پولےس تو محفوظ ہوگئی

اسرار بخاری
پولےس سمےت رےاستی ادارے ہمےشہ عوام کی تقوےت، حوصلے اور اطمےنان کا باعث بلکہ ضمانت ہوا کرتے ہےں ان کی موجودگی اور صلاحےتِ عمل لوگوں کے لئے ڈھارس کا ذرےعہ بنتی ہے۔ ملک اس وقت جس سنگےن صورتحال سے دوچار ہے اس نے عوام الناس کے ذہنوں مےں بے ےقےنی کا زہرگھول دےا ہے اس کا ترےاق ےہ احساس ہی ہے کہ محافظ کے طور پر پولےس موجود ہے لےکن اگر پولےس خود عدم تحفظ کا شکار ہو جائے اور اپنی حفاظت کے لئے اےسے اقدامات کرنا شروع کر دے جو اس تاثر کو جنم دےنے کا باعث بن جائےں کہ دہشت گردوں نے ان محافظانِ عوام کو خوفزدہ کر دےا ہے اور عوام سے زےادہ پولےس پر ان کی دہشت چھا گئی ہے تو عوام کے لئے حوصلے اور دھاڑس کی صورت کےسے پےدا ہو گی۔ بلاشبہ مناواں، بےدےاں، ٹیمپل روڈ اور شاہراہ فاطمہ جناح پر پولےس کو ہی ٹارگٹ کےا گےا ہے اس لئے پولےس سے متعلق مراکز اور عمارتوں پر ضروری حفاظتی انتظامات کئے جا رہے ہےں تو ان کی ضرورت اور اہمےت سے انکار نہےں کےا جا سکتا لےکن اگر ان انتظامات کے نتےجے مےں عوام اےک جانب بے ےقےنی کا شکار ہو کر عدم تحفظ کے احساس مےں متبلا ہو جائےں۔ دوسری جانب ےہ انتظامات عوام کے لئے بے پناہ مشکلات پےدا کر دےں تو ان انتظامات کے خلاف عوام مےں منفی ردعمل بھی پےدا ہو سکتا ہے۔ لاہور کے سی سی پی او پروےز راٹھور جو بہت زےادہ فکرمند پولےس آفےسر نظر آتے ہےں انہوں نے حد کر دی کہ اپنے آفس کو محفوظ بنانے کے لئے سڑک پر دےوار بنانی شروع کر دی ہے اور اےک اےسی شاہراہ پر جہاں بےشتر اوقات دو روےہ ہونے کے باوجود ٹرےفک جام کا منظر ہوتا ہے اندازہ کےا جا سکتا ہے کہ جب نصف سے زےادہ سڑک پر سی سی پی او آفس کے لئے فصےل تعمےر ہو جائے گی تو ےہاں ٹرےفک کا کےا عالم ہو گا پولےس کے ان حفاظتی اقدامات کے نتےجے مےں گنگارام ہسپتال سے فےصل چوک تک کا طوےل فاصلہ عورتوں بچوں اور بوڑھوں کو پےدل طے کرنا پڑ رہا ہے اسی دوران ےہ لوگ پولےس کے بارے مےں جو کلمات ادا کر رہے ہوتے ہےں کہ سی آئی ڈی کے ذرےعے معلوم کئے جا سکتے ہےں۔ لاہور مےں جہاں جہاں بھی ےہ اقدامات کئے گئے ہےں کسی بھی لحاظ سے ےہ ثابت نہےں ہوتا کہ ےہ اقدامات عوام کی حفاظت کے لئے کئے گئے ہےں بلکہ ان سے عوام کو ےہ پےغام مل رہا ہے کہ عوام جائےں بھاڑ مےں ہماری اول و آخر ترجیح خود اپنی حفاظت ہے سو وہ ہم کر رہے ہےں۔ آئی جی آفس کے سامنے والی روڈ بند کر دی گئی‘ سی سی پی و آفس کے سامنے والی روڈ بند کر دی گئی اور نصف سڑک پر فصیل کی تعمےر اس پر مستزاد سی آئی اے سےنٹر کے سامنے نصف اےبٹ روڈ بند کر دی گئی ہے صرف ان تےن مثالوں سے ہی پولےس کا کوئی بہت ذہےن ترےن آفےسر ےہ سمجھا دے کہ اس مےں عوام کی حفاظت کے پہلو کون سے ہےں۔ لاہور کے لوگوں کو ان اقدامات کے ذرےعے پولےس کی جانب سے ملنے والا ےہ پےغام سمجھ لےنا چاہےے پولےس ان کی حفاظت کرے ےا اپنی حفاظت کو ےقےنی بنائے۔ لہٰذا اب لاہور کے لوگوں کو اپنی حفاظت خود کرنی ہوگی اس کے لئے ہر گلی محلے مےں نوجوانوں پر مشتمل کمےٹےاں بنائی جائےں اور ہر گلی کوچے مےں مشکوک افراد پر نظر رکھی جائے۔ آخر مےں وزےر اعلیٰ پنجاب سے درخواست ہے کہ بہت زےادہ فکرمند سی سی پی او پروےز راٹھور کا پنجاب کے کسی محفوظ ضلع مےں فی الحال ٹرانسفر کر دےا جائے کےونکہ جہاں اپنی زندگی کے لئے فکرمندی فطری امر ہے وہاں جان بچانا فرض بھی ہے اور جب ےہ ٹھہر گےا کہ لاہور کے لوگوں نے اپنی حفاظت خود کرنی ہے تو پولےس افسروں اور اہلکاروں کا تحفظ ےقےنی بنانے کے لئے وسےع و عرےض لاہور قلعہ کو بھی استعمال مےں لاےا جا سکتا ہے۔