ہفتے میں دو چھٹیوں کا آئیڈیا خوب ہے لیکن....؟

کالم نگار  |  محمد مصدق

محمد مصدق
مہنگائی کی وجہ سے متوسط طبقے نے تو کفایت شعاری کا لفظ استعمال کرنا بھی بند کر دیا ہے بلکہ اب تو نوبت یہاں تک پہنچ گئی ہے کہ مالیاتی ادارے بھی اپنے اشتہارات میں لفظ کفایت شعاری استعمال کرتے ہوئے ہچکچاتے ہیں لیکن خوشی کی بات ہے کہ وفاقی حکومت نے کفایت شعاری کی باقاعدہ کمیٹی بنا رکھی ہے جس نے مارو گھٹنا پھوٹے آنکھ کے مصداق کچھ تجاویز پیش کی ہیں۔ جن کی منظوری کابینہ کمیٹی میں آسانی سے ہو جائے گی۔ سب سے اہم تجویز یہ پیش کی گئی ہے کہ ہفتے میں دو چھٹیاں کردی جائیں اس طرح سے حکومت کا خیال ہے کہ ان کی معقول بچت ہوگی۔ دو دن عوام اپنے مسائل میں گھرے رہیں گے اس وجہ سے اب حکومت پر تنقید 7 روز کے بجائے پانچ روز ہو گی۔
لاہور چیمبر آف کامرس کے صدر ظفر اقبال چودھری نے اس تجویز کی مخالفت کی ہے اور بہت سے ٹھوس دلائل دئے ہیں کہ دو چھٹیاں کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے پہلے ہی پیداواری اوقات کار بہت کم ہیں۔ بجلی کی لوڈ شیڈنگ اور گیس کی لوڈ مینجمنٹ کی وجہ پہلے ہی کارخانے استعداد کار سے کم کر رہے ہیں۔ ان حالات میں ہفتے میں دو چھٹیوں کا فیصلہ کسی لحاظ سے بھی قابل تعریف نہیں کہلا سکتا۔
لیکن راقم کی ذاتی رائے ہے کہ ہفتے میں دو چھٹیاں وقت کی ضرورت ہیں۔ دو چھٹیوں کا خیر مقدم ہونا چاہئے لیکن شرط صرف یہ ہے کہ حکومت باقی پانچ دنوں میں صنعت و تجارت کے تمام شعبوں کو باقاعدگی سے گیس اور بجلی فراہم کرے۔ ویسے عوام حیران ہیں کہ موسم کی تبدیلی سے لاکھوں اے سی بند ہونے سے بچنے والی بجلی کہاں چلی گئی ہے کیونکہ لوڈ شیڈنگ کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔ حکومتی اعداد و شمار پر سے عوام کا اعتماد اٹھ چکا ہے کیونکہ ایک گھنٹہ آگے کرنے کی سب سے بڑی دلیل یہی دی گئی تھی کہ اس سے توانائی کے سیکٹر میں معقول بچت ہوتی ہے اگر واقعی یہ سچ ہے تو وہ بچت کہاں گئی عوام کی جان لوڈ شیڈنگ کے عذاب سے کیوں نہیں چھوٹی؟
دو چھٹیوں پر مکمل چھٹی نہ کی جائے بلکہ ہفتہ اور اتوار کو شام کے وقت چار گھنٹے کے لئے تمام شاپنگ سنٹروں کو اجازت ہو کہ وہ اپنا کاروبار معمول کے مطابق کر سکتے ہیں اور تمام لائبریریوں اور کمیونٹی سینٹر بھی کھلے رہیں تاکہ عوام دونوں چھٹیوں میں اپنی فیملی لائف کو مضبوط کرنے کے لئے اکٹھے شاپنگ کر سکیں اور تفریح سے بھی لطف اندوز ہو سکیں۔