میں نے بھارت میں کیا دیکھا

کالم نگار  |  ادیب جاودانی

ادیب جاودانی
یہ سن کر میں بہت حیران ہوا کہ ان کی اتنی کم تنخواہ ہے اور وہ دہلی کی وزیراعلیٰ ہیں جبکہ ہمارے ہاں وزراءکی تنخواہیں‘ مراعات اور دیگر فنڈز تو بہت زیادہ ہیں اور وہ لاکھوں میں ہوتے ہیں۔
نئی دہلی کے دورہ کے موقع پر وہاں کے منسٹر آف ٹرانسپورٹ اینڈ ایجوکیشن ارویندر سنگھ سے بھی میری ملاقات ہوئی انہوں نے بتایا کہ بھارت میں خواندگی کی شرح 86% ہے اور پرائیویٹ سکولوں پر کسی قسم کا کوئی ٹیکس نہیں ہے لیکن ان کےلئے لازمی ہے کہ اگر وہ 100 بچوں کو داخل کرتے ہیں تو ان میں سے 20 بچوںکو مفت تعلیم دیں۔ ہمارے گورنمنٹ سکولوں کی حالت بہت بہتر ہے بلکہ گورنمنٹ سکولوں کا رزلٹ پرائیویٹ سکولوں سے بہت بہتر ہے۔ سال مےں 210 دن کسی پرائیویٹ سکول کےلئے سکول کھلا رکھنا اور بچوں کو پڑھانا ضروری ہے۔ چھٹیوں کے دوران اگر کوئی ایک ماہ کےلئے سکول کھول لیتا ہے تو حکومت ان سکولوں کو بند کرنے کےلئے نہ چھاپے مارتی ہے اور نہ ہی ان سکولوں کی رجسٹریشن کینسل کرتی ہے۔ بھارت میں محکمہ تعلیم پانچویں اور آٹھویں کا امتحان نہیں لیتا آئندہ سال سے تعلیمی بورڈ میٹرک کا امتحان نہیں لے گا یہ امتحان سکول ہی لیں گے۔ بھارت اور پاکستان کے طلباءکے وفود کا آپس میں تبادلہ ہونا چاہئے‘ اس سے یقیناً پاک بھارت تعلقات میں بہتری پیدا ہوگی اور دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان محبت اور خلوص بڑھے گا۔ بعدازاں ارویندر سنگھ نے مجھے ایک تقریب میں پاکستان کے بہترین صحافی اور ماہر تعلیم کا ایوارڈ بھی دیا۔
بھارت میں عوامی جگہوں پر سگریٹ نوشی منع ہے لیکن میں نے کئی ہوٹلوں کے باہر نوجوان لڑکیوں کو جینز کی پینٹیں پہنے ہوئے سگریٹ نوشی کرتے دیکھا۔ اس پر میں نے وہاں ڈیوٹی پر کھڑے ایک سکھ پولیس کانسٹیبل سے کہا کہ آپ ان لڑکیوں کے خلاف سرعام سگریٹ نوشی کرنے پر کوئی کارروائی کیوں نہیں کرتے تو انہوں نے کہا کہ باﺅ جی یہ لڑکیاں سگریٹ تو کیا اور بھی بہت کچھ پیتی ہیں۔ ان کا تعلق کوئی غریب گھرانوں سے نہیں ہے۔ یہ بڑے بڑے لوگوں کی بیٹیاں ہیں ہم اگر ان کے خلاف کوئی کارروائی کریں گے تو یہ ہم کو فوری طور پر گھر بھجوا دیں گی۔ میری وہاں کے کئی وکلاءسے بھی بات ہوئی انہوں نے بتایا کہ یہاں کی جوڈیشری میں بھی بہت کرپشن ہے یہاں کے لوگ وکیل کی بجائے جج سے ہی بات کر لیتے ہیں اور اسی کی خدمات حاصل کر لیتے ہیں۔ یہاں کے ججوں کی تنخواہیں بھی بہت کم ہیں پاکستان کی طرح ان ججوں کی تنخواہوں میں بھی اضافہ ہونا چاہئے تاکہ کرپشن کا خاتمہ ہو، بھارتی عوام نے مجھے بتایا کہ بھارت میں کچھ عرصہ سے مہنگائی بہت زیادہ ہو چکی ہے اس کی بڑی وجہ ذخیرہ اندوزی ہے اور حکومت ذخیرہ خوروں کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کر رہی۔ واپسی پر میں نے واہگہ بارڈر پر سینکڑوں ٹرک پاکستان کی طرف آتے دکھے وہاں پر موجود بھارتیوں نے مجھے بتایا کہ یہ روزانہ تقریباً ڈیڑھ دو سو ٹرک فروٹ اور سبزیاں لے کر آتے ہیں اور یہ سب کچھ پاکستان کی سرحد پر چھوڑ کر واپس چلے جاتے ہیں جبکہ پاکستان سے روزانہ دس پندرہ ٹرک خشک فروٹ لے کر آتے ہیں۔ 15 اکتوبر کو لاہور میں ہونے والی دہشت گردی کی وارداتوں کی خبر دہلی سے لاہور آنے والی بس کے دوران ہی مسافروں کو مل گئی تھی اس پر سارے مسافر بڑے پریشان تھے بھارتی مسافروں کو خدشہ تھا کہ کہیں ہماری بس کو بھی دہشت گرد نشانہ نہ بنا دیں لیکن بس میں موجود بھارتی پولیس نے مسافروں کو یقین دلایا ایسا نہیں ہوگا کیونکہ حکومت پاکستان نے مسافروں کو پوری سکیورٹی فراہم کر رکھی ہے۔ واہگہ بارڈر پر بھارتی بس کو روک کر مسافروں کو پاکستانی بس میں سوار کروا دیا گیا پتہ چلا ہے کہ روزانہ ہی ایسا ہوتا ہے دہشت گردی کے خطرے کے باعث بھارتی بس اور ان کے عملے کو واہگہ وارڈر پر ہی روک لیا جاتا ہے لیکن لاہور سے جانے والی پاکستانی بس ڈائریکٹ دہلی پہنچتی ہے بھارتی پولیس کی گاڑیاں ان کے آگے پیچھے ہوتی ہیں اور مسافروں کو پوری طرح سکیورٹی فراہم کی جاتی ہے لاہور سے دہلی اور امرتسر جانے والی بسوں پر پاکستانی جھنڈے کی ایک بہت بڑی تصویر چسپاں ہے جسے بھارتی مسلمان دیکھ کر بڑے خوش ہوتے ہیں۔ (ختم شد)