مسلمانوں کی طاقت کا مظاہرہ

نصرت مرزا
ہندوستان میں مسلمانوں کی حالت کوئی زیادہ اچھی نہیں ہے ان کو وہاں ”غیر ملکی سمجھا جاتا ہے، ان کے ساتھ خراب حکومتی سلوک پر سچر کمیٹی کی رپورٹ جیتا جاگتا ثبوت ہے جو اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ مسلمانوں کے ساتھ خصوصی برتاو¿ کیا جائے ان کے لئے ملازمتوں اور سکولوں، کالجوں اور یونیورسٹیوں میں خصوصی کوٹہ مقرر کیا جائے اس لئے کہ سچر کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق مسلمان پسماندہ طبقے سے بھی پیچھے رہ گیا ہے، مسلمان اپنی سی بہت سی کوششیں کرتے ہیں اور علاقائی اور قومی پارٹیوں میں بھی کچھ نہ کچھ حصہ لے رہے ہیں جیسے لوک سبھا یعنی عوامی اسمبلی (قومی اسمبلی) میں ان کو 544 میں سے صرف 27 نشستیں ملی ہیں اسی طرح سے راجیہ سبھا یعنی سینٹ میں بھی ان کے ساتھ اتنی ہی سیٹیں ہیں مگر سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ پارٹی کے قوانین کی پابند ہیں۔ اس لئے مسلمانوں کی کوئی مشترکہ و متحدہ آواز نہیں اٹھتی۔ جو لوگ منتخب ہو کر آتے ہیں وہ بھی اپنی پارٹی کے ساتھیوں، عہدیداران سے خوفزدہ رہتے ہیں کہ کہیں وہ نکالے نہ جائیں اس لئے وہ مسلمانوں کے حقوق پر جم کر بات نہیں کرتے اور پھر آبادی کے لحاظ سے ان کی نمائندگی بھی ناکافی ہے سرکاری طور پر 14 کروڑ اور ویسے مسلمانوں کا دعویٰ ہے کہ وہ 20 کروڑ کے لگ بھگ ہیں اس کے باوجود وہ بھی صرف 27 نشستیں جیت سکے ان پارٹیوں پر ہی کیا موقوف چھوٹی چھوٹی پارٹیاں معرض وجود میں آ گئی ہیں جو ایک دوسرے سے لڑتی رہتی ہیں یا کوئی نہ کوئی طاقت ان کی طاقت کو بانٹنے کے لئے لڑاتی رہتی ہے۔ مگر سچر کمیٹی کی رپورٹ کے بعد ہندوستان میں قدرے احساس پیدا ہوا ہے کہ مسلمانوں کے لئے کچھ کرنا چاہئے یہ باتیں ہو رہی ہیں ۔ تاہم ابھی جہاں تھے وہاں ہی کھڑے ہیں پاکستان پہلے ان کی حمایت میں کچھ بول بال لیتا تھا اب اس کی مشکلات خود اتنی بڑھی ہوئی ہیں کہ وہ اپنے اندر دیکھنے کے علاوہ کچھ اور نہیں کر سکتا۔
تاہم دو اور تین نومبر 2009ءکو دیوبند کے مشہور مدرسے میں جناب محمود مدنی کی رہنمائی میں مسلمانوں کا ایک زبردست اجتماع ہوا جو تین چار لاکھ افراد پر مشتمل تھا۔ سینیٹر محمد ادیب کا کہنا تھا کہ 25 ایکڑ پر مشتمل رقبہ میں سر ہی سر نظر آ رہے تھے اور ہندوستان کے وزیر داخلہ نے وہاں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اتنا بڑا مجمع اپنی زندگی میں نہیں دیکھا۔ یہ اجتماع اس صورت کے حال کے باوجود جمع ہوا جبکہ دیو بند، محترم ارشد مدنی جو محمود مدنی کے چچا ہیں کے درمیان بٹا ہوا ہے، علماءکے حلقوں میں ارشد مدنی بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں ان کی علمیت اور ان کے تقویٰ پر کوئی انگلی اٹھا نہیں سکتا۔ راقم کو جناب ارشد مدنی سے ملاقات کا شرف حاصل ہوا مگر راقم کو محمود مدنی سے ملنے کا اتفاق نہیں ہو سکا کیونکہ اس جلسے میں جانے کی اجازت نہیں تھی کہ ہمارے پاس دیوبند جانے کا ویزا نہیں تھا تاہم لوگوں سے پتہ چلا کہ محمود مدنی ممبر پارلیمنٹ بھی ہیں تو بہت سیاسی بھی، ان کی سیاست دان ہونے کا مظہر خود یہ جلسہ تھا جس نے ہر کس و ناکس کو متاثر کیا۔ وزیر داخلہ چدم برم کو مجمع کا جوش وخروش اور لوگوں کی تعداد دیکھ کر ایک جذباتی تقریر کرنا پڑی۔ اس کانفرنس میں کل 35 قراردادیں پاس ہوئیں جن میں سے ایک قرارداد کے ذریعے دیو بند کے علماو¿ں نے وندے ماترم ترانے کے کچھ حصہ کو غیر اسلامی قرار دے کر پڑھنے سے منع کر دیا اس پر بھارتیہ جنتا پارٹی کو بہت اعتراض ہوا۔ انہوں نے اس کی سخت مذمت کی اور چدم برم کو تنقید کا نشانہ بنایا کہ اس قرارداد کے پاس ہونے کے بعد انہوں نے اس کانفرنس میں کیوں تقریر کی اور تقریر کی بھی تو اس پر اپنا اعتراض نوٹ کرانا چاہئے تھا۔ اس کانفرنس میں ایک ہندو پنڈت یوگا گرو رام دیو کو بھی مدعو کیا تھا جنہوں نے ہندومت کے اندر امن کے حوالے جو ذکر موجود ہے اس پر روشنی ڈالی۔ عمومی طور پر ہندوستان کے مسلمانوں کا پریس کانفرنس کا خوشگوار تاثرہوا اور مسلمانوں کی طاقت کا ایک مظاہرہ بھی ہوا۔ ہم سوچ رہے ہیں کہ مسلمانوں کو قدر کرنے کے لئے کم از کم محمود مدنی کو ہندوستان کا وزیر ضرور بنا دینا چاہئے تاکہ وہ مسلمانوں کے غموں، دکھوں اور محرومیوں کا کچھ ازالہ کر سکیں۔