکستان معرض وجود میں آئے لہذا یہ سلسلہ ہائے دور دراز اپنی نفسیاتی قومی اور بین الاقوامی نفرتوں و کدورتوں کا اظہار کرتا ہے‘ پاکستان عزیز از جان جس قدر قربانیوں سے معرض وجود میں آیااسے برصغیر کی کسی تاریخ میں صحیح اندازوں کے مطابق اب تک بیان ہی نہیں کیا گیا گویا اسلامیانِ ہند کی جملہ لا متناہی شہادتیں آج تک ریکارڈ پر نہیں لائی جا سکیں جو انتہائی بدقسمتی کا شاخسانہ ہے۔ مسلمان حکمرانوں نے برصغیر پر ایک ہزار سال سے زیادہ حکمرانی کی اور اپنی اسلامی قواعد و ضوابط اور اسلامی روایات و نظریات کی روشنی میں حکمرانی کی آزادی و خود مختاری کے بعد ہندوستان جب آزاد ہوا تو ان کی حکومتوں نے ان شخصیات کی طرف توجہ مبذول کی کہ وہ لوگ جنہوں نے آل انڈیا نیشنل کانگرس اور ان کے حواری گروپس اور ان کے علاوہ ہندو مہاسبھا اور دیگر مسلم کش انتہا پسند ہندو جماعتیں یا عام پبلک کے لوگ جنہوں نے تحریک آزادی ہند میں بے شمار قربانیاں دیں اور کام کیا نہرو حکومت نے جسے یہ موقع میسر ہوا کہ سولہ سال بطور وزیراعظم کام کر سکیں انہوں نے نو‘ نو سو صفحات پر مشتمل انیس جلدوں میں کارکنان آل انڈیا نیشل کانگریس کے ناموں کو مرتب کر دیا اور ان کے لئے بے شمار سہولیات کا اہتمام بھی کر دیا سوائے میاں محمد نوازشریف‘ غلام حیدر وائیں(مرحوم) اور جناب مجید نظامی صاحب نے کارکنان تحریک پاکستان نے وہ کام کیا جو کوئی حکومت نہ کر سکی۔ ادھر ہمارا یہ حال کہ اختیار و اقتدار کی سرکس سے اور میوزک چیئر سے ہمارے حکمران اور سیاستدان پاکستان کو نہ نکال سکے لہذا زندگی کا ہر شعبہ تباہ و برباد ہو کر رہ گیا کیونکہ حضرت قائداعظمؒ اس طرح کا پاکستان نہیں چاہتے تھے وہ جس طرح کا پاکستان چاہتے تھے اس کا ذرہ برابر شائبہ تک بھی موجود پاکستان میں نظر نہیں آتا اسلامی ممالک کا جہاں تک تعلق ہے وہ تل ابیب کے باجگزار ہو گئے نیویارک واشنگٹن اور پینٹاگون کے مطیع ہو گئے اور آج پاکستان بھی اسی طرح سے سرفہرست ہے میں ایک کتاب جس کا نام Consequencies Pakistan ہے جسے کے۔ ایل گابا نے تحریر کیا اور اس کی کتاب کے ابتدائیہ الفاظ میں تحریر کیا گیا کہ پاکستان ہندوﺅں کی مسلمانوں کے خلاف نفرتوں کی وجہ سے تخلیق ہوا جس کے بارے میں یہ امید نہیں تھی کہ پاکستان قائم ہو گا۔ لیکن حضرت قائداعظمؒ کی استقامت اور اسلامیان ہند کی جراتوں کی بناءپر ایک زور دار آواز کے ساتھ وجود پذیر ہوا۔
”لیکن وہ پاکستان جسے فقط وسعت پذیر ہونا ہی نصیب میں نہیں وہ حصار اسلام کب بنے گا۔“ حضرت علامہ اقبالؒ کیا خوب فرماتے ہیں
اسلامیان پاکستان ہی کے لئے نہیں بلکہ عالم اسلام کو اپنی آنکھیں کھولنے کے لئے بھی کافی ہے۔
یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات